ایک وجود دوحیرتوں کا مجموعہ -زلف و زنجیر

ایک وجود دوحیرتوں کا مجموعہ -زلف و زنجیر

ایک وجود دوحیرتوں کا مجموعہ -زلف و زنجیر
معراج النبی ﷺ کے موضوع پر تحریر
زیرِ نظر مضمون معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر بے مثال تحریر ہے، جس میں الفاظ کے چناؤ اور واقعے سے لگاؤ کا اندازہ ہرذی شعور کرسکتا ہے،
یہ تحریر رئیس القلم حضرت علامہ مولانا ارشد القادری کے رشحاتِ قلم میں سے ہے
آپ بھی عشق کے انداز میں ڈوب کر پڑھیے​
ایک وجود دوحیرتوں کا مجموع:
رجب كى26ويں تاريخ تھى۔ رات كے گيسو هر طرف بكھرے ہوئے تھے۔ مکے کی ساری آبادی محو خواب تھی۔ تاروں کی چھاؤں میں کائنات کا مرکز آج ام ہانی کے گھر میں منتقل ہوگیا تھا۔
درو دیوار سے حبیبِ کبریا ﷺ کے جلوہ کی روشنی پھوٹی پڑ رہی تھی
رات کا محافظ دستہ عالمِ بالا سے فرشِ گیتی کے لیے چلنا ہی چاہتا تھا کہ حجابِ عظمت سے آواز آئی
’’عرش کی قندیلوں کی روشنی تیز کردی جائے۔ جنتوں کی کائنات نئے ڈھنگ سےآراستہ کی جائے۔ قدم قدم پر تجلیات کی شمعیں روشن کردی جائیں۔ روش روش پر بہاروں کا خزانہ بکھیر دیا جائے۔ کوثر و تسنیم کی سعید موجوں پَر نور کی کرن بچھا دی جائے۔ حورانِ بہشت حسن مجرد کے شفاف آبگینوں سے حجابات کے پیراہن اتارد یں۔ ملکو تِ اعلیٰ کے تمام فرشتے اپنے اپنے آسمانوں پر قطار اندر کھڑے ہوجائیں۔ افلاک کے تمام سیارے ٹھہر جائیں۔ وقت کا قافلہ رُک جائے۔ خیر مقدم کے لئے پیغمبرانِ اولوالعزم آسمان کی گزر گاہوں پر کھڑے ہوجائیں۔ فرشِ گیتی سے بہ ہزاراں جاہ وجلال آج میرا حبیب یہاں تشریف لارہا ہے۔ وہی حبیب جو میرے دستِ قدرت کا نقشِ اول ہے۔ جسے میں نے اپنی ساری کائنات کا مختارِ عام بنادیا۔‘‘
یہ فرمان سنتے ہی عالم قدس میں نورانی مسرتوں کا ایک سماں بندھ گیا۔ چشمِ زدن میں عالمِ بالا کا نقشہ بدل گیا۔ جنت کی سمٹی ہوئی بہاریں فضائے پُرنور پر چھا گئیں۔ آسمان ، صحراؤں پر تجلیات کے آئینے نصب کردیے گئےاور نوری کرنوں کا اعلان عرش کے بام و در پر چڑھا دیا گیا۔مہتابی کنگروں پر پرچمِ کبریائی اس شان سے اڑایا گیا کہ سطوتِ جلال سے عرش کا پایہ ہل گیا۔ جنتوں کی سرزمین پر بہاروں نے پھول برسائے، نظاروں نے منہ چوما، گل ریز تبسم نے موتی لُٹائے۔ حسن بے نقاب نے چراغاں روشن کیا ۔ روش روش نکھر گئی، چمن چمن سنور گیااور شبابِ نور کے نئے پیکر میں جگمگاتی ہوئی حوریں قطار باندھ کر ہرطرف کھڑی ہوگئیں۔ دم کے دم میں قدم کا عالم لطیف بن کر سنور کر آراستہ ہوگیا۔اتنے میں آسمانی دنیا کادروازہ کھلا ۔ تجلیات کے جلو میں حضرت ِ جبرائیل علیہ السلام آگے بڑھے ۔ فضائے نور میں تیرنے والا براق نام کا ایک سیارہ آج ان کے ہمراہ تھا۔ آسمان کی بلندیوں سے اُتر کر سیدھے وہ مکے میں حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مکان پر تشریف لائے۔ آج ان کےآنے کا انداز ہمیشہ سے نرالا تھا۔ دروازے کے بجائے مکان کی چھت توڑ کر اندر داخل ہوئے۔
