ایک ادھوری دعا

ایک ادھوری دعا

ایک ادھوری دعا

[Image: ibl8ye.jpg]

Advertisements
Increase Mental Strength with These 8 Spices

Increase Mental Strength with These 8 Spices

mental strength with cloves turmeric powder nutmeg black pepper

مسافر تو بچھڑتے ہیں

مسافر تو بچھڑتے ہیں

مسافر تو بچھڑتے ہیں

[Image: 2guy79k.jpg]

مسافر تو بچھڑتے ہیں

مسافر تو بچھڑتے ہیں

مسافر تو بچھڑتے ہیں
ونڈوز صارفین کے ایک بڑے مسئلے کا آسان حل

ونڈوز صارفین کے ایک بڑے مسئلے کا آسان حل

  1. [​IMG]
    مائیکروسافٹ ونڈوز — اے ایف پی فائل فوٹو
    ——————————————
    کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کو انسٹال کرنے کے بعد کئی ماہ کے دوران ماہانہ سیکیورٹی اپ ڈیٹس کے نتیجے میں ہارڈ ڈسک کی گنجائش ختم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔
    ونڈوز ہر سیکیورٹی اپ ڈیٹ کو اپنے اندر محفوظ رکھنے کی کوشش کرتی ہے چاہے صارف نئے نوٹیفکیشنز کو معطل بھی کردے۔
    یہ اپ ڈیٹس بیزارکن اور ڈسک کی قیمتی جگہ پر قابض ہوجاتی ہیں، تاہم اچھی بات یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل بھی آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔
    ونڈوز نے ونڈوز 7 اور ونڈوز 8 یا 8.1 میں ڈسک کلین اپ کا آپشن فراہم کیا ہے جس کے ذریعے ان اپ ڈیٹس کو نکال باہر کیا جاسکتا ہے اور ہارڈ ڈسک میں جگہ بنائی جاسکتی ہے۔
    تو اگر آپ کو بھی اس مسئلے کا سامنا ہے تو درج ذیل ہدایات آپ کے لیے بہت مددگار ثابت ہوں گی۔
    ونڈوز 7
    پہلے اسٹارٹ اور پھر سرچ پر کلک کریں اور پھر ڈسک کلین اپ ٹائپ کریں، اس پر رائٹ کلک کرکے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر رن کریں، وہاں آپ سے پوچھا جائے گا کہ آپ کس ڈرائیو کو کلین اپ کرنا چاہتے ہیں، یہ آپشن صرف آپریٹنگ سسٹم ڈرائیو کے لیے ہے تو ڈرائیو سی کا انتخاب کریں۔
    [​IMG]
    ڈسک کلین اپ اسکین اور کیلکولیٹ کرکے بتائے گی کہ اس ڈرائیو پر کس حد تک جگہ آپ کو دستیاب ہوسکتی ہے۔
    [​IMG]
    اگر آپ ڈسک کلین اپ کو ایڈمنسٹریٹر موڈ کے طور پر نہیں چلاتے تو پھر آپ کو کلین اپ سسٹم فائل بٹن کو کلک کرنا ہوگا۔
    [​IMG]
    وہ ونڈو پھر سے ایڈمنسٹریٹر موڈ کے طور پر ری لانچ ہوگی اور ونڈوز اپ ڈیٹ کلین اپ کا آپشن ہائی لائٹ ہوجائے گا تو اوکے پر کلک کریں۔

    جب آپ اوکے کلک کردیں گے تو ڈسک کلین اپ کا عمل شروع ہوجائے گا اور کمپیوٹر سے غیرضروری فائلیں صاف ہوجائیں گی، اس دوران آپ کو یہ تصویر نظر آئے گی۔
    [​IMG]
    ڈسک کلین اپ کے بعد ہوسکتا ہے آپ کو کمپیوٹر دوبارہ ری اسٹارٹ کرنا پڑے۔

