Aey Musalmano | Wazirabad_7

Aey Musalmano | Wazirabad_7

   https://wazirabad7.wordpress.com/2012/11/01/aey-musalmano/
   
بیوی سے حسن سلوک کی نصیحت (برائے شوہر)۔

بیوی سے حسن سلوک کی نصیحت (برائے شوہر)۔
بیوی سے حسن سلوک کی نصیحت
ازدواجی تعلق کی سب سے مضبوط بنیاد جذبہ محبت ہے۔یہ جذبہ موجود ہو تو میاں بیوی گلستان ہستی میں اکٹھے محو خرام ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے مقصد اعلی یعنی تربیت اولاد پر اچھے …اثرات بھی مر تب کرتے ہیں ۔ محبت مفقود ہو تو تعلق ایسے ہوگا جیسے دو اجنبی سفر کے دوران ریل گاڑی میں ملے ہوں ۔اس لئے شوہر کے لئے ضروری ہے کہ بیوی کے ساتھ خوش اخلاقی اورپیار و محبت سے پیش آئے ۔اہل و عیال کو خوش رکھنا بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک دینی خدمت ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(ان من اکمل المومنین ایمانا احسنھم خلقا والطفھم باھلہ ) (ترمذی ، کتاب الایمان باب 
۶)
کامل ایمان والاوہ شخص ہے جو اخلاق میں اچھاہو اور تم میں سے بہترین وہ لوگ ہیں جواپنی عورتوں کے حق میں بہتر ہوں “
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(خیر کم خیرکم لاھلہ واناخیر کم لاھلی ) (ترمذی ، ابواب المناقب باب فضل ازواج النبی ،ابن ماجہ کتاب النکاح )
”(لوگو! جان لوکہ )تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہتر ہو (اور جان لوکہ )تم میں سے سب سے بہتر اپنے گھر والوں سے حسن سلوک کرنے والامیں خود ہوں
ایک روایت میں اسی بات کو ایک منفی اسلوب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا:
(لقد طاف اللیلة بال محمد سبعون امرء ة کل امرء ة تشتکی زوجھا فلا تجدون اولئک خیارکم ) (سنن ابی داوٴد)
آج محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے پاس ستر عورتوں نے چکر لگایاہے ۔ ہر عورت اپنے شوہر کی شکایت کررہی تھی ۔ (میں تم سے کہہ دینا چاہتا ہوں کہ )جن لوگوں کی شکایت آئی ہے وہ تم میں سے اچھے لوگ نہیں ہیں “
یعنی جن شوہروں نے اپنی بیویوں سے ایسا سلوک روارکھا ہوا ہے جس پر وہ شاکی ہیں اور جس سے ان کا قلبی اطمینان جا تا رہا ہے تو وہ لوگ اچھے لوگوں میں سے نہیں ہیں ۔ اس اصول کی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی ۔ ظاہر بات ہے کہ شکایت صحیح ہے یا غلط اس کا فیصلہ تو فریقین کے بیانات کے بعد ہی لگایا جاسکتا ہے اس لیے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت کے لیے بطور سرزنش لوگوں کو متنبہ فرمادیا ۔
یہ بات ماننی پڑے گی کہ آج ہمارے معاشرے میں بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کا پلڑا بہت ہلکاہوگیا ہے ۔ شوہر اپنی حاکمیت کے مظاہرے کے لیے تو ہر وقت آمادہ نظر آتے ہیں لیکن حسن سلوک کے معاملے میں تہی دست ہیں ۔ یہ معاملہ صحیح نہیں ہے، اصلاح طلب ہے اور یہ اصلاح خاندان کے ادارے کو مضبوط اور خوشگوار بنانے کا باعث بنے گی ۔ ازدواجی رشتوں کو استوار کرنے اور خا نگی زندگی میں قوس قزح کا رنگ بھرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ خاوند اپنی بیوی کے لیے مناسب اور موزوں سامان تفریح فراہم کرے۔
(عن عائشة انھا کانت مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی سفر قالت فسابقتہ فسبقتہ علی رجلی فلما حملت اللحم سابقتہ فسبقنی قال ھذہ بتلک السبقة ) (سنن ابی داوٴد ۔ کتاب الجہاد )
