باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔

باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔

پیشکش زاہد حسین۔تحریر ! محمودالحق 
 باپ بیٹے کی ایک سچی کہانی 
باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔
 
حصہ اول
ہرروز کی طرح آج بھی وہ اپنے باپ کے ساتھ ایسے بات کر رہا تھا جیسے خود ہی سے مخاطب ہو ۔
ابا جی ماں اپنے بچے کو دو چار سال تک سنبھالتی ہے۔ پھر اللہ کی ذات ماں کو وہ مقام دے دیتا ہے کہ جنت قدموں کے نیچے رکھ دیتا ہے۔ 
ابا جی میں تو دس سال سے آپ کی دیکھ بھال کر رہا ہوں ۔ 
کھلاتا ہوں، نہلاتا ہوں ،صفائی کرتا ہوں، زخموں پر مرہم رکھتا ہوں پھر تو میرا درجہ بھی ماں کا ہوا۔
“تیری مہربانی ہے “کے الفاظ جو اس کے کانوں میں پڑے تو بھونچکا رہ گیا۔ جلد ی میں اس نے صفائی کا کام مکمل کیا۔ ابا جی کو دونوں ہاتھوں میں اٹھایا اور پلنگ پر لٹا کر ڈریسنگ کی کٹ نکال کر پہلے کمر پھر پاؤں میں گہرے زخموں کو صاف کیا اور مرہم لگانے کے بعد بند کر دیا ۔ 
سامان سمیٹنے میں ایسے جلدی کر رہا تھا جیسے بہت ارجنٹ میٹنگ کا بلاوہ آیا ہو۔ 
وہ جلد سے جلد وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا اباجی کے کمرے سے نکل کر سگریٹ ہاتھ میں لئے باہر صحن میں چلا گیا ۔
بیوی آوازیں دیتی رہ گئی۔
جی سنئے ! 
کھانا لگا دوں کیا ۔
مگر آج اسے کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔ صرف ایک آواز کے سوا ” تیری مہربانی ہے “
وہ سگریٹ کو سلگا کے گہرے گہرے کش ایسے لے رہا تھا جیسے کوئی دو دن کا بھوکا کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ 
وہ بار بار اپنے آپ کو کوس رہا تھا کہ تجھے روز ایسے ہی ابا جی سے باتیں کرنے کی عادت ہے۔ یہ سوچ کر کہ وہ کب سمجھتے ہیں ان باتوں کو۔ الزائیمر کی بیماری نے ان کا سارا اعصابی نظام ہی مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ 
آنکھوں میں روشنی باقی تھی یا صرف کھانے پینے کا نظام انہضام کام کر رہا تھا ۔اس کے علاوہ تو پورا وجود ایک گوشت پوست کے لوتھڑے سے زیادہ دکھائی نہیں دیتا تھا ۔
وہ سوچ رہا تھا کہ مجھ سے گناہ ہوا ۔ اباجی تو ایک سال سے ایک لفظ نہیں بولے۔ اتنی بڑی بات” تیری مہربانی ہے” کے الفاظ اس پر اتنے بھاری ہو چکے تھے کہ وہ اپنے قدموں کواٹھانا چاہتا مگر وہ ساتھ نہیں دے رہے تھے ۔
باپ کا بیٹے کو کہہ دینا کہ” تیری مہربانی ہے ” بیٹے کی خدا کے حکم سے سراسر روگردانی کے مترادف ہے۔ 
وہ سوچتا ابھی تک تو میں اپنے اباجی کا حق ہی نہیں ادا کر پایا ۔ پھر میری مہربانی کیسی !
گہرے خیالوں میں کتاب ماضی سے ورق الٹ الٹ کر اس کی نظروں کے سامنے آرہے تھے۔
کہ اباجی نے اسے کیسےمحبت سے پال پوس کر بڑا کیا ۔
جب کبھی دوستوں کی محفل رات گئے جاری رہتی۔ تو باون سال عمر میں بڑا اس کا باپ رات بھر ٹہلتا رہتا۔ ماں سے کہتا تیری ہی دی گئی ڈھیل ہے جو وہ دیر تک گھر سے بھی باہر رہنے لگا ہے۔ 
جب وہ گھر کے دروازے پر دبے پاؤں پہنچتا ۔ تو ابا جی کی آواز آتی بیٹا خیریت تھی اتنی دیر لگا دی۔
پہلے سے تیار ایک نیا بہانہ سنا کر جلد کچن تک جاتا۔ ماں بھی پیچھے پیچھے وہیں آجاتی۔ سالن گرم کرتی اور ساتھ ہی کلاس شروع ہو جاتی۔ تیرے اباجی بہت غصے میں تھے ۔
مگر ماں مجھے تو کچھ نہیں کہا! 