    ونڈوز8/8.1
    اسٹارٹ پر کلک کرکے Cleanmgr.exe ٹائپ کریں، اس پر رائٹ کلک کریں اور ایڈمنسٹریٹر کے طور پر رن کریں۔
    [​IMG]
    آپ کے سامنے ڈرائیوز کا آپشن ہوجائے گا کہ آپ کس ڈرائیو کو صاف کرنا چاہتے ہیں تو سی ڈرائیو کو منتخب کریں، اس کے بعد فری ڈسک اسپیس کے لیے اسکیننگ شروع ہوجائے گی۔
    [​IMG]
    اسکیننگ مکمل ہونے کے بعد آپ کے سامنے یہ باکس آجائے گا ۔
    [​IMG]
    جب آپ اوکے کلک کردیں گے تو ڈسک کلین اپ تصدیق کرے گی کہ آپ منتخب فائلز کو ہمیشہ کے لیے ڈیلیٹ کرنا چاہتے ہیں۔
    [​IMG]
    ڈسک کلین اپ غیرضروری ونڈوز اپ ڈیٹ فائلز کی صفائی شروع کردے گی اور جب یہ مکمل ہوجائے تو اپنے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کو ری اسٹارٹ کرنا نہ بھولیں۔
    [​IMG]

گم شدہ فون، ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ کا کیسے سراغ لگائیں

گم شدہ فون، ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ کا کیسے سراغ لگائیں

گم شدہ فون، ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ کا کیسے سراغ لگائیں
تحریر و مصنف مصنف علمدار حسین

ایپل کی جانب سے اپنے صارفین کو “Find My Mac” نامی سروس فراہم کی جاتی ہے جس سے گم شدہ میک کمپیوٹرز کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ تاہم مائیکروسافٹ کی جانب سے ونڈوز صارفین کے لیے ایسی کوئی سہولت دستیاب نہیں۔ حتیٰ کے ونڈوز 8 پر چلنے والے ٹیبلٹس کے لیے بھی نہیں!
اگر آپ ونڈوز استعمال کرتے ہیں اور خدانخواستہ کبھی آپ کا لیپ ٹاپ چوری یا گم ہو جائے اور آپ اس کا سراغ لگانا چاہیں تو اس کے لیے تھرڈ پارٹی سافٹ ویئر انسٹال کرنا پڑتا ہے۔ اس کام کے لیے کئی پروگرام قیمتاً دستیاب ہیں تو چند بہترین مفت بھی موجود ہیں۔
زیادہ تر ایسے پروگرامز لیپ ٹاپ کے ساتھ ساتھ اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کے لیے بھی دستیاب ہوتے ہیں۔

سراغ رساں پروگرام کیسے کام کرتے ہیں

ایک گم شدہ لیپ ٹاپ یا فون کا سراغ لگانے والی تمام سروسز کے کام کرنے کا طریقہ کار تقریباً ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ اس کے لیے ایک ٹریکنگ پروگرام انسٹال کرنا پڑتا ہے، پھر اس سروس کا ایک اکاؤنٹ بنانا پڑتا ہے تاکہ ڈیوائس کی گمشدگی کے بعد آپ ان کی ویب سائٹ پر اپنے اکاؤنٹ میں لاگ اِن کر کے ڈیوائس کا مقام جان سکیں اور اسے ریموٹلی کنٹرول کر سکیں۔
ایک بات یاد رکھیں کہ اسمارٹ فونز وغیرہ کے مقابلے میں لیپ ٹاپ کا سراغ لگانا قدرے مشکل کام ہے۔ کیونکہ اسمارٹ فون کے زیادہ امکان ہوتے ہیں کہ وہ موبائل ڈیٹا یا وائی فائی کے ذریعے انٹرنیٹ سے ضرور جڑے گا، اس طرح وہ انسٹال شدہ سراغ رساں پروگرام کے سرور پر رپورٹ بھیجے گا جس سے اس کے مقام کاتعین ہو سکتا ہے۔ جبکہ لیپ ٹاپ کے بارے میں تو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کب آن ہو گا۔ آن ہو جائے تو کب اس پر انٹرنیٹ چلایا جائے گا۔ اگر اس پر انٹرنیٹ نہ چلایا گیا تو اس کا سراغ لگانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اگرچہ یہ پروگرام صارف کو ذاتی نقصان سے بچنے کے چند اضافی فیچرز ضرور دیتے ہیں لیکن پھر بھی ایک فون کے مقابلے میں لیپ ٹاپ کا سراغ لگانا کافی مشکل کام ہے۔