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے ساتھ دوڑلگائی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سبک جسم رکھتی تھیں جیت گئیں ۔ کچھ عرصہ کے بعد دوڑ ہوئی تو وہ پیچھے رہ گئیں ۔ اس وقت وہ کچھ فربہ ہو چکی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بڑھ جانا اس بڑھ جانے کے بدلے میں ہے“۔
ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے موقع پر گھر کی دیوار کی اوٹ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حبشیوں کی جنگی ورزش کا منظر دکھایا تھا۔ (بخاری ۔ مسلم )
شوہر کے لیے لازم ہے کہ بیوی کے ساتھ خوش خلقی کا برتاوٴ کرے ۔ خوش خلقی سے یہ مراد نہیں کہ اسے تکلیف نہ پہنچائے بلکہ یہ ہے کہ اس کا رنج برداشت کرے۔ اس کی سخت کلامی اور ناشکر گزاری پر صبر سے کام لے۔ حدیث میں ہے کہ عورت کی تخلیق ضعف اور پوشیدگی سے ہوئی ہے۔ اس کے ضعف کا درماں خاموشی ہے اور پوشیدگی کا علاج یہ ہے کہ وہ گھر کی چار دیواری میں رہے اور بلا ضرورت باہر نہ جائے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو اپنی بیوی کی بد خوئی پر صبر و تحمل سے کام لے گا اس کو اتنا ثواب ملے گا جتنا کہ حضرت ایوب علیہ السلام کو ملا تھا جب انہوں نے اپنی مصیبتوں ، آفات اور بلاوٴں کو انتہائی صبر سے برداشت کیا تھا ۔ اور جو عورت اپنے خاوند کی بد مزاجی اور تنگ خوئی کوصبر سے برداشت کرے گی اسے فرعون کی بیوی آسیہ کے برابر ثواب ملے گا ۔ آ خری الفاظ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے بوقت رحلت سنے گئے وہ یہ تھے۔ (آہستہ آہستہ فرمارہے تھے)تین چیزوں کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا !
(
۱)…نماز پر مستقل طور پر قائم رہو۔
(
۲)…غلاموں (اورلونڈیوں )کے ساتھ اچھا برتاوٴ کرو اور
(
۳)…خداکی قسم عورتوں کے معاملہ میں محتاط رہو کہ وہ تمہارے ہاتھوں میں اسیر ہیں۔ ان کے ساتھ اچھے طریق سے گزر بسر کرو۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے غصے اور بد سلوکی کو بڑے تحمل کے ساتھ پی جاتے تھے ۔ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زوجہ نے غصے میں آکر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو (گستاخانہ )جواب دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کتنی گستاخ ہو جو یوں جواب دے رہی ہو؟بیوی نے جواب دیا ۔۔۔ ہاں تم سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہتر ہیں کہ (نبی ہونے کے باوجود ) اپنی بیویوں کے جواب سن لیا کرتے ہیں (اور صبر کر لیتے ہیں )عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ”اگر ایسا ہے تو وائے بر حفصہ( رضی اللہ عنہا )اگر وہ بھی ایسا ہی کرتی ہے اور خاکساری و انکساری سے کام نہیں لیتی !
اور پھر حفصہ رضی اللہ عنہا (جو ان کی بیٹی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ تھیں) کے پاس جاکر کہا ”بیٹی ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہر گز گستاخی نہ کیا کرو۔ دیکھو ! ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی (عائشہ رضی اللہ عنہا ) سے جلنے اور رشک کرنے کی ضرورت نہیں ۔وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ناز اٹھاتے ہیں ۔ پس انتہائی تحمل سے کام لیا کرو۔