یہی تو ان کا مسئلہ ہے۔ مجھ ہی کو سناتے رہتے ہیں کہ میرے لاڈ پیار نے بگاڑ رکھا ہےخود بھی تو کبھی کچھ نہیں کہا ۔
لیکن ماں گھر میں اکیلا کیا کروں !
قصور اس کا بھی نہیں تھا۔اس کا بڑا بھائی جو اس کا دوست بھی تھا ۔ اب اس دنیا میں نہیں رہا تھا ۔ 
تب سے اس کے بوڑھے ماں باپ تنہائی میں یاس کے چراغ جلاکر زندگی گزار رہے تھے ۔ 
محلے میں بھی اس کا ہم عمر دوست کوئی نہیں تھا۔ 8،6 سال عمر میں بڑے بھائیوں کے دوستوں سے گپ شپ کرتا ۔ اب تو ان میں سے بھی زیادہ تراپنے اپنے کام کاج میں مصروف ہو چکے تھے اور چند ایک محلے سے ہی جا چکے تھے ۔
جب ہمارا دم نکل جائے گا لوگ ہی اطلاع کریں گے تمہیں !
تنہائی کی ماری ماں کھانا اگے رکھتے ہوئے غصے سے بولی!
وہ بھی بیچاری سچی تھی۔ ایک بار تو باتھ روم گئی اور کمزوری سے چکر کھا کر وہی گر کر بیہوش ہو چکی تھی۔ کافی دیر کے بعد اسے ہوش آیا تو اپنی بیٹی کو فون کیا اور رو پڑی ۔
وہ گھرانہ اتنی اولاد اور شہر کی گہما گہمی کے باوجود بھی ایک ایسی منزل کے مسافر تھے ۔جہاں دو بوڑھے اپنی آنکھوں کی کم ہوتی روشنی کو ایک نو عمر چراغ سے وابستہ کئے ہوئے تھے۔
کھانے سے فارغ ہو کر اس نے اپنے کمرے کی راہ لی۔ گولڈلیف کے پیکٹ سے ایک سگریٹ نکال کرسلگایا اور گہرے کش لیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کل سے دیر سے گھر آنے کی عادت کو ترک کرنا ہو گا۔ 
اس نے اس کا حل بھی تلاش کر لیا دوستوں کو اپنے گھر ہی بلایا جائے۔ کیونکہ اس کا کمرہ گھر سے الگ تھلگ باہر کی طرف تھا۔ وہاں سے قہقہوں اور شور کی آوازیں بھی باہر نہیں جا سکتی تھی۔
دس کمرے،تین باتھ روم، ڈرائنگ روم، دو اطراف میں برامدے اور سو سو فٹ لمبائی کے دونوں اطراف صحن پر مشتمل گھر دو کنال پر پھیلا ہوا تھا۔
جتنا بڑا گھر تھا تنہائیاں اس گھر میں اس سے بھی زیادہ پھیلی ہو ئی تھی۔ 
دن ہفتوں میں مہینے سالوں میں بیتے جارہے تھے ۔
اس گھر کی یہی معمولات زندگی رہی!
