Kieynat Main koi …….

Kieynat Main koi …….


▓█▓█▓█▓ أسـتـغـفـر الله أسـتـغـفـر الله أسـتـغـفـر الله ▓
█▓█▓█▓ أسـتـغـفـر الله أسـتـغـفـر الله أسـتـغـفـر الله ▓█
▓█▓█▓ أسـتـغـفـر الله أسـتـغـفـر الله أسـتـغـفـر الله ▓█▓
█▓█▓ أسـتـغـفـر الله أسـتـغـفـر الله أسـتـغـفـر الله ▓█▓█
▓█▓ أسـتـغـفـر الله أسـتـغـفـر الله أسـتـغـفـر الله ▓█▓█▓
█▓ أسـتـغـفـر الله أسـتـغـفـر الله أسـتـغـفـر الله ▓█▓█▓█
▓ أسـتـغـفـر الله أسـتـغـفـر الله أسـتـغـفـر الله ▓█▓█▓█▓

Advertisements
از اشفاق احمد زاویہ ١ بابا رتن ہندی کا سفر محبّت

از اشفاق احمد زاویہ ١ بابا رتن ہندی کا سفر محبّت


ہمارے یہاں قریب ہی بھارت میں ایک جگہ ہے جسے

بٹھندہ کہتے ہیں – صدیوں پہلے اس شہر میں ریت کے میداں میں شام کو نوجوان اکٹھے ہوتے تھے ، اور اپنے اس زمانے کی ( بہت عرصہ بہت صدیاں پہلے کی بات کر رہا ہوں ) کھیلیں کھیلتے تھے – ایک دفعہ کہانیاں کہتے کہتے کسی ایک نوجوان لڑکے نے اپنے ساتھیوں سے یہ ذکر کیا کہ اس دھرتی پر ایک “اوتار” آیا ہے – لیکن ہمیں پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے – اس کے ایک ساتھی ” رتن ناتھ ” نے کہا : ” تجھے جگہ کا پتا نہیں ہے ” اس نے کہا مجھے معلوم نہیں لیکن یہ بات دنیا والے جان گئے ہیں کہ ایک ” اوتار ” اس دھرتے پے تشریف لایا ہے ۔
اب رتن ناتھ کے دل میں ” کھد بد ” شروع ہو گئی کہ وہ کونسا علاقہ ہے اور کدھر یہ “اوتار ” آیا ہے اور میری زندگی میں یہ کتنی خوش قسمتی کی بات ہوگی اور میں کتنا خوش قسمت ہونگا اگر ” اوتار ” دنیا میں موجود ہے اور میں اس سے ملوں اور اگر ملا نہ جائے تو یہ بہت کمزوری اور نا مرادی کی بات ہوگی – چنانچہ اس نے ارد گرد سے پتا کیا ، کچھ بڑے بزرگوں نے بتایا کہ وہ عرب میں آیا ہے اور عرب یہاں سے بہت دور ہے وہ رات کو لیٹ کر سوچنے لگا بندہ کیا عرب نہیں جاسکتا – اب وہاں جانے کےذرائع تواس کے پاس تھے نہیں لیکن اس کا تہیہ پکا اور پختہ ہو گیا – اس نے بات نہ کی اور نہ کوئی اعلان ہی کیا – کوئی کتاب رسالہ نہیں پڑھا بلکہ اپنے دل کے اندر اس دیوتا کا روپ اتار لیا کہ میں نے اس کی خدمت میں ضرور حاضر ہونا ہے اور میں نے یہ خوش قسمت آدمی بننا ہے۔
وہ چلتا گیا چلتا گیا ، راستہ پوچھتا گیا اور لوگ اسے بتاتے گئے – کچھ لوگوں نے اسے مہمان بھی رکھا ہوگا لیکن ہمارے پاس اس کی ہسٹری موجود نہیں ہے – وہ چلتا چلتا مہینوں کی منزلیں ہفتوں میں طے کرتا مکہ شریف پہنچ گیا -غالباً ایران کے راستے سے اور اب وہ وہاں تڑپتا پھرتا ہے کہ میں نے سنا ہے کہ ایک ” اوتار ” آیا ہے – اب کچھ لوگ اس کی بات کو لفظی طور پر تو نہیں سمجھتے ہونگے لیکن اس کی تڑپ سے اندازہ ضرور لگایا ہوگا کسی نے اسے بتایا ہوگا کہ وہ اب یہاں نہیں ہے بلکہ یہاں سے آگے تشریف لے جا چکے ہیں اور اس شہر کا نام مدینہ ہے – اس نے کہا میں نے اتنے ہزاروں میل کا سفر کیا ہے یہ مدینہ کونسا دور ہے ، میں یہ ٦٠٠ سو کلو میٹر بھی کر لونگا – ووہ پھر چل پڑا اور آخر کار “مدینہ منورہ ” پہنچ گیا –
