اللہ کی کتاب سے انٹرویو

اللہ کی کتاب سے انٹرویو

اللہ کی کتاب سے انٹرویو

جاننا انسان کا بنیادی حق ہے۔ آج کے دور میں صحیح معلومات تک رسائی بے حد ضروری ہے۔ کیوں نہ ہم اپنے من میں اٹھنے والے ایسے سوالات جو زندگی بسر کرنے کے لیے بے حد اہم ہیں‘ انسانوں کے بجائے اللہ کی کتاب سے دریافت کریں؟ قرآن پاک میں رہتی دنیا تک کے واسطے ہدایت اور راہنمائی موجود ہے۔

س: کیا انسان کے علاوہ مخلوقات بھی ربِ کائنات کی تسبیح کرتی ہیں؟
ج:’’کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جو مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہیں، سب اللہ کی تسبیح کرتی ہیں اور پَر پھیلائے ہوئے پرندے بھی۔ ان میں سے ہر ایک کو اپنی نماز اور تسبیح کا علم ہے اور اللہ کو ان کے اعمال کا بخوبی علم ہے۔‘‘
(سورۂ نور۔۴۱)

س: کیا دوسری مخلوقات کی تسبیح کو ہم سمجھ سکتے ہیں؟
ج: ’’اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی ثنا میں تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں۔‘‘
(سورۂ احقاف:۳۹،۳۸)

س: ہمیں اپنی نماز کس طرح پڑھنی چاہیے؟
ج: ’’اور آپ اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھیں، نہ بہت آہستہ بلکہ درمیانی راستہ اختیار کریں۔‘‘
(سورۂ بنی اسرائیل:۱۱۰)

س: کیا اللہ کے علاوہ بھی کوئی معبود ہے؟
ج: ’’وہ مشرق اور مغرب کا رب ہے‘ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ لہٰذا اسی کو اپنا ضامن بنا لیجیے۔‘‘
(سورۂ مزمل: ۰۹)

س: ہمیں کس کی اطاعت کرنی چاہیے؟
ج: ’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسولﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال ضائع نہ کرو۔‘‘
(سورۂ محمدؐ:۳۳)

س: نبی اکرمﷺ کو کن لوگوں کے لیے بشارت دینے کا حکم ہوا؟
ج: ’’اے رسولﷺ! میرے اُن بندوں کو بشارت دے دیجیے جو ہر بات سنتے ہیں لیکن ان میں سے بہترین اور احسن کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں اور یہی صاحبان عقل ۔‘‘
(سورۂ الزمر: ۱۸،۱۷)

س: ہمارا نام مسلمان کس نے رکھا؟
ج: ’’یہ تمھارے باپ ابراہیم کا دین ہے، اسی نے تمھارا نام مسلمان رکھا ہے۔‘‘ (سورہ ٔالحج:۷۸)

س: قرآن مجید کن لوگوں کے لیے ہدایت ہے؟
ج: ’’یہ (قرآن) ہدایت ہے۔ پرہیز گاروں کے لیے جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز قائم کرتے ہیں۔ اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے‘ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (سورۂ البقرہ:۲۔۱)

س: ہماری سر پرستی اور مدد کے لیے کون کافی ہے؟
ج: ’’اور تمھاری سرپرستی کے لیے اللہ کافی ہے اور تمھاری مدد کے لیے بھی اللہ کافی ہے۔‘‘
(سورۂ النسا:۴۵)

س: قیامت کا علم کس کے پاس ہے؟
ج: ’’قیامت کا علم یقینا اللہ ہی کے پاس ہے اور وہی بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ جو کچھ ارحام میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور نہ کوئی یہ جانتا ہے کہ کس سرزمین پر اسے موت آئے گی۔ یقینا اللہ خوب جاننے والا، بڑا باخبر ہے۔‘‘
(سورۂ لقمان:۳۴)

قارئین میری اس کوشش سے اگر ایک مسلمان بھی استعفادہ کر لے، تو خود کو کامیاب سمجھوں گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس عظیم کتاب سے ہدایت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین

Advertisements