عورت میں ایک چیز ایسی موجود ہوتی ہے جسے ضعف کے سوا اور کسی چیز سے منسوب نہیں کرسکتے ۔ اس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے صبر، برداشت اور بردباری ہی موزوں رہتی ہے اور وہ جو ٹیڑھا پن ان میں پایا جاتا ہے اس کا علاج بہرحال تنبیہ اور ڈانٹ ہی ہے ۔ مرد کو چاہیے کہ ایک طبیب اور معلم کا کردار ادا کرے ۔ استاد کی طرح عورت کو تمام امور سمجھاتا بھی رہے اور ایک طبیب کی طرح ہر علت کا علاج بھی موقع کی مناسبت سے کرتا رہے۔ ویسے مجموعی طورپر صبر و تحمل ہی کو غالب رہنے دے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ عورت کی مثال پہلو کی ہڈی کی سی ہے کہ اگر سیدھا کرنے کی کوشش کریں تو وہ ٹوٹ جاتی ہے۔
محبت پیار کے اظہار میں کیے گئے چھوٹے چھوٹے فعل بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں سے اجر کثیر کا باعث بنتے ہیں ۔ اگر شوہر محبت سے روٹی کا ایک لقمہ اپنے ہاتھ سے بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے تو اس کا شمار بھی عبادت میں ہوگا۔ محبت کا یہ فعل اور ایسے ہی دوسرے فعل اللہ کے ہاں شرف قبولیت پاتے ہیں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت رکھتا ہے جو اپنی بیوی کے لبوں پر مہر محبت ثبت کرتا ہے۔۔۔ دونوں میاں بیوی محبت کے اپنے اس رویئے کی بدولت ثواب کے حقدار ٹھہرتے ہیں اور ان کے رزق میں کشادگی ہوتی ہے۔
بیوی کو پانی کا گلاس اپنے محبت بھرے ہاتھوں سے پلانا بھی شوہر کے لیے موجب ثواب ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق جب ایک شوہر اپنی بیوی پر پیار بھری نظر ڈالتا ہے اور بیوی بھی اس کی نظر کا ویسا ہی جواب دیتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کی بارش برساتا ہے ۔ شوہر اگر وفور محبت سے بیوی کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر دباتا ہے تو ان کے گناہ ہاتھوں کی انگلیوں کے رخنوں سے گر کر جھڑجاتے ہیں ۔ میاں بیو ی کا باہمی اختلاط ان کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب ایک شوہر مسکراتا ہو اگھر میں داخل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اس خوشگوار رویہ کے نتیجہ میں ایک فرشتہ پید ا کرتا ہے جو اس شخص کی طرف سے قیامت کے دن تک متواتر استغفار کرتا رہتا ہے
سچی محبت کا بندھن جو شوہر اور بیوی میں ہونا ایک قدرتی امرہے خاوند کو اس کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی وقت بھی بیوی پر غصہ سے چیخے چلائے ۔ یہ شوہر کی بزرگی اور رتبہ کے منافی ہے کہ وہ ایسا رویہ اپنائے ۔ اسے تو چاہیے کہ اپنے خوشگوار رویے سے گھر میں چاروں طرف خوشیاں بکھیر دے کہ اسے دیکھتے ہی بیوی بچوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھیں ۔ خوشگوار محبت بھرا ماحول اللہ تعالیٰ کی رحمت کو دعوت دیتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ایک پیارو شفقت کرنے والا شوہر بیوی اور بچوں کی پرورش کا سامان کرنے کی تگ و دو کے لیے گھر سے نکلتا ہے تو اس کے ہر قدم پر اس کی روحانیت کے درجات بلند ہوتے ہیں اور اس کام سے عہد ہ برآ ہونے پر اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
شوہر پر فرض ہے کہ خاندان میں محبت پیار قائم رکھے ۔ وہ محبت کے بندھن میں شگاف نہ پڑنے دے ۔ بیوی کی حماقتوں اور معمولی لغزشوں پر غم و غصہ کا اظہا ر نہ کرے کہ محبت کے دریا میں تلاطم آجائے ۔ اس کا دل اتنا وسیع ہونا چاہیے کہ وہ چھوٹی چھوٹی فرو گزاشتوں کو درخور اعتنا نہ سمجھے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بڑے رتبے سے نوازا ہے۔ عورت سے زیادہ عقل و شعور دیا ہے تحمل و بردباری اس میں زیادہ ہے اور دماغی صلاحیتوں میں وہ بیوی سے بڑھ کرہے۔ کیونکہ عورت ناقص العقل پید ا کی گئی ہے۔
ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمایا :
(لم تر للمتحابین من النکاح ) (ابو داوٴد)
محبت کرنے والوں کے لیے نکاح کی صورت میں محبت رکھی گئی ہے اس کی مثال نہیں “
اسلام کی روسے سچی اور پائیدار محبت نکاح کے بعد ہی میسر آسکتی ہے ۔ یہ محبت پاک اور اللہ کی طرف سے بارحمت ہوتی ہے یہ وہ محبت ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے ۔ یہ ایسی محبت ہے جو میاں بیوی کے درمیان روحانی اقدار کو بلند کرتی ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: نکاح نصف ایمان ہے ۔
نکاح کے بعد شوہر کوجو محبت نصیب ہوتی ہے اسے پروان چڑھانے کی دلی خواہش کرے ۔ میاں بیوی کے درمیان یہ متبرک محبت آپس کے اختلافات ختم کرنے کے لیے کافی ہے لیکن یہ صرف نیک اور پرہیزگار شوہر کے لیے ہے جو سنت نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم )کا علم رکھتا ہے اور اس پر عمل پیرابھی ہوتا ہے ۔ اپنی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے اور نکاح کے نتیجہ میں جو پاکیزہ محبت وجود میں آتی ہے اس کی ضروریات کو پورا کرتا ہے اپنی محبت کو دوام بخشنے کے لیے جس کا ذکر اوپر آیا ہے نیک شوہر آپس کے متضاد خیالات اور سوچ کے اختلافات کو ہوا نہیں دیتا ۔ چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر بھڑک نہیں اٹھتا اور بیوی کی ناعاقبت اندیشانہ گستاخیوں کو لگا تار معاف کرتا رہتا ہے اور بیوی کے بلاجواز شور و غوغا سے اس کے صبر کا پیمانہ لبریز نہیں ہو جاتا ۔ وہ صبر سے بیوی کی کوتاہیوں کوبرداشت کرکے روحانیت کے بلند درجات پالے گا اور اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے ۔
میاں بیوی کے درمیان سچی محبت کے نتیجہ میں آنکھوں کی روشنی بڑھ جاتی ہے ۔ علامہ سخاوی رحمة اللہ علیہ نے ایک حدیث بیان کی ہے کہ بیوی کے چہرے کو نظر بھر کر دیکھنے سے آنکھوں کی روشنی میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ صرف وہ شوہر جو اچھے اسلامی کردار کا حامل ہو بیوی کو اچھی اور سچی محبت دے سکتا ہے۔ ایک نیک اور پارسا شوہر اپنے اچھے اخلاق اور کردار کی بدولت جو محبت اپنی بیوی کو دے سکتا ہے وہ دولت کی فراوانی ، جسمانی عیش و آرام اور دنیوی جاہ حشمت سے ممکن نہیں ہے ۔ ایسی محبت بیوی کے کم ازکم قانونی ، اخلاقی اور شرعی حقوق پورے کرنے سے حاصل نہیں ہوگی ۔ اس کے لیے خاوند کو اپنے فرائض سے کچھ زیادہ کرنا ہو گا ۔ اور مزید قربانیاں دینا ہونگی ۔ بڑی قربانی تو یہی ہے کہ جب بیوی بد سلوکی کرے تو اس وقت اپنے غصے کو ٹھنڈا رکھے ۔ کسی بات پر ناراض ہوتی ہے تو صبر سے برداشت کرے ۔ اولیائے کرام نے کہا ہے کہ خاوند جب بیوی کے نارواسلوک کا تحمل سے سامنا کرتا ہے تو وہ غازی یا مجاہد کا رتبہ پاتا ہے جو میدان جنگ سے فاتح بن کر آیا ہو۔ درج ذیل احادیث بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
(المجاھد من جاھد نفسہ ) (ترمذی ، فضائل الجہاد باب 
۲)
سچامجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرتا ہے
(لیس الشد ید بالصرعة انماالشدید الذی یملک نفسہ عند الغضب ) (بہ روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحیح بخاری الاداب )
طاقتور وہ نہیں جو دو بدو لڑائی میں دوسرے کو زیر کرلیتا ہے بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے


موت ابدی زندگی کا نام ہے۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا نام ہے۔ لیکن کیا ہمارے اعمال ہم کو ابدی زندگی عطا کریں گے۔ یا اپنے اعمال کا حق ادا کرنے کے لئے پریشانی و آفات میں مبتلہ ہونگے۔ کیوں اگر ہمنے اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزاری ہوگی تو ہی ہم آخرت میں سکون و اطمینان سے سفر طئے کرینگے۔

جس وقت میری والدہ محترمہ نے موت کا تذکرہ کیا تواس وقت میں بہت زیادہ خوف زدہ ہوئی، اپنی اس پریشانی اور اضطرابی کی کیفیت میں آپ سے قطعی بیان نہیں کر سکتی

اور تو اور میری والدہ کے چہرے سے سخت پریشانی اور بے قراری ظاہر ہو رہی تھی۔ موت کے سلسلہ میں مسلسل گفتگو ان کی آواز کو آہستہ آہستہ کمزور و ناطواں کر رہی تھی۔ان کی یہ کیفیت ان کی باطنی حالت کو آشکار کررہی تھی۔

میری والدہ کی کیفیت کچھ اس طرح تھی کہ “موت کا نام لینا“ (یہ نام خوف دلانے والا مرعوب کرنے والا ہے.میری والدہ کو فوری طورپر اپنے اندر ایک غیر فطری خوف محسوس ہوا، اور چونکہ میں ان کی باتوں کی طرف دھیان دے رہی تھی تو میرے چہرہ اور رخساورں کا رنگ بدل رہا تھا، جس کی بناپر میری پیشانی اور ناک کے اوپر گرم پسینے کی بوندیں صاف نظر آ رہی تھیں۔

اور اس وقت میری والدہ کی آواز ہلکی اور بھرا نے لگی۔وہ اپنی اس خوفناک کیفیت کو مجھ سے چھپا نہ سکیں اور لگاتار مجھ سے موت اور میت کی تفاصیل بیان کرتی جا رہی تھی۔اور ان پر خوف ووحشت طاری ہوتی جا رہی تھی، یہاں تک کہ

اور پھر مجھ سے فرمانے لگیں کہ:

سوال: آپ موت سے زیادہ ڈرتی ہو یا میت سے؟

جواب: ہم نہیں کہا میرا نہیںبلکہ زیادہ تر لوگوں کا جواب یہ ہوگا کہ ہمیں موت سے زیادہ میت سے ڈرلگتا ہے۔

اس سلسلے میں ہمنے ایک شخص سے دریافت کیا کہ آپ موت اور میت میں سے کس سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ اس نے کچھ سوچ کر جواب دیا کہ میں میت سے زیادہ ڈرتا ہوں۔ ایک روز کا واقعہ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ”میں نے ایک جنازہ کو دیکھا جس کولوگ اٹھائے ہوئے لے جارہے تھے اس کو دیکھ کر میری حالت خوف زدہ اورپریشان کن ہورہی تھی، یہاں تک کہ میں نے اپنی نظر اس جنازہ کی طرف سے موڑ لی، تاکہ ذہن کے سوچنے سمجھنے کا نظام منقطع نہ ہوجائے۔

ہاں میں میت سے ڈرتا ہوں میں نے دوبارہ دہرایا۔

سوال: کیا آپ موت کے بعد ڈرنے سے زیادہ میت سے ڈرتے ہیں؟

جواب:اس سوال کے جواب میں میری والدہ نے فرمایا کہ تم اس کی موت سے ڈرتے ہیں جو کچھ دیر پہلے ہمارے بیچ زندہ تھا ہماری طرح کھاتاپیتا اور روتا، ہنستا، اپنے آپ کو پاک وصاف رکھتااور سوتا تھا۔

پھرموت کی غشی کا اس پر حملہ ہوا، کہ جیسے ہر ذی روح پر اس کا حملہ ہوتا ہے آپ سچائی کا سامنا کرے اور حقیقت سے روبرو کیوں نہیں ہوتے، آپ کو میت سے زیادہ موت سے ڈرنا چاہیے، کیاآپ نے اپنے نفس سے یہ سوال نہیں کیا کہ پچھلی اُمتیں اور ان کی نسلیں کہاں گئیں، آج ان کے ٹھکانے ان کی قبریں کہا ں گُم ہو گئیں اور ان کے اموال وراثت میں تقسیم ہوگئے، ان کے آثار باقی نہ رہے، وہ اپنے رونے والوں کے پاس نہیں آتے، اور جو ان کو بلاتاہے جواب نہیں دیتے۔