بہت کم لوگ اس بات کو جانتے ہیں ، اور کہیں بھی اس کا ذکر اس تفصیل کیساتھ نہیں آتا جس طرح میں عرض کر رہا ہوں – شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رح نے اپنی کتاب میں ایک جملہ لکھا ہے کہ ” بابا رتن ہندی ” حضور نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا ، پھر معلوم نہیں کہ اس کا کیا ہوا ” لیکن غالب گمان ہے اور عقل کہتی ہے اور ہم اندازے سے یقین کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں کہ وہ مدینہ شریف میں حضور نبی کریم کی خدمت میں رہا اور حضور کے پسندیدہ لوگوں میں سے تھا – اب وہ کس زبان میں ان سے بات کرتے ہونگے کیسے رابطے کرتے ہونگے اور رتن کس طرح سے مدینہ شریف میں زندگی بسر کرتا ہوگا ؟ کہاں رہتا ہوگا اس کا ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے لیکن وہ رہتا وہیں تھا اور وہ کب تک وہاں رہا اس کے بارے میں بھی لوگ نہیں جانتے – اس کی طلب تھی اور اس کی خوش قسمتی تھی اور خوش قسمتی ہمیشہ طلب کے واسطے سے پیدا ہوتی ہے – اگر آپ کی طلب نہ ہو تو خوش قسمتی خود گھر نہیں آتی –
وہ اتنے معزز میزبان کا مہمان ٹھہرا اور وہاں رہا – آپ کو یاد ہوگا جب رسول پاک نبی اکرم مدینہ شریف تشریف لے گئے تو وہاں کی لڑکیوں نے اونچے ٹیلے پر کھڑے ہو کر دف پر گانا شروع کر دیا کہ ” چاند کدھر سے چڑھا ” وہ خوش قسمت لوگ تھے – ایک فکشن رائٹر کے حوالے سے میں یہ سوچتا ہوں کہ اس وقت کوئی ایسا محکمہ پبلک سروس کمیشن کا تو نہیں ہوگا ، اس وقت کوئی پبلک ریلیشن یا فوک لور کا ادارہ بھی نہیں ہوگا کہ لڑکیوں سے کہا جائے کہ تم ٹیلے پر چڑھ کے گانا گاؤ – وہ کونسی خوش نصیب لڑکی ہوگی جس نے اپنے گھر والوں سے یہ ذکر سنا ہوگا ، رات کو برتن مانجھتے یا لکڑیاں بجھاتے ہوئے کہ رسول الله تشریف لا رہے ہیں اور اندازہ ہے کہ عنقریب پہنچ جائیں گے اور پھر اس نے اپنی سہیلیوں سے بات کی ہوگی اور انھوں نے فیصلہ کیا ہوگا کہ جب وہ آئیں گے تو ہم ساری کھڑی ہو کر دف بجائیں گی اور گیت گائیں گی – اب جب حضور کے آنے کا وقت قریب آیا ہوگا تو کسی نے ایک دوسری کو بتایا ہوگا کہ بھاگو ، چلو ، محکمہ تو ہے کوئی نہیں کہ اطلاع مل گئے ہوگی ، یہ طلب کونسی ہوتی ہے ، وہ خوش نصیب لڑکیاں جہاں بھی ہونگی ، وہ کیسے کیسے درجات لے کر بیٹھی ہونگی – انھوں نے خوشی سے دف بجا کر جو گیت گایا اس کے الفاظ ایسے ہیں کہ دل میں اترتے جاتے ہیں – انھیں آنحضور کو دیکھ کر روشنی محسوس ہو رہی ہے ،پھر وہ کونسی جگہ تھی جسے بابا رتن ہندی نے قبول کیا اور سارے دوستوں کو چھوڑ کر اس عرب کے ریتیلے میدان میں وہ اپنی لاٹھی لے کر چل پڑا کہ میں تو ” اوتار” سے ملونگا –
بہت سے اور لوگوں نے بھی رتن ہندی پر ریسرچ کی ہے – ایک جرمن اسکالر بھی ان میں شامل ہیں –
