باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔

باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔

پیشکش زاہد حسین۔تحریر ! محمودالحق 
 باپ بیٹے کی ایک سچی کہانی 
باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔
 
حصہ اول
ہرروز کی طرح آج بھی وہ اپنے باپ کے ساتھ ایسے بات کر رہا تھا جیسے خود ہی سے مخاطب ہو ۔
ابا جی ماں اپنے بچے کو دو چار سال تک سنبھالتی ہے۔ پھر اللہ کی ذات ماں کو وہ مقام دے دیتا ہے کہ جنت قدموں کے نیچے رکھ دیتا ہے۔ 
ابا جی میں تو دس سال سے آپ کی دیکھ بھال کر رہا ہوں ۔ 
کھلاتا ہوں، نہلاتا ہوں ،صفائی کرتا ہوں، زخموں پر مرہم رکھتا ہوں پھر تو میرا درجہ بھی ماں کا ہوا۔
“تیری مہربانی ہے “کے الفاظ جو اس کے کانوں میں پڑے تو بھونچکا رہ گیا۔ جلد ی میں اس نے صفائی کا کام مکمل کیا۔ ابا جی کو دونوں ہاتھوں میں اٹھایا اور پلنگ پر لٹا کر ڈریسنگ کی کٹ نکال کر پہلے کمر پھر پاؤں میں گہرے زخموں کو صاف کیا اور مرہم لگانے کے بعد بند کر دیا ۔ 
سامان سمیٹنے میں ایسے جلدی کر رہا تھا جیسے بہت ارجنٹ میٹنگ کا بلاوہ آیا ہو۔ 
وہ جلد سے جلد وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا اباجی کے کمرے سے نکل کر سگریٹ ہاتھ میں لئے باہر صحن میں چلا گیا ۔
بیوی آوازیں دیتی رہ گئی۔
جی سنئے ! 
کھانا لگا دوں کیا ۔
مگر آج اسے کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔ صرف ایک آواز کے سوا ” تیری مہربانی ہے “
وہ سگریٹ کو سلگا کے گہرے گہرے کش ایسے لے رہا تھا جیسے کوئی دو دن کا بھوکا کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ 
وہ بار بار اپنے آپ کو کوس رہا تھا کہ تجھے روز ایسے ہی ابا جی سے باتیں کرنے کی عادت ہے۔ یہ سوچ کر کہ وہ کب سمجھتے ہیں ان باتوں کو۔ الزائیمر کی بیماری نے ان کا سارا اعصابی نظام ہی مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ 
آنکھوں میں روشنی باقی تھی یا صرف کھانے پینے کا نظام انہضام کام کر رہا تھا ۔اس کے علاوہ تو پورا وجود ایک گوشت پوست کے لوتھڑے سے زیادہ دکھائی نہیں دیتا تھا ۔
وہ سوچ رہا تھا کہ مجھ سے گناہ ہوا ۔ اباجی تو ایک سال سے ایک لفظ نہیں بولے۔ اتنی بڑی بات” تیری مہربانی ہے” کے الفاظ اس پر اتنے بھاری ہو چکے تھے کہ وہ اپنے قدموں کواٹھانا چاہتا مگر وہ ساتھ نہیں دے رہے تھے ۔
باپ کا بیٹے کو کہہ دینا کہ” تیری مہربانی ہے ” بیٹے کی خدا کے حکم سے سراسر روگردانی کے مترادف ہے۔ 
وہ سوچتا ابھی تک تو میں اپنے اباجی کا حق ہی نہیں ادا کر پایا ۔ پھر میری مہربانی کیسی !
گہرے خیالوں میں کتاب ماضی سے ورق الٹ الٹ کر اس کی نظروں کے سامنے آرہے تھے۔
کہ اباجی نے اسے کیسےمحبت سے پال پوس کر بڑا کیا ۔
جب کبھی دوستوں کی محفل رات گئے جاری رہتی۔ تو باون سال عمر میں بڑا اس کا باپ رات بھر ٹہلتا رہتا۔ ماں سے کہتا تیری ہی دی گئی ڈھیل ہے جو وہ دیر تک گھر سے بھی باہر رہنے لگا ہے۔ 
