Image

شاعر احمد فراز ۔غمِ حیات

Advertisements
خاموشی رات کی دیکتھا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں

خاموشی رات کی دیکتھا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں

Poet: Wasi Shah
By: UrduLover

خاموشی رات کی دیکتھا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں
مد ہوش اکثر ہوجاتا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں

ہوش والوں میں جاتا ہوں تو الجھتی ہے طبعیت
سو با ہوش پڑا رہتا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں

تو من میں میرے آ جا میں تجھ میں سما جاؤں
ادھورے خواب سمجھتا ہوں اورتجھے سوچتا ہوں

جمانے لگتی ہیں جب لہو میرا فر خت کی ہوائیں
تو شال قر بت کی اوڑھتا اور تجھے سوچتا ہو

جشنِ عید میلا النبیﷺ

جشنِ عید میلا النبیﷺ

http://www.itqalam.com/search.php?searchid=475588

https://imgur.com/9N3JSyg

اجنبی ستمگر

اجنبی ستمگر

اجنبی ستمگر
تجھ بن نہیں کٹتی مری یہ رات ستمگر
بس میں نہیں اب دل کے یہ حالات ستمگر

وہ ملتا ہے اب اجنبی بن کے کیوں مجھ سے
کیوں اپنا رہا ہے وہ یہ عادات ستمگر

Majhooda Halaat

Majhooda Halaat

فونٹ ایفیکٹ کیسے دیتے ہیں ایک عدد ٹٹوریئل آئی ٹی قلم پر دیکھئے
http://www.itqalam.com/showthread.php?t=125294

اردو شاعری میں پھول کا تصور

اردو شاعری میں پھول کا تصور

https://orig00.deviantart.net/…/1049_by_urdulover-dcpvuy3.g…

اردو شاعری میں پھول کا تصور

شہنشاہ غزل میر تقی میرؔ نے اپنے معشوق کی بے اعتنائی کا گلہ کرتے ہوئے کہا تھا ۔
پتاّ پتّا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
میرؔ نے اس ایک شعر میں اپنی ساری قلبی کیفیت کو بیان کرڈالا اور دو مصرعوں میں انہوں نے ایسا درد بیان کیا جو کئی صفحات پر بھی شاید بیاں نہ کیا جاسکے ۔ میرؔ نے دنیا کو باغ اور یہاں بسنے والوں کو پتا اور بوٹا کہا ہے جب کہ اپنے محبوب کو گل سے تعبیر کیا ہے اور شکایت کی ہے کہ سب میرے احوال سے واقف ہیں بجز میرے محبوب کے ۔ اردو کے ممتاز شاعر اسداللہ خان غالبؔ نے اپنے محبوب کے دیدار کو گلوں کی رعنائی سے تعبیر کیا ہے ۔ کہتے ہیں۔

بخشے ہے جلوۂ گل ذوق تماشہ غالبؔ
چشم کو چاہئے ہر رنگ میں وا ہوجانا
غالبؔ کہتے ہیں کہ محبوب کے حسن میں وہ دلکشی ہے کہ نظر میں کچھ اور سماتا ہی نہیں دل چاہتا ہے کہ بس دیکھتے جائیں اور اپنی آنکھوں کو راحت کا سامان پہنچائیں ۔ اس شعر میں غالبؔ نے یہ بھی کہا ہے کہ آنکھیں وہی دیکھتی ہیں جو انسان اسے دکھانا چاہتا ہے ۔جوشؔ ملیح آبادی کی رباعی اردو دنیا میں کافی مقبول ہے کہتے ہیں ۔
غنچہ ، تری زندگی پہ دل ہلتا ہے
بس اک تبسم کے لئے کھلتا ہے
غنچہ نے کہا کہ اس چمن میں بابا
یہ ایک تبسم بھی کسے ملتا ہے
اس رباعی میں جوشؔ نے زندگی کے ہر پل کو بھرپور جینے کی تلقین کی ہے کیونکہ حیات خواہ کتنی ہی مختصر کیوں نہ ہو کلی سے مختصر نہیں ہوسکتی اور زندگی خدائے برتر کی ایک عظیم نعمت ہے اور یہ زندگی انسان کے روپ میں ہمیں ملی ہے تو ہمیں چاہئے کہ اس کو غنیمت جان کر اوروں کے کام آئیں اور اپنی زندگی مثالی بنائیں ۔
استاد شاعر ابراہیم ذوقؔ کا ایک بہت مشہور شعر ہے۔
پھول تو دو دن بہار جاں فزا دکھلا گئے
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھاگئے
یہ شعر ضرب المثل کی حیثیت بھی رکھتا ہے جب کسی کا عالم شباب میں انتقال ہوجائے تو یہ شعر پڑھا جاتا ہے کہ عمر طبعی کے بعد مرنا تو ٹھیک ہے اور قابل برداشت بھی ، لیکن نوجوانی یا لڑکپن میں داعی اجل کو لبیک کہنا یہ بالکل بھی قابل برداشت نہیں۔داغ دہلوی نے اپنے ایک شعر میں پھول کا دو مرتبہ استعمال کیا ہے کہتے ہیں۔