حبیبِ کبریا ﷺ محوِ خواب تھے۔ آنکھیں بند تھیں۔دل جاگ رہا تھا۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام آگے بڑھے اور اپنے کافوری لبوں کو محبوب ﷺ کے پائے ناز سے مس کردیا۔ ٹھنڈک محسوس ہوتے ہی نشانِ قُدرت کی نرگسی آنکھیں کھل گئیں۔ دریافت فرمایا:’’جبرائیل !کیسے آنا ہوا؟‘‘
سفیرِ غیب نے جواب دیا:’’خدائے برتر کی طرف سے حریمِ عظمت پر تشریف ارزانی کا پروانہ لے کر حاضر ہوا ہوں۔ سارا عالم قدم بچھڑے ہوئے محبوب کے لئے چشم براہ ہے۔ وہ سرحد تجلیات جہاں وہم و خیال کے پر جلتے ہیں۔ جہاں ملکوتِ اعلیٰ تک کی رسائی ناممکن ہے ۔ آج وہاں آپ کو اسی لباسِ بشر میں خرامِ ناز فرمانے کی دعوت دی گئی ہے۔ حضور تشریف لے چلیں۔ زمین سے لے کر آسمان تک ساری گزرگاہوں پر امیدوں کا ہجوم ہاتھ باندھے کھڑاہے۔
چند ہی لمحے کے بعد خاکدانِ گیتی کا ایک بشر براق پر سوار ہوکر اس شان سے عالمِ قدس کی طرف روانہ ہوا کہ ملکوتِ ا علیٰ کے مرسلین نیاز مند غلاموں کی طرح رکاب تھامے ہوئے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔
مسجد اقصیٰ میں انبیاء سابقین علیھم السلام کی ساری جماعتیں عقیدتوں کا خراج لئے حاضر تھیں، سرکار ﷺ کی اقتداء میں نماز اداکرکے سب کی امامت ِکبریا کے منصب کے ساتھ اپنی نیاز مندی کا کھلا ہوا اعلان کیا۔ وہاں سےفارغ ہوکر حضور ﷺ آسمان کی طرف چلے ۔ گزرگاہوں پر خیر مقدم کے لئے پیغمبرانِ اولو العزم کھڑے تھ۔ ہر جگہ قدسیوں کے بیڑے سلامی کے لئے جھکے ہوئے تھے۔ عرشِ الٰہی کی مانوس فضا میں داخل ہوتے ہی بیتے دنوں کی یاد تازہ ہوگئی۔ قدم پڑتے ہی عرش کا دل خوشی سے جھوم اُٹھا۔ پھر وہاں سے آگے بڑھتے رہے،بڑھتےرہے۔ عالمِ ملکوت بھی پیچھے رہ گیا۔ پھر بڑھے، بڑھتے بڑھتے اب وہاں پہنچے جہاں کی خبر کسی کو نہیں معلوم۔ ایک محبوب اپنے محب سے ، ایک بندہ اپنے معبود سے کس طرح ملا؟ پائیگاہِ شہنشہی سے محبوب کو کیا خلعتیں عطا ہوئیں۔ یہ ساری تفصیلات صیغہ راز میں ہیں۔
صبح ہوئی تو سارے مکے میں شور برپا تھا۔ اہل یقین و خرد ،خداکو دیکھنے والی آنکھوں پر نثار ہوگئے۔ لیکن نادانوں نے کہا:’’ایک بشر کےلئے عالمِ بالا کاسفر ممکن ہی نہیں ہے، یہ ساری کہانی من گھڑت ہے، حیرت ہے ایک پیغمبر کی زبان سے اس طرح کی انہونی بات سننے میں آرہی ہے‘‘
خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے چند فرشتے یہ باتیں سن رہے تھے۔ انہوں نے آپس میں کہا:’’تمہیں وہ رات یاد ہوگی۔جس کی صبح کو عبداللہ کے آنگن میں نور کی بارش ہورہی تھی، زمین سے آسمان تک ہر عالم میں رحمت و مسرت کا جشن منایا گیا تھا۔ اور مکے کی ساری فضا فرشتوں کے پیروں سے چُھپ گئی تھی۔اس موقع پر جب یہ معلوم ہوا کہ یہ سارا اہتمام محمد ﷺ کی تشریف آوری پر ہورہا ہے تو کچھ فرشتوں کو کتنی حیرت ہوئی تھی کہ عالمِ قدس کا پروردہ ناز اس ظلمت کدہ خراب میں کیونکر تشریف لاسکتا ہے؟ اور آج جب وہ اپنی مانوس دنیا کی طرف چند لمحے کے لئے واپس تشریف لے گئے تو بنی نوعِ انسان کے یہ نادان افراد حیرت سے واقعہ کا انکار کررہے ہیں۔ حالانکہ دونوں جہاں اسی واقعہ پر گواہ ہیں۔‘‘