جب وہ گھر کے دروازے پر دبے پاؤں پہنچتا ۔ تو ابا جی کی آواز آتی بیٹا خیریت تھی اتنی دیر لگا دی۔
پہلے سے تیار ایک نیا بہانہ سنا کر جلد کچن تک جاتا۔ ماں بھی پیچھے پیچھے وہیں آجاتی۔ سالن گرم کرتی اور ساتھ ہی کلاس شروع ہو جاتی۔ تیرے اباجی بہت غصے میں تھے ۔
مگر ماں مجھے تو کچھ نہیں کہا! 
یہی تو ان کا مسئلہ ہے۔ مجھ ہی کو سناتے رہتے ہیں کہ میرے لاڈ پیار نے بگاڑ رکھا ہےخود بھی تو کبھی کچھ نہیں کہا ۔
لیکن ماں گھر میں اکیلا کیا کروں !
قصور اس کا بھی نہیں تھا۔اس کا بڑا بھائی جو اس کا دوست بھی تھا ۔ اب اس دنیا میں نہیں رہا تھا ۔ 
تب سے اس کے بوڑھے ماں باپ تنہائی میں یاس کے چراغ جلاکر زندگی گزار رہے تھے ۔ 
محلے میں بھی اس کا ہم عمر دوست کوئی نہیں تھا۔ 8،6 سال عمر میں بڑے بھائیوں کے دوستوں سے گپ شپ کرتا ۔ اب تو ان میں سے بھی زیادہ تراپنے اپنے کام کاج میں مصروف ہو چکے تھے اور چند ایک محلے سے ہی جا چکے تھے ۔
جب ہمارا دم نکل جائے گا لوگ ہی اطلاع کریں گے تمہیں !
تنہائی کی ماری ماں کھانا اگے رکھتے ہوئے غصے سے بولی!
وہ بھی بیچاری سچی تھی۔ ایک بار تو باتھ روم گئی اور کمزوری سے چکر کھا کر وہی گر کر بیہوش ہو چکی تھی۔ کافی دیر کے بعد اسے ہوش آیا تو اپنی بیٹی کو فون کیا اور رو پڑی ۔
وہ گھرانہ اتنی اولاد اور شہر کی گہما گہمی کے باوجود بھی ایک ایسی منزل کے مسافر تھے ۔جہاں دو بوڑھے اپنی آنکھوں کی کم ہوتی روشنی کو ایک نو عمر چراغ سے وابستہ کئے ہوئے تھے۔
کھانے سے فارغ ہو کر اس نے اپنے کمرے کی راہ لی۔ گولڈلیف کے پیکٹ سے ایک سگریٹ نکال کرسلگایا اور گہرے کش لیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کل سے دیر سے گھر آنے کی عادت کو ترک کرنا ہو گا۔ 
اس نے اس کا حل بھی تلاش کر لیا دوستوں کو اپنے گھر ہی بلایا جائے۔ کیونکہ اس کا کمرہ گھر سے الگ تھلگ باہر کی طرف تھا۔ وہاں سے قہقہوں اور شور کی آوازیں بھی باہر نہیں جا سکتی تھی۔
دس کمرے،تین باتھ روم، ڈرائنگ روم، دو اطراف میں برامدے اور سو سو فٹ لمبائی کے دونوں اطراف صحن پر مشتمل گھر دو کنال پر پھیلا ہوا تھا۔
جتنا بڑا گھر تھا تنہائیاں اس گھر میں اس سے بھی زیادہ پھیلی ہو ئی تھی۔ 
دن ہفتوں میں مہینے سالوں میں بیتے جارہے تھے ۔
اس گھر کی یہی معمولات زندگی رہی!
کبھی کبھار وہ سوچتا! میرے ابا جی مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔
مگر یہ خیال ذہن سے جھٹک دیتا کہ وہ کبھی اباجی کے قریب نہیں رہا ہمیشہ کسی انجانے خوف کی وجہ سے دور دور رہتا۔ 
عمر میں باون سال کا فرق بھی دوری کا سبب تھا کیونکہ دوسری شادی سے آخری نمبر تھا اس کا ۔
سب سے زیادہ پیار تو انہیں اس سے بڑے سے تھا ۔ سولہ سال کی عمر میں وہ اس فانی دنیا سے کوچ کر گیا ۔ پینسٹھ سال کے باپ کے کندھوں پر سولہ سال کے جوان بیٹے کا جنازہ ہو تو اسے جینا کب یاد رہ جاتا ہے ۔
خوف اور جدائی کا آسیب ہر دم اسے تنہائی میں ڈراتا ہو گا ۔
سب سے عزیز بیٹا دنیا سے چلا گیا۔ ان سے بڑے بیٹےاچھے مستقبل کی تلاش میں گھر سے دور اور چند ملک سے ہی دور جا چکے تھے ۔