سراغ رساں پروگرام کے فوائد

اگرچہ ہمارے ہاں چوری شدہ لیپ ٹاپ یا ڈیوائس کا واپس ملنا تقریباً ناممکن سی بات ہے لیکن پھر بھی کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔ اگر آپ ڈیوائس کے درست مقام سے آگاہ ہو جائیں تو کافی کچھ کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ سراغ رساں پروگرام آپ کو صرف مقام ہی نہیں اور بھی کافی معلومات دیتے ہیں جیسے کہ ویب کیم یا ڈیوائس کے کیمرے سے تصاویر، ڈیسک ٹاپ کا اسکرین شاٹ، ویب براؤزنگ تفصیلات، ڈیوائس پر ٹائپ کی گئی تمام کیز۔اگر فون کی بات کی جائے تو ان پروگرامز میں کال لاگنگ اور ٹیکسٹ لاگنگ جیسے اہم فیچرز موجود ہوتے ہیں۔
اس حوالے سے مفت سروسز میں محدود فیچرز ہوتے ہیں جو کہ ایک عام صارف کے لیے کافی ہیں لیکن اگر قیمتاً دستیاب ورژن کو استعمال کیا جائے تو کئی ایڈوانس فیچرز ملتے ہیں جیسے کہ لیپ ٹاپ میں سے ریموٹلی فائلز ڈیلیٹ کرنے کی سہولت وغیرہ۔ اس کے علاوہ یہ ورژنز بالکل خفیہ موڈ میں بیک گراؤنڈ میں رہتے ہوئے کام کرتے ہیں جن سے ڈیوائس استعمال کرنے والا بالکل لاعلم رہتا ہے۔

پرے (Prey)

http://preyproject.com
پرے کی جانب سے ایک ٹریکنگ سافٹ ویئر ونڈوز، میک اور لینکس کے لیے مفت دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ پرے ایپلی کیشن اینڈروئیڈ اور آئی او ایس کے لیے بھی موجود ہے۔ یعنی ایک ہی سروس آپ اپنے لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیوائسز کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
اس سروس کے پروفیشنل پلانز بھی موجود ہیں جو کہ قیمتاً دستیاب ہیں۔ لیکن ایک عام صارف کے لیے لیپ ٹاپ یا ڈیوائس کا سراغ لگانے کے لیے صرف ٹریکنگ سروس کافی ہے جو کہ مفت ورژن میں موجود ہے۔ مفت اکاؤنٹ میں تین ڈیوائسز کنفیگر کی جا سکتی ہیں۔

پرے اسمارٹ فون ایپلی کیشن

اسمارٹ فون کو چوروں کے شر سے محفوظ رکھنے کے لیے ’’پرے‘‘ سب سے بہترین اور مکمل ایپلی کیشن مانی جاتی ہے۔ اس بات کا ثبوت آپ ایپ اسٹور میں اس کے صارفین کی تعداد سے بھی لگا سکتے ہیں۔
اس ایپلی کیشن کی انسٹالیشن کے بعد فون یا ٹیبلٹ کو ریموٹلی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ درج فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں:
جیولوکیشن کی مدد سے نقشے پر فون کے مقام سے آگاہ ہوا جا سکتا ہے۔
فون کے فرنٹ اور بیک دونوں کیمروں سے تصاویر بنائی جا سکتی ہیں۔
ڈیوائس کو کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ سے بچانے کے لیے لاک کیا جا سکتا ہے۔
فون کے سائلنٹ پر ہونے کے باوجود ایک تیز الارم بجایا جا سکتا ہے۔
فون اسکرین پر الرٹ میسج دکھایاجا سکتا ہے۔
ڈیوائس پر استعمال ہونے والے نیٹ ورک کی معلومات حاصل کی جا سکتی ہے۔