’’محمد ﷺ کی یہ شان بھی عجیب ہے کہ وہ یہاں آئیں تو فرشتوں کو حیرت اور یہاں سے جائیں تو انسانوں کو حیرت۔ ان کی ذات حیرتوں کا مجموعہ ہے۔‘‘جمالِ یار کی زیبائیاں ادا نہ ہوئیں​ہزار کام لیا میں نے خوش بیانی سے​
عرشِ الہٰی کے سایہ میں مقربین سرجھکائے کھڑے تھے ۔ حجاب عظمت سےآواز آئی:’’ملاءِ اعلیٰ کے تمام فرشتے آج کی رات میں جمع ہوجائیں۔ وہیں جہاں ہمارے جلال وجبروت کا گھر ہے ، جو اہلِ زمین کا قبلۂ عبادت ہے۔ آج باعثِ ایجادِ عالم کا ظہور ہونےوالا ہے۔ مشرق ومغرب، بحر و براور تمام اقطارِ ارضی میں منادی کردی جائے کہ کونین کا تاجدار آرہا ہے۔ اس کے خیر مقدم کے لئے اپنی نگاہوں کا فرش بچھائے رکھئے۔ مکہ کی وادیوں ، ام القریٰ کے کہساروں اور حرم کے بام ودر پر چمنستانِ فردوس کی بہاروں کا غلاف چڑھا دیا جائے۔ سیارہ افلاک کے پہرہ داروں سے کہہ دو کہ اس وقت آج آفتاب کے چہرے سے نقاب اُٹھائیں جب تک خسروِ کائنات کی طلعت ِ زیبا سےخاکدانِ گیتی کا ذرہ ذرہ منور نہ ہوجائے۔ستاروں کی انجمن میں اعلان کردو کہ آج کی رات کے پچھلے پہر اپنی مجلس ِ شبینہ برخاست کرکے فرشِ زمین پر اترتے رہیں۔ ‘‘صبح ہونے سے پہلے پہلےکنگرہ عرش سے لیکر گل کدہ فردوس تک کی ساری زیبائیاں وادی حرم میں سمٹ کرآگئیں
جیسے ہی صبحِ صادق کا اجالا چمکا ۔مکہ کی فضا ء، رحمت و انوار سے بھر گئی۔ نقیبوں کی صداؤں سے دشت و جبل گونج اٹھے۔گلی گلی حورانِ خلد کے آنچلوں کی خوشبو سے معطر ہوگئی
جبرائیل امین علیہ السلام ایک سبز پرچم لے کر خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ گئےاور حضورِ شاہی میں سلامی پیش کی
الصلوٰۃ والسلام یا محمدﷺ،​
الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہﷺ،​
الصلوٰۃ والسلام علیک یا حبیب اللہﷺ​
اس صدائے سلام و تہنیت پر تمام ملائکہ سرو قد کھڑے ہوگئے۔ حرم کی جُھکی ہوئی دیواریں ایستاد ہ ہوگئیں۔ امیر کشورِ نبوت ﷺ کی سواری اس دھوم سے آئی کہ صدائے مرحبا سے اکنافِ عالم گونج اُٹھے۔حضرت ِ روح الامین کی زبان سے جائے محمد ﷺ کا مژدہ سن کر ایک فرشتہ نے دبی زبان میں اپنے ساتھیوں سے کہا:’’تم لوگ جانتے ہو کہ محمد ﷺ کون ہیں ؟ جن کی آمد پر زمین سے لے کر آسمان تک اتنا کرو احتشام اور شکوہ جلال کا ایک عالم آباد ہوگیا۔‘‘
ساتھیوں نے جواب دیا:’’اس کائنات میں کون سی مخلوق ہے جو محمد ﷺ کو نہیں جانتی۔ عرش کی چھاؤں میں لاکھوں برس بیت گئے اور تمہیں اب تک معلوم نہ ہو سکا کہ محمد ﷺ کون ہیں، بڑے تعجب کی بات ہے۔‘‘