اب صرف یہی ایک رہ گیا تھا ۔ شائد یہی ایک خوف ہمیشہ اس کے باپ کو رہتا ہوگا کہ کہیں یہ بھی اچھے مستقبل کا خواب آنکھوں میں نہ بسا لے۔ نہ ڈانٹنے کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی تھی۔
جیسے ہی ماضی کے خیالات کا سلسلہ ٹوٹا توکچھ دیر ٹہلنے کےبعد وہ واپس لوٹ آیا ۔اب وہ کافی حد تک مطمئن تھا اور تہیہ کر چکا تھا آئندہ کوئی بھی ایسی بات زبان پر نہیں لائے گا۔ 
مگر اس کی زندگی کا سفر یونہی گزر تا تھا ۔ صبح 6 بجے، دوپہر 2 اور رات 10 بجے وہ جہاں بھی ہوتا اپنے گھر واپس لوٹ جاتا۔
پہلے تو مشکل زیادہ تھی جب سے اس نے اپنے ابا جی کوپیمپر لگانا شروع کیا بستر بھیگنے سے بچ جاتے تھے۔ 
جاب، بزنس، بیوی بچے اور مہمان داری سبھی کام اکٹھے چل رہے تھے ۔ایسی زندگی گزارنے کی اسے عادت ہو گئی تھی ۔ مہمان آتے مہمان بن کر رہتے اور چلے جاتے ۔چار دن ہنسی مذاق کے بعد پھر وہی روز کے معمولات واپس آجاتے۔
جب بھی اس کےموبائل کی گھنٹی بجتی وہ چونک جاتا ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب موبائل فون آسائش تھی، سہولت نہیں ۔ اس کے کسی بھی دوست کے پاس موبائل فون نہیں تھا ۔ اباجی کی وجہ سے اس نے کنکشن لیا تھا تاکہ ہر وقت گھر رابطہ رہ سکے۔ 
ایک روز دوستوں کی محفل میں خوش گبیوں میں مشغول تھا کہ فون کی گھنٹی بجی ۔فون کان سے لگاتے ہی وہ گھر کی طرف دوڑ پڑا ۔ 
اس کے ابا جی کو اکثر دماغ کی شریانوں میں خون صحیح نہ پہنچنے پر ایسا دورہ پڑتا کہ منہ سے جھاگ بہتی ،جسم جھٹکے لیتا۔ پھر تو دو دن تک اس کے ابا جی بالکل ڈھیلے ہو جاتے۔ کھانا پینا بہت کم ہو جاتا۔ پھر آہستہ آہستہ جسم صرف خوراک لینے کی حد تک نارمل ہو جاتا۔ لیکن آج کا دورہ بہت شدید تھا مسلسل سر اور گردن کے پٹھوں کی مالش سے فرق نہیں پڑ رہا تھا جھاگ منہ سے بہے جا رہی تھی۔
ڈاکٹر بھی ایسے مریض پر زیادہ توجہ نہیں دیتے جو زندگی کی نو دہائیوں سے اوپر جی چکا ہو اور بستر پر لیٹے لیٹے اس مریض کو چھ برس گزر چکے ہوں ۔
تیمارداری کے لئے گھر آنے والے سبھی سنیاسی نسخہ چھوڑ کر جاتے ۔مفت مشورہ دینے کے چکر میں ایک بار اس کے ابا جی نے فزیکل تھراپسٹ کے ہاتھوں بہت تکلیف اٹھائی تھی۔ بازو فزیکل تھیراپی سے ایسے پھولے کہ پھر وہ فزیکل تھراپسٹ گھر کا راستہ بھول گیا ۔
ا ب تو مشورہ دینے والے بھی خاموشی اختیار کر چکے تھے ۔عزیز رشتہ دار ہمدردی کا اظہار کرتے اور حوصلہ بندھاتے اور گھروں کو لوٹ جاتے۔
اکثروہ صحن میں تنہا سگریٹ سے دھواں چھوڑتے ہوئے ماضی میں کھو جاتا۔
بیس سال پہلے کی دوستوں کی آوازیں اس کے کانوں میں گونجتی۔
یار! تو تو خوش نصیب ہے۔ جب چاہے ملک سے باہر بھائیوں کے پاس جا سکتا ہے۔ ہمیں تو ویزہ دلانے والا کوئی نہیں۔ ہر بار سٹوڈنٹ ویزہ سے ان کو انکار ہو جاتا ۔ وہ  
 تمام دوست اس کی قسمت پر رشک کرتے مگر وہ سوچتا کہ مجھے ایسی خواہش کیوں نہیں ۔
کہانی ابھی جاری ہے باقی ماندہ کہانی تعلیمی مکتب میں پڑھئے