پرے سافٹ ویئر

اب بات کرتے ہیں لیپ ٹاپ کی۔ پرے پروگرام ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے اس کی ویب سائٹ پر جائیں اور اپنے آپریٹنگ سسٹم کے اعتبار سے اسے ڈاؤن لوڈ کر لیں۔ ونڈوز کے لیے دستیاب پروگرام کا سائز 5.5 ایم بی ہے۔ اس کے لیے کم از کم درکار آپریٹنگ سسٹم ونڈوز ایکس پی ہے۔
اس کی انسٹالیشن صرف چند کلکس کی متقاضی ہے۔پرے دوسروں کی دسترس سے محفوظ رکھنے کے لیے کسٹم لوکیشن پر انسٹال کیا جاتا ہے۔ آپ اسے جس ڈرائیو یا فولڈر میں چاہیں انسٹال کر سکتے ہیں۔

Prey01
انسٹالیشن کے دوران ایک آپشن پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ جہاں پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ پرے کو کھولنے کے لیے شارٹ کٹس بنانا چاہتے ہیں؟

یہاں آخر میں موجود آپشن Do not create shortcuts کے ساتھ موجود باکس میں چیک لگانے سے آپ اس پروگرام تک کسی اور کا پہنچنا مشکل بنا سکتے ہیں۔ اس طرح اگر کسی کو اس طرح کے سراغ رساں پروگرامز کے بارے میں پتا بھی ہو گا تو اس کا پرے تک پہنچنا کچھ مشکل ہو جائے گا۔

Prey02
جس فولڈر میں اسے انسٹال کیا جائے وہاں آپ دیکھیں تو آپ خود نہیں پہچان پائیں گے کہ یہ پروگرام انسٹال ہوا ہے۔ کیونکہ یہاں سامنے ایسی کوئی فائلز موجود نہیں ہوتیں جس سے کوئی اس کے بارے میں اندازہ کر سکے۔

اس کا موجودہ ورژن 0.6.4 ہے۔ اس کی انسٹالیشن کے بعد جب پرے کی ویب سائٹ پر اپنے سسٹم کی رپورٹس دیکھنے کے لیے جائیں تو یہ تازہ ورژن انسٹال کرنے کا کہتا ہے۔ تازہ ورژن فی الحال بے ٹا ہے لیکن آپ کو انسٹال کرنا ہو گا جو کہ ورژن 1.0.8 ہے اور اس کا سائز 5.7 ایم بی ہے۔ یہ ورژن ڈاؤن لوڈ کر کے انسٹال کریں تو یہ پہلے موجود ورژن کو اپ گریڈ کر دیتا ہے۔
انسٹالیشن مکمل ہوتے ہی نیا پرے یوزر اکاؤنٹ بنانے کا کہا جاتا ہے۔ قوی امید ہے کہ آپ کے پاس پہلے سے اس کا اکاؤنٹ نہیں ہو گا اس لیے New user کے ریڈیو بٹن پر چیک لگاتے ہوئے Next کے بٹن پر کلک کر دیں۔

Prey03
اگر آپ کو اکاؤنٹ بنانے میں کوئی مسئلہ ہو تو اس کی ویب سائٹ پر جا کر بھی مفت اکاؤنٹ بنایا جا سکتا ہے۔

Prey04
اکاؤنٹ بنانے کے بعد جیسے ہی پرے میں لاگ اِن کریں یہ فوراً کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ پرے بطور ونڈوز سروس چلتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بیک گراؤنڈ میں چلتا ہے، ٹاسک بار یا نوٹی فکیشن ایریا میں اس کا کوئی آئی کن موجود نہیں ہوتا کہ جس سے معلوم ہو کہ یہ چل رہا ہے۔