جب یہ سب کچھ میں دیکھ چکا اور پڑھ چکا تو پھر میرے دل میں خیال آیا بعض اوقات ایسی حکایتیں بھی بن جاتی ہیں لیکن دل نہیں مانتا تھا – یہ پتا چلتا تھا جرمن ریسرچ سے کہ وہ حضور کے ارشاد پر اور ان کی اجازت لے کر واپس ہندوستان آ گئے-
ہندوستان آئے تو ظاہر ہے وہ اپنے گاؤں ہی گئے ہونگے اور بٹھندا میں ہی انھوں نے قیام کیا ہوگا ،میری سوچ بھی چھوٹی ہے ،درجہ بھی چھوٹا ہے، لیول بھی چھوٹا ہے پھر بھی میں نے کہا الله تو میری مدد کر کہ مجھے اس بارے میں کچھ پتا چل جائے اب تو پاکستان بن چکا ہے میں بٹھندا جا بھی نہیں سکتا اور پوچھوں بھی کس سے ١٤٠٠ برس پہلے کا واقعہ ہے –
کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر مسعود سے میری دوستی ھوگئی – ان سے ملنا ملانا ہوگیا ، وہ گھر آتے رہے ، ملتے رہے ، ان کے والد سے بھی ملاقات ہوئی وہ کسی زمانے میں اسکول ٹیچر رہے تھے – ایک دن باتوں باتوں میں ڈاکٹر مسعود کے والد صاحب نے بتایا کہ میں کافی سال بٹھندا کے گورنمنٹ ہائی اسکول میں ہیڈ ماسٹر رہا ہوں – میں نے کہا یا الله یہ کیسا بندہ آپ نے ملوا دیا ، میں نے کہا آپ یہ فرمائیں ماسٹر صاحب کہ وہاں کوئی ایسے آثار تھے کہ جن کا تعلق بابا رتن ہندی کے ساتھ ہو – کہنے لگے ان کا بہت بڑا مزار ہے وہاں پر اور وہاں بڑے چڑھاوے چڑھتے ہیں – ہندو ، مسلمان عورتیں ، مرد آتے ہیں اور تمہارا یہ دوست جو ہے ڈاکٹر مسعود ، میرے گھر ١٣ برس تک اولاد نہیں ہوئی ، میں پڑھا لکھا شخص تھا ، ایسی باتوں پر اعتبار نہیں کرتا تھا جو ان پڑھ کرتے ہیں – لیکن ایک دن جا کر میں بابا رتن ہندی کے مزار پر بڑا رویا – کچھ میں نے کہا نہیں ، نا کچھ بولا – پڑھے لکھ سیانے بندوں کو شرک کا بھی ڈر رہتا ہے ، اس لئے کچھ نہ بولا ، اور مجھے ایسے ہی وہاں جا کر بڑا رونا آگیا – بابا رتن ہندی کی کہانی کا مجھے پتا تھا کہ یہ مدینہ تشریف لے گئے تھے – مزار پر جانے کے بعد میں گھر آ گیا – رات کو مجھے خواب آیا کہ جس میں ہندوستانی انداز کے سفید داڑھی والے بابا جی آئے اور کہنے لگے ” لے اپنا کاکا پھڑ لے ” ( لو ، اپنا بچہ لو ) یہ الله تعالیٰ نے تمہارے لئے بھیجا ہے – میں نے کہا جی یہ کہاں سے آگیا ، ماسٹر صاحب نے بتایا کہ جب میں نے خواب میں وہ بچہ اٹھایا تو وہ وزنی تھا – میں نے پوچھا ” بابا جی آپ کون ہیں ” تو وہ کہنے لگے ” میں رتن ہندی ہوں ” کیا ایسے بے وقوفوں کی طرح رویا کرتے ہیں ، صبر سے چلتے ہیں ، لمبا سفر کرتے ہیں ، ہاتھ میں لاٹھی رکھتے ہیں اور ادب سے جاتے ہیں ”
ماسٹر صاحب کہنے لگے مجھے سفر اور لاٹھی کے بارے میں معلوم نہیں تھا کہ یہ کیا باتیں ہیں ، میں نے ان سے کہا جی اس کا مصالحہ میرے پاس ہے اور مجھے یقین ہوگیا کہ وہ لڑکیاں جو حضور کا استقبال کرنے کے لئے موجود تھیں وہ خوش قسمت تھیں – ہم کچھ مصروف ہیں – کچھ ہمارے دل اور طرف مصروف ہیں – ہم اس سفر کو اختیار نہیں کر سکتے لیکن سفر کو اختیار کرنے کی ” تانگ ” ( آرزو ) ضرور دل میں رہنی چاہیے اور جب دل میں یہ ہو جائے پکا ارادہ اور تہیہ تو پھر راستہ ضرور مل جاتا
ہے۔