Advertisements
اپریل فول

اپریل فول

null

اپریل فول
***
اپریل لاطینی زبان کے لفظ اپریلس Aprillisیا اپرائر Aprire آج اس پوسٹ کا اشتراک اپریل فول کی حقیقت سے ماخوذ ہے ۔ جس کا مطلب ہے پھولوں کا کھلنا ، کونپلیں پھوٹنا، قدیم رومی قوم موسم بہار کی آمد پر شراب کے دیوتا کی پرستش کرتی اور اسے خوش کرنے کے لئے لوگ شراب پی کر اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنے کےلئے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ جھوٹ رفتہ رفتہ اپریل فول کا ایک اہم حصہ بلکہ غالب حصہ بن گیا۔ مغربی ممالک میں*یکم اپریل کو عملی مذاق کا دن قرار دیا جاتا ہے۔ اس دن ہر طرح کی نازیبا حرکات کی چھوٹ ہوتی ہے اور جھوٹے مذاق کا سہارا لے کر لوگوں کو بےوقوف بنایا جاتا ہے۔
افسوس صد افسوس یہ فضول اور فول رسم مسلم معاشرے کا ایک اور لازم حصہ بن چکی ہے اور مسلمان اپنے ہی بہن بھائیوں کی تباہی و بربادی پر خوشی کا دن مناتے ہیں۔ اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو فول بنا کر ، ان کو مصیبت و پریشانی میں مبتلا کرکے خوش ہوتے ہیں۔
اپریل فول کی حقیقت:
جب عیسائی فوج نے اسپین کو فتح کیا تو اس وقت اسپین کی زمین پر مسلمانوں کا اتنا خون بہایا گیا کہ فاتح فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو ان کی ٹانگیں گھٹنوں تک مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوئیں تھیں۔ جب قابض افواج کو یقین ہوگیا کہ اب اسپین میں*کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچا تو انہوں نے گرفتار مسلمان فرماں روا کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ واپس مراکش چلاجائے جہاں سے اس کے ابائو اجداد آئے تھے۔ قابض فوج غرناطہ سے کوئی بیس کلو میٹر دور ایک پہاڑی پر اسے چھوڑ کر واپس چلی گئی۔
جب عیسائی افواج مسلمانوں کے اپنے ملک سے نکال چکیں تو پھر حکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کوئی مسلمان نظر آئے تو اسے شہید کردیا جائے۔ جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں*جابسے اور وہاں جاکر اپنے گلوں میں صلیبیں ڈال لیں*اور اپنے نام عیسائیوں جیسے رکھ لئے ۔ اب بظاہر اسپین میں*کوئی مسلمان نظر نہیں آرہا تھا ۔ مگر اب بھی عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے بلکہ کچھ چھپ کر اور کچھ اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں۔اب مسلمانوں کو باہر نکالنے کی تراکیب سوچی جانے لگیں اور پھر ایک منصوبہ بنایا گیا۔ پورے ملک میں اعلان کیا گیا کہ یکم اپریل کو تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہوجائیں تاکہ انہیں ان ممالک میں بھیج دیا جائے جہاں وہ جانا چاہتے ہیں۔ اب چونکہ ملک میں امن قائم ہوچکا تھا اور مسلمانوں کو خود کو ظاہر کرنے میں*کوئی خوف محسوس نہ ہوا۔ مارچ کے پورے مہینے میں*اعلانات ہوتے رہے ۔ الحمراء کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میں خیمے نصب کردئیے گئے اور بحری جہاز آکر بندرگاہ پر لنگر انداز ہوتے رہے۔ مسلمانوں کو ہرطریقے سے یقین دلایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ جب مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ اب انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا تو وہ سب غرناطہ میں*جمع ہونا شروع ہوگئے۔ اس طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرلیا اور ان کی خوب خاطر مدارت کی گئی۔
یہ کوئی پانچ سو برس پہلے یکم اپریل کا دن تھا ، جب تمام مسلمانوں کو ایک بحری جہاز میں بٹھایا گیا ۔ مسلمانوں کو اپنا ملک چھوڑتے ہوئے بڑی تکلیف ہورہی تھی مگر انہیں*یہ بھی اطمینان تھا کہ چلو شکر ہے جان تو بچ رہی ہے۔ دوسری طرف عیسائی حکمران اپنے محلوں میں*جشن منانے لگے ۔ جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کہا اور جہاز وہاں سے چل دئیے۔ ان مسلمانوں میں بوڑھے، جوان، خواتین، بچے اور کئی مریض شامل تھے۔جب جہاز سمندر کے عین درمیان میں*پہنچا تو ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت تمام مسلمانوں کو گہرے پانی میں ڈبودیا گیا اور یوں وہ تمام مسلمان ہمیشہ کےلئے ابدی نیند سو گئے۔
مسلمانوں کی ہلاکت کے بعد اور انہیں دھوکہ دینے کے بعد اسپین بھر میں جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بے وقوف بنایا ۔ پھر یہ دن اسپین کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ میں فتح کا عظیم دن بن گیا۔ اور اسے انگریزی میں First April Fool کا نام دیا گیا یعنی “یکم اپریل کے بے وقوف” آج بھی عیسائی اس دن کی یاد بڑے اہتمام سے مناتے ہیں*اور عیسائیوں کے ساتھ ساتھ ہمارے مسلمان بھائی بھی اس دن لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں*۔
اس دن کے نقصانات:
دشمنوں کی خوشی میں شامل ہونا۔
نفاق میں ڈوب جانا۔
جھوٹ بولنا اور ہلاکت پانا۔
اللہ پاک کی ناراضگی مول لینا۔
مسلمان بہنوں اور بھائیوں کی تباہی و بربادی کی خوشی منانا۔
مسلمان بہن بھائیوں کو مصیبت میں ڈالنا۔
دنیا و آخرت میں خسارہ و تباہی کمانا۔
میری تمام دوست احباب سے گزارش ہے کہ وہ اس دن کسی سے جھوٹ بول کر یا کسی کو بے وقوف بنا کر خوش نہ ہوں ۔ اس سے ایک تو اللہ پاک ناراض ہوگا اور دوسرا اس دن شہید ہونے والے مسلمان بہنوں اور بھائیوں کی روحوں کو تکلیف ہوگی۔ ہاں اگر ہم اس دن نوافل ادا کرکے ہمارے شہید ہونے والے مسلمانوں کو ایصال ثواب کرسکیں تو اچھی بات ہے ۔
اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور اچھائی کی توفیق دے۔
آمین
Paint میں دعوت نامہ تیار کریں