کیا گل کھلائے ہیں تری تیغ نگاہ نے
زخم جگر بہار دکھاتے ہیں بن کے پھول
مندرجہ بالا شعر پڑھتے ہوئے داغ کی عظمت کا دل قائل ہوجاتا ہے ، وہ نہ صرف عام بول چال کے الفاظ کو اپنے اشعار میں پرونے کا فن جانتے تھے بلکہ محاورے ، استعارے اور تشبیہات کو بھی خوبصورتی سے اپنے مصرعوں میں شامل کرتے ، جیسے گل کھلانا ایک محاورہ ہے اور داغؔ نے کس عمدگی کے ساتھ اس کا استعمال کیا ہے ، کہتے ہیں کہ تیری نگاہوں کے خنجر نے ایسا گھائل کیا ہے کہ مزہ آگیا جو زخم تو نے دئے ہیں وہ پھول بن کے میری زندگی کو معطر کررہے ہیں ۔ کیونکہ محبوب کا غم بھی بہت عزیز ہوتا ہے ۔
فیض احمد فیض نے بھی گل اور گلشن کو ایک ہی شعر میں بڑے ہی منفرد اسلوب میں پیش کیا ہے ، کہتے ہیں۔
گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
فیضؔ نے یہ شعر کس تناظر میں اور کس کے لئے کہا تھا یہ الگ بات ہے ، لیکن اکثر یہ شعر کسی محفل کے آغاز پر پڑھا جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے آجانے سے محفل کا رنگ دوبالا ہوجائے گا ، فضائیں مہک اٹھیں گی ہر طرف نور کی بارش ہوگی شرط یہ ہے کہ تم آجاؤ ۔
مجاہد آزادی اور اردو کے ممتاز شاعر حسرتؔ موہانی نے موسم بہار کو بھی خزاں سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے۔

فصل گل دھوم سے آئی ہے پر اے رشک بہار
اک ترے پاس نہ ہونے سے خزاں ٹھہری ہے
حسرتؔ کہتے ہیں کہ بہار آئی ہے ہر طرف ہریالی ہے ، چڑیاں چہچہارہی ہیں ، ہر سمت پھول کھلے ہیں اور منظر آنکھوں کو خیرہ کررہا ہے لیکن ان سب کے باوجود اگر تو میرے ساتھ نہیں ہے تو یہ سب بے معنی ہے اس کا کوئی حاصل نہیں ۔جگر مرادآبادی نے اپنی نظم اعلان جمہوریت کے ایک شعر میں پھول اور کلی کا استعمال بڑے ہی عمدہ طریقہ سے کیا ہے ۔
کھلے جو پھول تو دے جسم ناز کی خوشبو
کلی اگر کوئی چٹکے صدائے یار آئے
جگرؔ کہتے ہیں کہ پھول جب کھلتے ہیں

تو میرے محبوب کے جسم کی خوشبو کا مجھے احساس ہوتا ہے اور اگر گلی چٹکے تو یوں لگتا ہے کہ میرے یار نے مجھے آواز دی ۔ اسی قبیل کا ایک اور شعر کچھ یوں ہے ۔
بس گئی ہے مرے احساس میں یہ کیسی مہک
کوئی خوشبو میں لگاؤں تیری خوشبو آئے
اردو کے ایک اور ممتاز شاعر احمد فرازؔ نے اپنی شاعری میں پھول کا کچھ یوں استعمال کیا ہے ۔
تری قربت کے لمحے پھول جیسے
مگر پھولوں کی عمریں مختصر ہیں
شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ تیرے ساتھ گزرا ہر لمحہ کسی پھول سے کم نہیں کیوں کہ پھول نہ صرف سانسوں کو مہکاتا ہے بلکہ نگاہوں کو بھی آسودگی فراہم کرتاہے اور جو لمحات تیرے ساتھ گزرے ہیں گویا وہ پھولوں کا ساتھ ہے تاہم وہ ناقابل فراموش نہیں ، کیونکہ پھول میں لاکھ خوبیاں سہی مگر اس کی عمر بہت کم ہوتی ہے ۔
پاکستان کی معروف شاعرہ پروین شاکر کہتی ہیں ۔

وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
اس شعر میں پروین شاکر نے اپنے محبوب کو خوشبو قرار دیا ہے جسے قید نہیں کیا جاسکتا ، وہ ہواؤں میں تحلیل ہو کر ماحول کو معطر کردیتاہے ، اور خود کو پھول کہا ہے جس سے اس کی خوشبو چھین لی گئی ہے اور وہ اب صرف زیب نگاہ ہے ۔ہمارے شہر کے معروف شاعر شاذ تمکنت نے گل گلشن اور کانٹوں کو ایک ہی شعر میں بہت ہی دل پذیر انداز میں پرویا ہے ۔ کہتے ہیں ۔
گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز
کانٹوں سے بھی نباہ کئے جارہا ہوں میں
شاذؔ کہتے ہیں کہ مالی کو اپنے باغ کی آبیاری سے دلچسپی ہوتی ہے ان میں خواہ گل کے ساتھ کانٹے بھی کیوں نہ ہوں ۔ مخدوم محی الدین کے اس شعر پر اپنی گفتگو تمام کرنا چاہوں گا ۔
پھول کھلتے رہیں گے دنیا میں
روز نکلے گی بات پھولوں کی

حکم تیرا ہے تو تعمیل کیے دیتے ہیں

حکم تیرا ہے تو تعمیل کیے دیتے ہیں

حکم تیرا ہے تو تعمیل کیے دیتے ہیں
زندگی ہجر میں تحلیل کیے دیتے ہیں

تو میری وصل کی خواہش پہ بگڑتا کیوں ہے
راستہ ہی ہے چلو تبدیل کیے دیتے ہیں

آج سب اشکوں کو آنکھوں کے کنارے پہ بلاؤ
آج اس ہجر کی تکمیل کیے دیتے ہیں

ہم جو ہنستے ہوئے اچھے نہیں لگتے تم کو
تو حکم کر آنکھ ابھی جھیل کیے دیتے ہیں

فاخرہ بتول۔ یہ چاند یہ سورج یہ ستارہ تری آنکھیں

فاخرہ بتول۔ یہ چاند یہ سورج یہ ستارہ تری آنکھیں

فاخرہ بتول
یہ چاند یہ سورج یہ ستارہ تری آنکھیں
ساگر کی یہ موجیں یہ کنارہ تری آنکھیں
پوچھا گیا خوابوں کا خلاصہ بھی کوئی ہے
بے ساختہ ہر شخص پکارا تری آنکھیں

اسے کہنا بچھڑنے سے محبت تو نہیں مرتی

اسے کہنا بچھڑنے سے محبت تو نہیں مرتی

اسے کہنا بچھڑنے سے محبت تو نہیں مرتی
اسے کہنا بچھڑنے سے محبت تو نہیں مرتی . .
بچھڑ جانا محبت کی صداقت کی علامت ہے . .
محبت ایک فطرت ہے ، ہاں فطرت کب بدلتی ہے . .
سو ، جب ہم دور ہو جائیں ، نئے رشتوں میں کھو جائیں . .
تو یہ مت سوچ لینا تم ، کہہ محبت مر گئی ہو گی . .
نہیں ایسی نہیں ہوگا . .
میرے بارے میں گر تمہاری آنکھیں بھر آئیں . .
چھلک کر ایک بھی آنسو پلک پہ جو اُتَر آئے . .
تو بس اتنا سمجھ لینا ،
جو میرے نام سے اتنی تیرے دل کو عقیدت ہے . .
تیرے دل میں بچھڑ کر بھی ابھی میری محبت ہے . .
محبت تو بچھڑ کر بھی سدا آباد رہتی ہے . .
محبت ہو کسی سے تو ہمیشہ یاد رہتی ہے . .