اگر آپ اسے کنفیگر کرنا چاہیں اس کی انسٹالیشن ڈائریکٹری میں پلیٹ فارم فولڈر کے اندر موجود ونڈوز کے فولڈر میں آ کر prey-config.exe فائل کو چلائیں۔
Options for Execution کے آپشن میں آ کر رپورٹس اور ایکشنز کی فریکوئنسی سیٹ کی جا سکتی ہے کہ لیپ ٹاپ گم ہو جائے تو ہر کتنے دورانیے کے بعد یہ سرور کو رپورٹ کرے۔
اس کے علاوہ آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں کہ پرے کو بطور ونڈوز سروس چلنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس طرح یہ کمپیوٹر کے چلتے ہی خود بخود چل جاتا ہے اور اسے روکنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

گم شدہ لیپ ٹاپ ٹریک کریں

پرے کی انسٹالیشن و کنفگریشن مکمل ہو جانے کے بعد اب مرحلہ آتا ہے کہ ایک گم شدہ لیپ ٹاپ کو اس کی مدد سے کیسے ٹریک کریں۔
اس کام کے لیے پرے پروجیکٹ کی ویب سائٹ پر جا کر لاگ اِن ہو جائیں۔
panel.preyproject.com
لاگ اِن ہونے کے لیے وہی تفصیلات استعمال کریں جو آپ نے پرے کو انسٹال کرنے کے بعد نیا اکاؤنٹ بنا کر حاصل کی تھیں۔
لاگ ان ہونے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ لیپ ٹاپ یا دیگر ڈیوائسز جو آپ نے اس میں شامل کی تھیں وہ یہاں موجود ہوں گی۔

Prey05
اگر آپ کا لیپ ٹاپ گم ہو چکا ہے تو پرے کنٹرول پینل میں موجود اس کے نام پر کلک کریں۔ اگلے پیج پر Locate Device اور My device is missing کے بٹنز موجود ہیں۔ اگر آپ ڈیوائس کے مقام سے آگاہ ہونا چاہتے ہیں تو پہلے بٹن پر کلک کریں۔ اگر آپ کا لیپ ٹاپ گم یا چوری ہو چکا ہے تو ’’مائی ڈیوائس از مسنگ‘‘ کا آپشن استعمال کریں۔

Prey06
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ پرے صرف ڈیوائس کے گم شدہ ہونے کی صورت میں اس کے مقام کو ٹریک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یعنی یہ ہر وقت لیپ ٹاپ یا ڈیوائس کو ٹریک نہیں کر رہا ہوتا۔ جب آپ اسے گم شدہ یعنی Missing رپورٹ کرتے ہیں تبھی یہ اس کا سراغ لگانے کی کوششیں شروع کر دیتا ہے۔
اس کے علاوہ بھی پرے کے ذریعے چند ایکشنز استعمال کیے جا سکتے ہیں جیسے کہ الارم، میسج اور لاک۔

Prey07

الارم

الارم اس صورت میں کارآمد ہے جب آپ کی ڈیوائس یا لیپ ٹاپ قریب ہی کہیں موجود ہو۔ اس طرح بجنے والا الارم سن کر آپ اس کے مقام سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔ فون کے مقابلے میں لیپ ٹاپ کو الارم بھیجنا زیادہ کارآمد نہیں ہوتا کیونکہ الارم بجانے کی ہدایت موصول کرنے کے لیے لیپ ٹاپ کا آن اور انٹرنیٹ سے جُڑا ہونا ضروری ہے۔
اگر الارم کا آپشن استعمال کریں تو یہ لیپ ٹاپ اسپیکرز کی پوری قوت سے ایک ساؤنڈ تیس سیکنڈ کے لیے بجاتا ہے۔ الارم میں مختلف ساؤنڈز جیسے کہ سائرن وغیرہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