99 names of Allah

99 names of Allah

99 names of Allah
The 99 Names of God, also known as The 99 Attributes of God (Arabic: أسماء الله الحسنى transliteration: Asma’ Allah al-Ḥusná), are the names of God, Muslims believe are revealed in the Qur’an and Sunnah. The total names (as adjectives, word constructs, or otherwise) exceed ninety-nine in the Qur’an and Sunnah, but Muslims believe that there are of these the Best 99 names:

Arabic – Transliteration – Translation (can vary based on context)
1 الرحمن Ar-Rahman The All Beneficent, The Most Merciful in Essence
2 الرحيم Ar-Rahim The Most Merciful, The Most Merciful in Actions
3 الملك Al-Malik The King, The Sovereign, The True and Ultimate King
4 القدوس Al-Quddus The Most Holy, The Most Pure, The Most Perfect
5 السلام As-Salaam The Peace and Blessing, The Source of Peace and Safety, The Most Perfect
6 المؤمن Al-Mu’min The Guarantor, The Self Affirming, The Granter of Security, The Affirmer of Truth
7 المهيمن Al-Muhaymin The Guardian, The Preserver, The Overseeing Protector
8 العزيز Al-Aziz The Almighty, The Self Sufficient, The Most Honorable
9 الجبار Al-Jabbar The Powerful, The Irresistible, The Compeller, The Most Lofty, The Restorer/Improver of Affairs
10 المتكبر Al-Mutakabbir The Tremendous
11 الخالق Al-Khaliq The Creator
12 البارئ Al-Bari’ The Rightful
13 المصور Al-Musawwir The Fashioner of Forms
14 الغفار Al-Ghaffar The Ever Forgiving
15 القهار Al-Qahhar The All Compelling Subduer
16 الوهاب Al-Wahhab The Bestower
17 الرزاق Ar-Razzaq The Ever Providing
18 الفتاح Al-Fattah The Opener, The Victory Giver
19 العليم Al-`Alim The All Knowing, The Omniscient
20 القابض Al-Qabid The Restrainer, The Straightener
21 الباسط Al-Basit The Expander, The Munificent
22 الخافض Al-Khafid The Abaser
23 الرافع Ar-Rafi‘e The Exalter
24 المعز Al-Mu‘ezz The Giver of Honour
25 المذل Al-Mudhell The Giver of Dishonour
26 السميع As-Sami‘e The All Hearing
27 البصير Al-Basir The All Seeing
28 الحكم Al-Hakam The Judge, The Arbitrator
29 العدل Al-`Adl The Utterly Just
30 اللطيف Al-Latif The Subtly Kind
31 الخبير Al-Khabir The All Aware
32 الحليم Al-Halim The Forbearing, The Indulgent
33 العظيم Al-Azeem The Magnificent, The Infinite
34 الغفور Al-Ghafur The All Forgiving
35 الشكور Ash-Shakur The Grateful
36 العلي Al-Aliyy The Sublimely Exalted
37 الكبير Al-Kabir The Great
38 الحفيظ Al-Hafiz The Preserver
39 المقيت Al-Muqit The Nourisher
40 الحسيب Al-Hasib The Reckoner
41 الجليل Al-Jalil The Majestic
42 الكريم Al-Karim The Bountiful, The Generous
43 الرقيب Ar-Raqib The Watchful
44 المجيب Al-Mujib The Responsive, The Answerer
45 الواسع Al-Wasse‘e The Vast, The All Encompassing