Paint میں دعوت نامہ تیار کریں

بعض تقریبات ایسی ہوتی ہیں جن کے لیے پرنٹنگ پریس سے دعوت نامہ چھپوانا ضروری نہیں ہوتا۔ مثلاً‌ ایسی مختصر تقریبات جن کے لیے صرف زبانی یا فون پر اطلاع دینا کافی ہوتا ہے، جیسا کہ چھٹی والے دن قریبی دوستوں یا رشتہ داروں کو کھانے پر مدعو کرنا وغیرہ۔ چونکہ سوشل میڈیا اور ای میل کے اس زمانے میں روز مرہ تصاویر کا شیئر کیا جانا معمول کی بات ہے، اس لیے اگر اس نوعیت کی تقریب کے لیے فوری طور پر دعوت نامہ تیار کر کے شیئر کیا جا سکے تو دعوت کی اہمیت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس ٹٹوریل میں ونڈوز کی انسٹالیشن میں شامل Paint پروگرام کی مدد سے فوری طور پر ایسا دعوت نامہ تیار کرنے کا عمل دکھایا گیا ہے۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک اچھے معیار کی تصویر حاصل کریں، اور پھر اس پر دعوت نامے کی عبارت لکھ کر اچھے طریقے سے فارمیٹ کر لیں۔ تصویر استعمال کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو دعوت نامے کی ڈیزائننگ نہیں کرنی پڑے گی اور یہ تصویر ایک ڈیزائن کا کام دے گی۔ یہ تصویر کسی معیاری کیمرے والے فون سے اتاری جا سکتی ہے۔ مثلاً‌ اگر آپ کسی تعلیمی ادارے کے پروگرام کے لیے یہ دعوت نامہ بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ادارے کی عمارت یا کسی خاص جگہ کی تصویر کھینچ سکتے ہیں۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ بلا معاوضہ تصاویر فراہم کرنے والی کسی ویب سائیٹ سے مطلوبہ تصویر حاصل کر لیں۔ آئیں دعوت نامے کی تیاری کا عمل دیکھتے ہیں۔
درج ذیل اسکرین شاٹ میں pixabay.com ویب سائیٹ سے ایک تصویر حاصل کر کے پینٹ پروگرام میں کھولی جا رہی ہے۔
[Image: designing-an-invitation-card-in-paint-01.png]
درج ذیل اسکرین شاٹ میں ہم ایک باکس بنا رہے ہیں جس پر دعوت نامے کی عبارت لکھی جائے گی۔ اس کے لیے:
  1. اوپر ٹول بار پر بیک گراؤنڈ والا آپشن منتخب کریں۔
  2. پھر رنگوں کے خانوں میں سے باکس کے لیے حسب ضرورت رنگ منتخب کریں۔
  3. ڈرائنگ کے ٹولز میں سے Rectangle والا آپشن منتخب کریں۔
  4. آؤٹ لائن ڈراپ ڈاؤن میں سے No outline والا آپشن منتخب کریں۔
  5. Fill ڈراپ ڈاؤن مینیو میں سے Solid color والا آپشن منتخب کریں۔
  6. اب تصویر پر کسی مناسب جگہ پر مطلوبہ سائز کا باکس بنائیں۔
[Image: designing-an-invitation-card-in-paint-02.png]
ٹول بار سے Text ٹول منتخب کر کے باکس کے اوپر ایک خانہ بنائیں تاکہ اس میں عبارت لکھی جا سکے۔
[Image: designing-an-invitation-card-in-paint-03.png]
پہلے دعوت نامے کی مکمل عبارت لکھ لیں، پھر اس کی فارمیٹنگ شروع کریں۔
[Image: designing-an-invitation-card-in-paint-04.png]
دعوت نامہ تیار ہے۔
[Image: designing-an-invitation-card-in-paint-05.png]

Phishing کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟

Phishing کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟

Phishing کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟

فرض کریں مجھے ایک ای میل موصول ہوتی ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ آپ کے بینک اکاؤنٹ میں بار بار Login ہونے کی کوشش کی گئی ہے جس کی وجہ سے آپ کا اکاؤنٹ عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اور ساتھ یہ کہا جاتا ہے کہ درج ذیل لنک کی مدد سے اپنا اکاؤنٹ بحال کریں۔ یہ پڑھ کر میں اپنے بینک اکاؤنٹ کے بارے میں فکرمند ہو جاتا ہوں اور فورً‌ا ای میل میں دیے گئے لنک پر کلک کر کے بینک کی ویب سائیٹ کھولتا ہوں، جیسا کہ درج ذیل تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اور پھر اپنا یوزر نیم اور پاس ورڈ استعمال کرتے ہوئے Login ہوتا ہوں جس کے نتیجے میں ایک پیغام سامنے آتا ہے کہ ’’آپ کا اکاؤنٹ بحال کر دیا گیا ہے، شکریہ!‘‘۔ یہ پیغام پڑھ کر میں سکھ کا سانس لیتا ہوں اور بینک کو دعائیں دیتا ہوں کہ اس نے میرا اکاؤنٹ بچا لیا۔

لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہوا یہ ہے کہ کسی نے ایک جعلی ویب سائیٹ کے ذریعے مجھ سے میرے بینک اکاؤنٹ کا یوزر نیم اور پاس ورڈ معلوم کر لیے ہیں۔

بینک کی جعلی ویب سائیٹ ۔ فشنگ کی ایک مثالمیں نے دھوکہ کیسے کھایا؟

درج ذیل ویب ایڈریس کو غور سے دیکھیں۔

  1. اس میں مرکزی ڈومین com-accountverfication.com ہے۔
  2. جبکہ hbl ایک ذیلی ڈومین ہے۔