فرشتہ نے کہا:’’وہ محمد ﷺ جن کا نام عرشِ الہٰی کے بام ودر پر کندہ ہے اور جس کے نور سے ہماری پیشانیاں تاباں ہیں۔ بھلا انہیں کون نہیں جانتا ، بلکہ وہ تو چراغِ انجمن ہیں۔ معاذاللہ یہ بات بھی پوچھنے ککی تھی۔‘‘
فرشتے نے جواب دیا:’’پوچھنے کی وجہ حیرت ہے اور وہ محتاج ِ بیان نہیں۔ تم ہی سوچو ! وہ محمد ﷺ ، نورِ مجرد سے جن کا عُنصُر تیا رہوا اور کنز مخفی میں جن کی نشوونما ہوئی اور اب جس کے دم سے نورانیوں کا عالم آباد ہے۔ وہ دیارِ نور ہے ۔ اس جہانِ تاریک میں کیونکر آسکتے ہیں۔ آخر ہم کیسے باور کر لیں کہ وہ محمد ﷺ کہ جن کے رُخ کی روشنی میں ہم نے لوحِ محفوظ کے کئی نوشتے پاتے ہیں وہ یہاں آگئے۔ کیا عرش کی قندیلیں بے نور ہوگئیں۔ یا کرہ ارض ،جو کائنات کا سب سے نچلا طبقہ ہے اورمحمد ﷺ ، کہ جس کے قدم کے قریب عالم ِ امکان کی بلندیا ں ختم ہوجاتی ہیں، دونوں میں کیا جوڑ ہے۔ عالمِ نور کا پروردہ ناز اس ظلمت کدہ خراب میں! آخر کیسے یقین آسکتاہے؟‘‘

ساتھیوں نے جواب دیا :’’ویسے بات تو واقعی حیرت انگیز ہے۔ لیکن غلط نہیں ۔ یقین کرو ، ان کی تشریف آوری امر واقعہ ہے۔ وہ نہ آتے تو اتنا اہتمام کس لئے ہوتا؟‘‘

حضرتِ روحُ الامین علیہ السلام کعبہ کی چھت پر کھڑے کھڑے یہ گفتگو سُن رہے تھے ۔
انہوں نے فیصلہ کن انداز میں کہا:’’آخر اس میں بحث و تکرار کی کونسی بات ہے۔
ہاں وہی محمد ﷺ تشریف لائے ہیں جو مسند نشین ِ عرش ہیں۔ لیکن یقین نہ آنے کی وجہ؟ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ کہ خدائے ذوالجلال نے عرش و فرش کی مملکت انہیں بخش دی ہے۔
ایوانِ شاہی کا شکوہِ جلا ل مسلم ! مگر مملکت کی سوداگر آبادیوں میں قدم رنجہ فرمانا عظمتِ شاہی کے خلاف کب ہے؟ اب تک ملاءِ اعلیٰ مرکزِ توجہ تھا ۔ اور اب خاکدانِ گیتی کا طالعِ قسمت اوج پر ہے۔ اب تک یہ شمع تجلیِٔ عرش کی انجمن میں فروزاں تھی۔ اب فرش کا شبستان روشن ہوگیا۔
اور تمھارا یہ استعجاب کہ عالمِ نور کا لطیف پیکر ظلمت کدہ میں کیوں کر آسکتا ہے؟ خود باعثِ تعجب ہے۔
دور کیوں جاؤ، اپنا ہی حال دیکھ لو۔ یہ لطیف پیکر اسی وقت کس عالَم میں ہے، عالمِ گیتی کی عمر کے لحاظ سے ابھی چند ہی صدیوں کی تو بات ہے۔ جب محکمۂِ اجل کے فرشتےانسانوں کی روح قبض کرنے بشر کے مثالِ پیکر میں یہاں آتے تھے۔
میں خود حضرت مسیح علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی روح پھونکنے جب حضرت مریم رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تھا تو میرا مثالِ پیکر ایک بشر ہی کا تھا۔
اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے کافی مواد موجود ہے۔ کہ عالم ِ قدس سے کسی نوری مخلوق کا بشری لباس میں آنا یہاں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں بلکہ قطعاً واقع بھی ہے

Advertisements