کبھی کبھار وہ سوچتا! میرے ابا جی مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔
مگر یہ خیال ذہن سے جھٹک دیتا کہ وہ کبھی اباجی کے قریب نہیں رہا ہمیشہ کسی انجانے خوف کی وجہ سے دور دور رہتا۔ 
عمر میں باون سال کا فرق بھی دوری کا سبب تھا کیونکہ دوسری شادی سے آخری نمبر تھا اس کا ۔
سب سے زیادہ پیار تو انہیں اس سے بڑے سے تھا ۔ سولہ سال کی عمر میں وہ اس فانی دنیا سے کوچ کر گیا ۔ پینسٹھ سال کے باپ کے کندھوں پر سولہ سال کے جوان بیٹے کا جنازہ ہو تو اسے جینا کب یاد رہ جاتا ہے ۔
خوف اور جدائی کا آسیب ہر دم اسے تنہائی میں ڈراتا ہو گا ۔
سب سے عزیز بیٹا دنیا سے چلا گیا۔ ان سے بڑے بیٹےاچھے مستقبل کی تلاش میں گھر سے دور اور چند ملک سے ہی دور جا چکے تھے ۔
اب صرف یہی ایک رہ گیا تھا ۔ شائد یہی ایک خوف ہمیشہ اس کے باپ کو رہتا ہوگا کہ کہیں یہ بھی اچھے مستقبل کا خواب آنکھوں میں نہ بسا لے۔ نہ ڈانٹنے کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی تھی۔
جیسے ہی ماضی کے خیالات کا سلسلہ ٹوٹا توکچھ دیر ٹہلنے کےبعد وہ واپس لوٹ آیا ۔اب وہ کافی حد تک مطمئن تھا اور تہیہ کر چکا تھا آئندہ کوئی بھی ایسی بات زبان پر نہیں لائے گا۔ 
مگر اس کی زندگی کا سفر یونہی گزر تا تھا ۔ صبح 6 بجے، دوپہر 2 اور رات 10 بجے وہ جہاں بھی ہوتا اپنے گھر واپس لوٹ جاتا۔
پہلے تو مشکل زیادہ تھی جب سے اس نے اپنے ابا جی کوپیمپر لگانا شروع کیا بستر بھیگنے سے بچ جاتے تھے۔ 
جاب، بزنس، بیوی بچے اور مہمان داری سبھی کام اکٹھے چل رہے تھے ۔ایسی زندگی گزارنے کی اسے عادت ہو گئی تھی ۔ مہمان آتے مہمان بن کر رہتے اور چلے جاتے ۔چار دن ہنسی مذاق کے بعد پھر وہی روز کے معمولات واپس آجاتے۔
جب بھی اس کےموبائل کی گھنٹی بجتی وہ چونک جاتا ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب موبائل فون آسائش تھی، سہولت نہیں ۔ اس کے کسی بھی دوست کے پاس موبائل فون نہیں تھا ۔ اباجی کی وجہ سے اس نے کنکشن لیا تھا تاکہ ہر وقت گھر رابطہ رہ سکے۔ 
ایک روز دوستوں کی محفل میں خوش گبیوں میں مشغول تھا کہ فون کی گھنٹی بجی ۔فون کان سے لگاتے ہی وہ گھر کی طرف دوڑ پڑا ۔ 
اس کے ابا جی کو اکثر دماغ کی شریانوں میں خون صحیح نہ پہنچنے پر ایسا دورہ پڑتا کہ منہ سے جھاگ بہتی ،جسم جھٹکے لیتا۔ پھر تو دو دن تک اس کے ابا جی بالکل ڈھیلے ہو جاتے۔ کھانا پینا بہت کم ہو جاتا۔ پھر آہستہ آہستہ جسم صرف خوراک لینے کی حد تک نارمل ہو جاتا۔ لیکن آج کا دورہ بہت شدید تھا مسلسل سر اور گردن کے پٹھوں کی مالش سے فرق نہیں پڑ رہا تھا جھاگ منہ سے بہے جا رہی تھی۔
ڈاکٹر بھی ایسے مریض پر زیادہ توجہ نہیں دیتے جو زندگی کی نو دہائیوں سے اوپر جی چکا ہو اور بستر پر لیٹے لیٹے اس مریض کو چھ برس گزر چکے ہوں ۔
تیمارداری کے لئے گھر آنے والے سبھی سنیاسی نسخہ چھوڑ کر جاتے ۔مفت مشورہ دینے کے چکر میں ایک بار اس کے ابا جی نے فزیکل تھراپسٹ کے ہاتھوں بہت تکلیف اٹھائی تھی۔ بازو فزیکل تھیراپی سے ایسے پھولے کہ پھر وہ فزیکل تھراپسٹ گھر کا راستہ بھول گیا ۔
ا ب تو مشورہ دینے والے بھی خاموشی اختیار کر چکے تھے ۔عزیز رشتہ دار ہمدردی کا اظہار کرتے اور حوصلہ بندھاتے اور گھروں کو لوٹ جاتے۔
اکثروہ صحن میں تنہا سگریٹ سے دھواں چھوڑتے ہوئے ماضی میں کھو جاتا۔
بیس سال پہلے کی دوستوں کی آوازیں اس کے کانوں میں گونجتی۔
یار! تو تو خوش نصیب ہے۔ جب چاہے ملک سے باہر بھائیوں کے پاس جا سکتا ہے۔ ہمیں تو ویزہ دلانے والا کوئی نہیں۔ ہر بار سٹوڈنٹ ویزہ سے ان کو انکار ہو جاتا ۔ وہ  
 تمام دوست اس کی قسمت پر رشک کرتے مگر وہ سوچتا کہ مجھے ایسی خواہش کیوں نہیں ۔
کہانی ابھی جاری ہے باقی ماندہ کہانی تعلیمی مکتب میں پڑھئے

Advertisements