بیت الخلا

بیت الخلا

  بسم الله الرحمن الرحیم

آج کی دنیا میں جس کو دیکھو مسائل کا شکار ہے جانی،سماجی یا معاشی پریشانی کا شکارہے

سکون نام کی چیز ہماری ذندگی سے نجانے کہاں گئی۔وجہ کیا ہے آخر کہ ہم جو نبی کریم ﷺ کی امتی ہیں اتنے مصایب میں گھرے ہوئے ہیں ۔ذرا سا غور کریں تو وجہ تو با لکل سامنے ہی ہے۔  ہمارے نبی کریم ﷺ نے ہمیں ذندگی گزارنے کا ایک ڈھنگ دیا ہےایک طریقہ دیا ہےہم اگر ذندگی کے ہر قدم پر نبی کریم ﷺ کی سنتوں کا اہتمام کریں تو بڑی بڑی پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں میرے خیال میں تو ایک مومن کی پوری ذندگی ہی دعا ہے۔اللہ تعالی  کو کہ ستر ماؤں سے ذیادہ پیار کرنے والا ہے وہ تو بہانے ڈھونڈتا ہے طریقے ڈھونڈتا ہے کہ ہمیں اپنے سے قریب کرے اس کے لئے اس نے ہمیں آسانیاں ہی آسانیاں دی ہیں وہ تو ہماری دنیا میں بھی آسانی چاہتا ہے آخرت میں بھی،یہ ہم ہی ہیں کہ دامن بچا کر بھاگ رہے ہیں اس لئے مسلسل بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

۔ا نسان کی 90 فیصد روحانی اور 50 فیصد جسمانی بیماریوں کا تعلق صرف بیت الخلاء یعنی واش روم سے ہے۔ایک چھوٹی سی دعا کو چھوڑا اور کتنی بیماریوں نے ہمارا گھر دیکھ لیا۔جراثیم ،جرم تھیوری وغیرہ یہ سب شیطان کے ہی نظام ہیں ہر گندی جگہ ذیادہ جراثیم ہوتے ہیں جنات اور شیاطین وہاں رہتے ہیں۔اب چاہے اس بیت الخلاء کو آپ جتنا سجا لو یہ ظاہری نظام ہی ہے اس کے  لئے نبی کریم ﷺ کی دی ہوئی دعا کو پڑھ کر جانے میں ہی عافیت ہےبیت الخلاء جانا ہماری مجبوری ہے مگر اللہ جل شانہ اس موقع پر بھی ہماری ذمہ داری لیتے ہیں

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو کہتے :

اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ.

بخاری، الصحيح، کتاب الوضو، باب ما يقول عند الخلاء، 1 : 66، 142

’اے اللہ بے شک میں خبیث جنّوں اور خبیث جنّنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

اعوذبک کا مطلب ہے پناہ میں آتا ہوں۔یعنی اللہ کے سپرد اپنے آپ کو کرتا ہوں اللہ   پناہ میں آتا ہوں، بندہ اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے اللہ میں اپنے آپ کو سپرد کرتا ہوں اب جب بندہ اللہ پاک کے سپرد اپنے آپ کو کر دے تو اللہ پاک سے بڑا محافظ بھلا کون ہے؟

بیت الخلاء سے باہر آتے وقت یہ دعا پڑھنی چاہیے :

اَلْحَمْدُ ِﷲِ الَّذِی أَذْهَبَ عَنِّی الْأَذَی وَعَافَانِیْ.       

ابن ماجه، السنن، کتاب الطهارة وسنتها، باب ما يقول اذا خرج من الخلا، 1 : 177،

اب یہ بھی استغفار ہے غفرانک یعنی اے اللہ میری بخشش کر دے۔ اے اللہ تو نے نجاست والی چیز کو نکال کر مجھے عافیت دی مجھ  پر کرم کیا مجھ پر فضل کیا۔

  حدیث کا مفہوم ہے کہ انسان کی ہر وقت بیس فرشتے حفاظت کرتے رہتے ہیں اگر یہ حفاظت وہ فرشتے چھوڑ دیں تو ایسی مخلوق رہتی ہے جو ہمیں نظر نہیں آتی آدمی کی بوٹیاں کر دیں۔

ہم نے بیت الخلاء کے ٹائلوں سے مذین کر لیا  اور پہلو میں سجا لیااور بے فکر ہو گئے یہاں کچھ لوگوں نے تو مغرب کی اندھی تقلید میں بیت الخلاء کو آرام گاہ بنا ڈالا

 حالانکہ جتنے نفسیاتی امراض کے مریض مغربی ممالک میں ہیں اور کہیں نہیں ہیں۔
اسی طرح بیت الخلاء میں با قاعدہ بک شیلف لگا کر کتابیں سجائی جاتی ہیں کمپیوٹر رکھے جاتے ہیں

ظاہر ہے جو وقت اللہ کو نہیں دیں گے وہ وقت اللہ لگوائیں گے بھر ایسی جگہ مال لگوائیں گے جہاں دل نہیں چاہے گا۔

اس تحریر کی تیاری میں جناب حکیم محمد طارق محمود صاحب  کی کتاب خطبات عبقری سے مدد لی گئی ہے۔

Advertisements