کَم ?تَرَ?±وا مِن جَنَّاتٍ وَع±?±ونٍ . وَز±ر±وعٍ وَمَقَامٍ ?َرِ?مٍ . وَنَع?مَةٍ ?َان±وا فِ??َا فَا?ِ?ِ?نَ . ?َذَلِ?َ وَ?َو?رَث?نَا?َا قَو?مًا آخَرِ?نَ

کتنے باغات اور چشمے اور کھیتیاں اور اچھے اچھے مکان اور نعمتیں جن کا وہ لطف اٹھایا کرتے تھے، چھوڑگئے، ایساہی ہوا کرتا ہے اور ہم نے ان چیزوں کا وارث دوسرے لوگوں کو بنادیا“(سورہ دخان۲۵ تا۲۸)

پھر جو آپ کو جانتا تھا وہ کہاں گیا اور کیوں گیا؟

جواب: آپ کے پچھلے آباءواجداد کہاں گئے ،فلاں۔۔۔کہاں۔۔۔فلاں۔۔۔کہاں فلاں۔۔۔ کہاں؟

وہ زمین کے اوپر سے زمین کے نیچے چلے گئے، وسعت سے تنگی میں، وطن سے غربت میں ، اور روشنی سے تاریکی میں چلے گئے۔

اقوال معصومین علیہ السلام

اے ابااَلحسن علیہ السلام ! 

خدا آپ پر رحم کرے کہ آپ نے ا پنی موت سے کچھ دیر پہلے کتنا اچھا فرمایا تھا:

کل تک میں تمارا ساتھی تھا، اور آج تمہارے لیے عبرت ہوں، اور کل میں تم سے جدا ہوجاو¿ں گا، میرا رخصت ہونا تمہارے لیے نصیحت ہے،میرا ورود مخفی ہے،میرے اطراف سکون ہے، پس میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے فصیح وبلیغ گفتار سے اور سنی ہوئی بات سے زیادہ موعظہ ہوں

اے آقا!ایک روز آپ نے فرمایا تھا:

واعلمواانہ لیس لھذا الجلد الرقیق صبر علی النار (الخ)“

جان لوکہ یہ نازک جلد آگ کو برداشت نہیں کرسکتی،پس تم اپنے نفسوں پر رحم کرو،اس لیے کہ تم نے مصائب دنیا میں ان سے تجربہ حاصل کرلیا ہے یعنی جب یہ نفوس دنیا کے مصائب نہیں برداشت کرسکتے تو آخرت کے عذاب کو کس طرح برداشت کریں گے۔

پھر اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے۔

یوم تجد کل نفس ما عملت من خیر محضر وما عملت من سوء تود لو ان بینھا وبینہ امدا بعیدا ویحذرکم اللہ نفسہ واللہ رو¿ف بالعباد

اس روز ہر نفس اپنی نیکی اور بدی کو کہ جس کو وہ کرچکاہے،موجود پائے گا اور یہ خواہش کرے گا کہ کاش خود اس کے اور اس دن کے مابین ایک مدت طویل حائل ہوجائے، اور اللہ تعالی ٰ تم کو آخرت سے ڈراتا ہے اور اللہ تمام بندوں پر مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔،،(آل عمران:۳۰)

اور موت واحتضار صرف یاد دھانی کراتی ہے اس کی کہ جس کی طرف تم کو جانا ہے خائف اور مرعوب نہیں کرتی۔

میری والدہ ماجدہ موت کے بارے میں یہ سب بتا کر خاموش ہوگئی، اس وقت میں اپنی عبرت دلانے والی چیزوں کو مرتب کرنے اور ان میں نئے سرے سے غور وفکر کرنے میں مصروف ہو گئی۔آج میری والدہ کی یہ باتے میرے لئے نمونہ عمل ہے۔ خدا ہم سب کی نیک توفیقات میں اضافہ کرے اور میرے والدین کی مغفرت فرمائے۔ 

 

Click on Gravater Link to be redirected to 

 website and blogs, or any sites that help describe about any other group's.

Advertisements