Prey08

پیغام بھیجیں

Send message کے آپشن پر کلک کر کے آپ کوئی بھی پیغام بھیج سکتے ہیں جیسے کہ اپنا ای میل ایڈریس یا فون نمبر کہ اس کے ذریعے آپ سے رابطہ کر کے ڈیوائس واپس پہنچائی جا سکے۔

Prey09
پیغام محفوظ کر لیا جاتا ہے اور لیپ ٹاپ کے انٹرنیٹ سے جڑتے ہی پرے آپ کا پیغام کمپیوٹر استعمال کرنے والے کو پہنچا دیتا ہے۔

Prey09-2

لاک

ڈیوائس کو لاک کرنے کا آپشن بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لاک کرنے کا حکم صادر کرتے ہوئے آپ کو ایک پاس ورڈ بھی دینا ہوتا ہے کہ جب تک یہ پاس ورڈ نہ دیا جائے سسٹم اَن لاک نہ ہو۔

Prey10
لاک کرنے کا آپشن بہت اچھے طریقے سے کام کرتا ہے۔ جیسے ہی سسٹم پر موجود پرے کو سسٹم لاک کرنے کا حکم ملتا ہے سسٹم لاک ہو جاتا ہے۔ ایک کالی اسکرین سامنے آجاتی ہے جس پر پاس ورڈ ٹائپ کرنے کی فیلڈ موجود ہوتی ہے۔ جب تک درست پاس ورڈ نہ ٹائپ کریں سسٹم اَن لاک نہیں ہوتا۔
یہ لاک کافی مضبوط ہوتا ہے یعنی ٹاسک منیجر یا کنٹرول آلٹر ڈیلیٹ وغیرہ سے اس کا توڑ نہیں کیا جا سکتا۔

Prey10-2

ڈیوائس کی تلاش

لیپ ٹاپ کو گم شدہ قرار یعنی My device is missing کے بٹن پر کلک کرتے ہی پرے رپورٹس جمع کرنے کا کام شروع کر دیتا ہے۔ جیسے ہی لیپ ٹاپ پر انٹرنیٹ چلے گا، پرے سافٹ ویئر اپنے سرور سے رابطہ کر کے اپنے لیے دستیاب ہدایات کے بارے میں جانے گا۔ جب اسے پیغام ملے گا کہ لیپ ٹاپ کو گم شدہ قرار دے دیا گیا ہے یہ فوراً رپورٹ بنانے کا کام شروع کر دے گا۔
آپ کو ایک دفعہ پھر بتا دیں کہ رپورٹ اسی صورت میں موصول ہو گی جب لیپ ٹاپ آن ہو گا، اس پر انٹرنیٹ چل رہا ہو گا اور پرے بدستور اس پر انسٹال ہو گا۔
پرے کے خریدے گئے ورژن میں یہ سہولت دستیاب ہے کہ جب چاہیں رپورٹ حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ مفت ورژن میں رپورٹ کے لیے درخواست کی جاتی ہے جس کے موصول ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، لیکن رپورٹ ملتی ضرور ہے اس لیے مفت ورژن استعمال کرتے ہوئے بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
جیسے ہی رپورٹ موصول ہو گی آپ کو بذریعہ ای میل آگاہ کر دیا جائے گا۔ ای میل میں رپورٹ کا لنک بھی موجود ہو گا۔ اس کے علاوہ آپ کے پرے اکاؤنٹ میں الرٹ موجود ہو گا کہ رپورٹ آ چکی ہے۔ رپورٹ میں آپ کی ہدایت کے مطابق معلومات موجود ہو گی مثلاً لیپ ٹاپ کا جیوگرافک مقام، نیٹ ورک اسٹیٹس، آئی پی ایڈریس، کمپیوٹر کے ڈیسک ٹاپ کا اسکرین شاٹ اور ویب کیم کے ذریعے کمپیوٹر استعمال کرنے والے کی تصویر۔