بینک کی ویب سائیٹ کا جعلی ویب ایڈریس

Sub-domain جو ہے یہ Root-domain کے تحت ہوتا ہے۔ مثلاً‌ ہماری ویب سائیٹ کا روٹ ڈومین techurdu.com ہے۔ ہم اپنی ویب سائیٹ پر جتنے چاہے سب ڈومین بنا سکتے ہیں۔ مثلاً‌:

چنانچہ اس جعلی کمپنی نے روٹ ڈومین اور سب ڈومین کو اس طرح سے ملا کر استعمال کیا کہ میں اس سے دھوکہ کھا گیا۔

عام صارفین کا ایک مغالطہ

عام صارفین جو تکنیکی طور پر ماہر نہیں ہوتے وہ غیر شعوری طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ Password چونکہ لکھتے ہوئے نظر نہیں آتا اس لیے اسے کوئی حاصل نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی ویب سائیٹ پر جو معلومات بھی فراہم کی جائیں، اس ویب سائیٹ کے مالک کو ان معلومات پر مکمل کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر درج ذیل ٹیکسٹ باکس میں کچھ لکھ کر دیکھیں۔

Phishing سے کیسے بچا جائے؟

Phishing سے بچنے کے لیے درج ذیل باتوں کا دھیان رکھیں:

  1. ویب سائیٹ کے ایڈریس کو بغور دیکھ کر اس کا اصل ڈومین پہچانیں۔ اور اس بات کی تسلی کریں کہ ملتے جلتے نام کا سب ڈومین استعمال کر کے آپ کو دھوکہ نہیں دیا جا رہا۔
  2. ای میل میں موجود مشکوک لنکس پر کلک نہ کریں۔ اگر کسی لنک پر جانا ضروری ہو تو براؤزر کھولیں، پھر اس کی ایڈریس بار میں مکمل ویب ایڈریس لکھنے کی بجائے اس کا روٹ ڈومین ٹائپ کر کے دیکھیں۔ ویب سائیٹ کا ہوم پیج دیکھنے سے عموماً‌ کمپنی کا کچھ نہ کچھ تعارف ہو جاتا ہے۔
  3. اگر یہ کسی بڑے ادارے مثلاً‌ بینک وغیرہ کی ویب سائیٹ ہے تو یہ تسلی کریں کہ اس کا ویب ایڈریس //:https سے شروع ہو رہا ہے، نہ کہ
    //:http سے۔ جیسا کہ درج ذیل تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔
  4. اگر آپ کے پاس ایک سے زیادہ کمپیوٹنگ ڈیوائسز ہیں تو حساس نوعیت کے کام کسی خاص کمپیوٹر پر کریں۔ اس خاص کمپیوٹر کو انٹرنیٹ پر دیگر سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ کریں، اور نہ ہی اس کمپیوٹر پر غیر ضروری سافٹ ویئرز انسٹال کریں۔

بینک کی ویب سائیٹ کا اصلی ویب ایڈریس

فونٹس کے سیمبلز استعمال کریں

فونٹس کے سیمبلز استعمال کریں

Symbols یعنی مختلف علامات اور نشانات، دیکھنے والے کی توجہ حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سیمبلز نہ صرف لکھائی کی بہ نسبت کم جگہ لیتے ہیں بلکہ کم وقت میں وہ تصور واضح کر دیتے ہیں جس کے لیے لکھائی کے بہت سے الفاظ درکار ہوتے ہیں۔ اسی لیے ٹریفک سائنز سے لے کر سافٹ ویئر ٹول بارز تک ایسے سیمبلز استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں دیکھنے والا فورً‌ا سمجھ جاتا ہے کہ فلاں علامت کا مقصد کیا ہے۔

ڈیسک ٹاپ پبلشنگ اور گرافک ڈیزائن میں اکثر سیمبلز اور ڈنگ بیٹس وغیرہ استعمال کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایسے فونٹس دستیاب ہیں جو مختلف علامات اور نشانات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یعنی جب ایسا فونٹ منتخب کیا جاتا ہے تو کی بورڈ پر کوئی بھی ہندسہ، حرف یا نشان ٹائپ کرنے پر ایک مختلف سیمبل ظاہر ہوتا ہے۔ مثلاً‌ کسی ڈاکومنٹ میں فون نمبر کے ساتھ فون کا سیمبل، اور ویب سائیٹ کے ایڈریس کے ساتھ مانیٹر وغیرہ جیسا کوئی سیمبل استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فونٹس کے یہ سیمبلز جب کسی گرافک ڈیزائن سافٹ ویئر میں استعمال کیے جاتے ہیں تو ان کی افادیت بڑھ جاتی ہے، کیونکہ پھر کسی بھی سیمبل کو ڈیزائن کی ضرورت کے مطابق کسی خاص شکل میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ آئیں سیمبلز پر مشتمل فونٹس استعمال کرنے کا طریقہ دیکھتے ہیں۔