46 الحكيم Al-Hakeem The Wise
47 الودود Al-Wadud The Loving, The Kind One
48 المجيد Al-Majid The All Glorious
49 الباعث Al-Ba’ith The Raiser of The Dead
50 الشهيد Ash-Shaheed The Witness
51 الحق Al-Haqq The Truth, The Real
52 الوكيل Al-Wakil The Trustee, The Dependable
53 القوى Al-Qawaie The Strong
54 المتين Al-Matin The Firm, The Steadfast
55 الولى Al-Walaie The Protecting Friend, Patron and Helper
56 الحميد Al-Hamid The All Praiseworthy
57 المحصى Al-Muhsi The Accounter, The Numberer of All
58 المبدئ Al-Mubdi’ The Producer, Originator, and Initiator of All
59 المعيد Al-Mu‘id The Reinstater Who Brings Back All
60 المحيى Al-Muhyi The Giver of Life
61 المميت Al-Mumit The Bringer of Death, The Destroyer
62 الحي Al-Hayy The Ever Living
63 القيوم Al-Qayyum The Self Subsisting Sustainer of All
64 الواجد Al-Wajid The Perceiver, The Finder, The Unfailing
65 الماجد Al-Majid The Illustrious, The Magnificent
66 الواحد Al-Wahid The One, The Unique, Manifestation of Unity
67 الاحد Al-Ahad The One, the All Inclusive, The Indivisible
68 الصمد As-Samad The Self Sufficient, The Impregnable,
The Eternally Besought of All, The Everlasting
69 القادر Al-Qadir The All Able
70 المقتدر Al-Muqtadir The All Determiner, The Dominant
71 المقدم Al-Muqaddim The Expediter, He Who Brings Forward
72 المؤخر Al-Mu’akhir The Delayer, He Who Puts Far Away
73 الأول Al-Awwal The First
74 الأخر Al-Akhir The Last
75 الظاهر Az-Zahir The Manifest, The All Victorious
76 الباطن Al-Batin The Hidden, The All Encompassing
77 الوالي Al-Wali The Patron
78 المتعالي Al-Muta’ali The Self Exalted
79 البر Al-Barr The Most Kind and Righteous
80 التواب At-Tawwab The Ever Returning, Ever Relenting
81 المنتقم Al-Muntaqim The Avenger
82 العفو Al-‘Afuww The Pardoner, The Effacer of Sins
83 الرؤوف Ar-Ra’uf The Compassionate, The All Pitying
84 مالك الملك Malik-al-Mulk The Owner of All Sovereignty
85 ذو الجلال و الإكرام Dhu-al-Jalali wa-al-Ikram The Lord of Majesty and Generosity
86 المقسط Al-Muqsit The Equitable, The Requiter
87 الجامع Al-Jami‘e The Gatherer, The Unifier
88 الغنى Al-Ghanaie The All Rich, The Independent
89 المغنى Al-Mughni The Enricher, The Emancipator
90 المانع Al-Mani’e The Withholder, The Shielder, the Defender
91 الضار Ad-Darr The Distressor, The Harmer
92 النافع An-Nafi‘e The Propitious, The Benefactor
93 النور An-Nur The Light
94 الهادي Al-Hadi The Guide
95 البديع Al-Badi The Incomparable, The Originator
96 الباقي Al-Baqi The Ever Enduring and Immutable
97 الوارث Al-Warith The Heir, The Inheritor of All
98 الرشيد Ar-Rashid The Guide, Infallible Teacher and Knower
99 الصبور As-Sabur The Patient, The Timeless.