Prey11-2
آپ کے مقرر کردہ دورانیے جیسے کہ ہر پانچ منٹ بعد ایک رپورٹ بنانے کا کام شروع ہو جائے گا اور انٹرنیٹ دستیاب ہونے کی صورت میں آپ کو فوراً رپورٹس مل جائیں گی۔ ان رپورٹس میں سب سے دلچسپ چیز ڈیسک ٹاپ کا اسکرین شاٹ اور لیپ ٹاپ استعمال کرنے والے کی ویب کیم سے بننے والی تصویریں ہوتی ہیں۔ جبکہ باقی معلومات بھی بہت اہم ہوتی ہے۔
پرے اسی پر بس نہیں کرتا بلکہ جب تک آپ رپورٹس کو بند نہیں کرتے یہ مسلسل ڈیوائس سے رپورٹس حاصل کرتا رہتا ہے جو کہ ڈیوائس تک پہنچنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

ایک گم شدہ لیپ ٹاپ کا سراغ حاصل کرنے کے لیے یہ معلومات کافی حد تک مددگار ہو سکتی ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ آپ تھوڑی سی تگ و دو کے بعد لیپ ٹاپ کا نہ صرف سراغ لگانے کے قابل ہو جائیں گے بلکہ اسے واپس بھی حاصل کر سکیں گے۔
جب آپ کی گمشدہ ڈیوائس بازیاب ہو جائے تو Device Recovered کے بٹن پر کلک کر کے پرے کو مزید رپورٹس جمع کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔
اگر آپ لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہیں تو یقیناً یہ آپ کے لیے ایک قیمتی اثاثے سے کم نہیں ہو گا۔ اس لیے اس کی حفاظت کے لیے ایسے سکیوریٹی پروگرامز ضرور استعمال کریں۔ یہاں LoJack for Laptops کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ اگرچہ یہ ایک قیمتاً دستیاب پروگرام ہے لیکن اسے خریدنا کسی بھی طرح گھاٹے کا سودا نہیں کیونکہ یہ لیپ ٹاپ کی بایوس میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس طرح اسے ڈیلیٹ کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فونز کے لیے یہ پروگرام 15ڈالر سالانہ کے عوض دستیاب ہے۔ مزید تفصیل کے لیے اس کی ویب سائٹ ملاحظہ کیجیے:
http://lojack.absolute.com

Youm-e-wafat Sir Allama Muhammad Iqbal

Youm-e-wafat Sir Allama Muhammad Iqbal



Kehtay hain kuch log aise hain jo zamanay kay pechay bhagtay hain. Lekin kuch hastiyan aisi bhi guzri hain jin kay pechay zamanay bhagtay hain. Aur beshak sitaron kay uss groh ka sab se chamkdaar sitara Shaair-e-Mashriq Allama Mohammad Iqbal hain. Woh aik hasti jis ne hazaron ki zindagiyan badal dein. Woh aik rehnuma, jin ki qayadat nay qoum ki taqdeer badal daali. Woh aik falsafi jin kay falsafay ne inqilaab barpa kar diya. Woh aik shaiyr jin ke alfaaz ne bay-jaan ruhon mein zindagi phoonk di. Sochnay ki baat hai woh aik Insan jis ne itna kuch kar diya aj hamari zindagiyon se uska peghaam kiyun mit gya? Kiyon hum ne uss qaaid ka diya hoa sabak bhula diya jin ki rehnumai ne hamain azadi kay roshan suraj se roshnaas karaya?

Ham manatay hain Iqbal ki saalgirah , unka youm-e-wafat lekin ajj hum asli mano’on mein bhulay hain tou sirf uss hasti ka woh pegham jo unhon ne diya apni qoum ki kamiyabi ki khatir. Hamaray roshan mustakbil ke liye. Kehtay hain jo qoumain apnay rehnumaon ko bhool jati hain zawal unhi ka muqaddar hota hai. Aj hum mein se hazaron yeh jantay hain kay Iqbal ka youm-e-wafat ya salgirah kab hai. Unki shaiyri kesi thi aur konsi kitabain hain. Roz marra zindagi mein unke asha’ar ka baqaida istemal bhi kartay hain. Hum mein se hazaron Iqbal ko “Rouhani Rehnuma” samajhtay hain. Unkay asha’ar zubani yaad hain. Lekin unke alfaz ka asli matlab sirf chand logon ko maloom hai. Hum mein say kafi log jantay hain Iqbal ka ”Falsafa-e-Khudi”. Lekin “Khudi mein doob ja ghafil yeh sirray zindagani hai” ka matlab, shayed hi kisi ko pata ho. Yeh intihaai tashveesh ki baat hai kay jahan Iqbal ka pegham radio progammes mein chala kar bachon ko sunaya jata tha. Jahan har aik ghar mein Iqbal ka shaydaai moujood hain. Aj uski Iqbal ka kaalam hamari nisaabi kitabon se mit raha hai. Aj usi Iqbal ka sabak hamaray zehno se kharij ho chuka. Iqbal ka woh azeem naa’ra , woh anmol alfaz, jin ki badolat Hindustan ki musibat zaada musalman abadi ko azadi ka roshan suraj dekhna naseeb hova, aj hamari yaad ka hissa bhi nahi hain. Hairat ki baat hai kay jis hasti nay masharti, mazhabi, siyasi aur har dosray maidan mein apna naqsh chora. Jin ke anmol khayalat ne Pakistan jesay mulk ko maariz-e-vajood mein lanay ka ma’arka sar anjaam diya. Jin ki ” lab pe aati hai dua ban kar tamanna meri” kal tak hamari subah ki dua hoa karti thi. Aj hum os hasti ka diya hoa har aik sabak bhool chukay hain.

Sirf Iqbal kai asha’ar yaad karna hi unka pegham samajhna nahi hai. Aj hum unka kalam khush ilhani se gaa letay hain magar hum nahi jantay kat “Ya Rab Dil-e-Muslim ko woh zinda tamanna de” ka asli matlab kiya hai. Hum nahi jantay kay “Khudi na baich fakeeri main naam peda kar” kissay kehtay hain. Humain nahi pata kay “Momin sirf ehkaam-e-ilahi ka hai paband” kai kiya maa’ani hain. Yeh baat qabil-e-zikar hai magar qabil-e-fakhar nahin kay ham Iqbal ki hasti aur un kay kaam ko kharaj-e-aqeedat tou paish kartey. Unka kalam bohat shouk se parhtey hain. Unka falsafa bohat chaah se suntay hain. Lekin hamain ma’aloom nahin kay unke alfaaz kay peechay paigham kiya hai. Hamain khabar nahi tou is baat ki kay unka kalam asal mein hai kia. Unki shaiyrie, unka falsafa, unki soch, unke khayalat.. Yeh sab haqeeqatan kia hain? In ka asal matlab kiya hai? Hum kis tarah unka paigham apni zindagiyon mein daaal saktay hain? Unke diye hoye nazarye par amal paira ho kar kesay apna mustakbil sanvaar saktay hain? Humain khabar nahi hai sirf is baat ki kay 1947 mein jis hasti ki soch aur kavishon ki badoulat hamara mulk azad hova. Un ki soch ko aj 21 saddi mein kis tarah apni zindagiyon mein daal kar taraqqi ki manazil taiy karain?

Aj zarorat hai tou sirf is amar ki kay hum Iqbal kay falsafay, unke kalam aur unke khayalat ko samjhein. Unke paigham ki khoj kar ke osay janain. Aur apni zindagiyon mein amli tor par osay daal kar behtar mustaqbil kay liye koshish karain.

اردو ڈیزائن پویٹری آتے آتے یونہی

اردو ڈیزائن پویٹری آتے آتے یونہی