کی بورڈ پر موجود تمام ہندسے، حروف اور نشانات ٹائپ کریں۔ پھر ان سب کو سلیکٹ کر کے ان کے لیے ڈنگ بیٹس فونٹ منتخب کریں۔

ڈاکومنٹ میں انگلش کے تمام چھوٹے بڑے حروف لکھ کر کے انہیں سلیکٹ کریں

درج ذیل اسکرین شاٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب Webdings فونٹ منتخب کیا گیا تو ٹائپ کیے گئے ہر ہندسے، حرف اور نشان کے بدلے میں ایک سیمبل ظاہر ہوگیا ہے۔ اس طریقے سے آپ اپنے سسٹم پر ایسے تمام فونٹس کے سیمبلز ایک فائل میں جمع کر سکتے ہیں۔ اور جب کسی سیمبل کی ضرورت پیش آئے تو اس فائل سے کاپی کر کے مطلوبہ ڈاکومنٹ یا ڈیزائن میں استعمال کر سکتے ہیں۔

سلیکٹ کیے ہوئے انگلش کے حروف کے لیے ڈنگ بیٹ فونٹس استعمال کریں

Webdings اور Windings کے نام سے چند فونٹس ونڈوز میں پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آپ مزید ایسے فونٹس حاصل کرنا چاہیں تو سرچ انجن کی مدد سے انہیں تلاش کیا جا سکتا ہے۔

سرچ انجن کی مدد سے مفت دستیاب ڈنگ بیٹ فونٹ تلاش کریں

درج ذیل اسکرین شاٹ میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بارڈرز کے کناروں والے ڈیزائنز پر مشتمل ایک فونٹ ڈاؤن لوڈ کیا گیا ہے۔ فونٹ زپ فائل کی شکل میں ہے، جس پرکلک کر کے اسے کھولا جا سکتا ہے۔

جب زپ فائل کھل جائے تو اس میں موجود فونٹ دو

ڈنگ بیٹ فونٹ ڈاؤن لوڈ کریں

طریقوں سے انسٹال کیا جا سکتا ہے۔

  • ایک طریقہ یہ ہے کہ پہلے زپ فائل Extract کر لیں۔ اس کے نتیجے میں جو فولڈر سامنے آئے گا اس میں موجود فونٹ کی فائل پر ماؤس کے دائیں بٹن کے ساتھ کلک کر کے مینیو کھولیں۔ اور پھر اس مینیو میں سے Install آپشن منتخب کریں۔
  • دوسرا طریقہ یہ ہے کہ زپ فائل میں موجود فونٹ کی فائل پر ڈبل کلک کر کے اسے کھولیں۔

ڈنگ بیٹ فونٹ کی زپ فائل کھولیں

جب فونٹ کی فائل کھل جائے تو Install بٹن پر کلک کر کے فونٹ انسٹال کر لیں۔ اگر وہ پروگرام اس وقت کھلا ہوا ہے جس میں آپ یہ فونٹ استعمال کرنا چاہتے ہیں، تو اسے بند کر کے دوبارہ چلائیں۔

درج ذیل اسکرین شاٹ میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میں نے کورل ڈرا میں CornPop فونٹ کا ایک سیمبل بارڈر فریم کے کنارے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ڈاؤن لوڈ کیا گیا فونٹ انسٹال کریں

درج ذیل اسکرین شاٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کورل ڈرا میں Wingdings فونٹ کا سیمبل ایک آئی کان بنانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

ڈنگ بیٹ فونٹ کا ایک سیمبل بارڈر کے کنارے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے

درج ذیل اسکرین شاٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کورل ڈرا میں Wingdings فونٹ کا سیمبل ایک آئی کان بنانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

ڈنگ بیٹ فونٹ کا ایک سیمبل آئی فون ایپلی کیشن کے آئیکان کے طور پر استعمال کیا گیا ہے

Categories: