شعبان کامہینہ

شعبان کامہینہ

[Image: 1432213937_kR9j7ootrHrVkWT.gif]
شعبان ایک مہینے کا نام ہے اسے شعبان اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس ماہ میں عرب پانی تلاش کرنے نکلتے تھے ، اورایک قول یہ بھی ہے کہ وہ جنگوں میں نکلتے تھے ، اورایک قول یہ بھی ہے کہ اس مہینہ کو رجب اوررمضان کے مابین ہونے کی وجہ سے شعبان کہا جاتا ہے ، اس کی جمع شعبانات اورشعابین ہے ۔

شعبان کے مہینہ میں روزے رکھنا :

عائشہ رضي اللہ تعالی بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تو ہم یہ کہتیں کہ اب وہ روزے نہیں چھوڑيں گے ، اورجب آپ روزے نہ رکھتے تو ہم یہ کہتیں کہ اب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ نہیں رکھیں گے ۔

میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے علاوہ کسی اورمہینہ میں مکمل مہینہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ، اورمیں نے انہیں شعبان کے علاوہ کسی اورمہینہ میں زیادہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھے ۔

دیکھیں صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1833 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1956 )

مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے مہینہ میں تقریبا سارا مہینہ ہی روزے رکھا کرتے تھے ۔ دیکھیں صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1957 ) ۔

علماء کرام کے ایک گروہ جس میں عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ وغیرہ شامل ہیں نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے مہینہ میں پورا مہینہ روزہ نہیں رکھتے تھے بلکہ اس میں وہ اکثرایام روزہ رکھا کرتے تھے ۔

اس کی دلیل اورشاھد عائشہ رضي اللہ تعالی کی مندرجہ ذيل حدیث ہے جسے امام مسلم رحمہ اللہ تعالی نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے :

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہيں کہ مجھے علم نہيں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ مکمل مہینہ کے روزے رکھیں ہوں ۔دیکھیں صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1954 )

اورایک روایت میں ہے کہ :

جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اس وقت سے میں نے انہیں رمضان کے علاوہ کسی اورمہینہ کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1955 ) ۔

صحیحین میں ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی بھی مکمل مہینہ کے روزے نہیں رکھے ۔ دیکھیں صحیح بخاری حديث نمبر ( 1971 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1157 ) ۔

ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ رمضان کے علاوہ کسی بھی مکمل مہینہ کے روزے رکھنا مکروہ سمجھتے تھے ۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزے باقی سب مہینوں سے زیادہ ہوتے تھے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے مہینہ میں اکثرایام روزے رکھا کرتے تھے ۔

اسامہ بن زيد رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھتاہوں کہ آپ باقی مہینوں میں اتنے روزے نہيں رکھتےجتنے شعبان میں رکھتے ہیں ؟

تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

یہ ایسا مہینہ ہے جس میں لوگ غفلت کا شکار رہتے ہیں ، یہ مہینہ رجب اور رمضان کے مابین ہے ، اوریہ ایسا مہینہ ہے جس میں اعمال اللہ رب العالمین کے ہاں اٹھائے جاتے ہیں ، اورمیں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال روزے کی حالت میں اٹھائے جائيں ۔

اسے نسائی نے روایت کیا ہے ، دیکھیں صحیح الترغیب والترھیب صفحہ ( 425 ) ۔

اورابوداود کی روایت میں ہے کہ :

عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ شعبان میں سب سے زیادہ روزے رکھنا پسند فرماتے تھے ، اورپھر اسے رمضان کے ساتھ ملالیتے تھے ۔

علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اسے صحیح قراردیا ہے دیکھیں صحیح سنن ابوداود ( 2 / 461 ) ۔

ابن رجب رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

شعبان کے روزے اشھرالحرم کےروزوں سے افضل ہیں ، سب سے افضل وہ نفلی عبادت ہے جو رمضان سے قبل اوربعد میں رمضان سے ملحق ہو ، ان روزوں کا درجہ فرائض کے ساتھ سنن مؤکدہ جیسا ہے جوفرائض سے قبل اوربعد میں پڑھی جاتی ہیں ، جوکہ فرائض کے نقص کوپورا کریں گے ، رمضان سے قبل اوربعد میں روزے بھی اسی طرح ہیں ۔

توجس طرح نماز میں عام نفلوں سے سنت موکدہ افضل ہیں اسی طرح رمضان سے اوراس کےبعد روزے بھی افضل ہیں ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ :

( رجب اوررمضان کے مابین شعبان وہ مہینہ ہے جس میں لوگ غفلت کا شکار رہتے ہیں )

اس میں یہ اشارہ ہے کہ جب دو عظیم مہینے یعنی رجب اوررمضان اس کے آگے پیچھے آئے تولوگ اسے چھوڑ کر ان میں مشغول ہوگئے ، تواس اعتبار سے اس سے غفلت برتی جانے لگی ، اورپھربہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ رجب کے روزے شعبان میں روزے رکھنے سے افضل ہيں ، اس لیے کہ رجب حرمت والی مہنیہ ہے ، حالانکہ معاملہ ایسا نہیں ۔

بلکہ سابقہ حدیث میں تو اس بات کا اشارہ پایا جاتا ہے کہ بعض اوقات جن اوقات اورجگہوں اوراشخاص کی فضیلت مشہور ہوچکی ہوتی ہے اس کےعلاوہ دوسرے اس سے بھی افضل ہوتے ہيں ۔

اوراس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ لوگوں کی غفلت والے اوقات میں اللہ تعالی کی اطاعت کرنی مستحب ہے ، جیسا کہ سلف میں سےکچھ حضرات نمازعشاء اورنماز مغرب کے مابین نمازپڑھنا مستحب سمجھتے اورکہتے تھے کہ یہ غفلت کا وقت ہے ۔

اوراسی طرح بازار میں اللہ تعالی کا ذکر کرنا بھی مستحب ہے کیونکہ یہ جگہ بھی غفلت والی ہے اس لیے اہل غفلت کے اندر رہتے ہوئے اطاعت کرنا بھی ایک ذکر ہے ، غفلت کے اوقات میں اطاعت کرنے کے بہت سے فوائد ہیں جن میں سے چند ایک ذیل میں بیان کیے جاتے ہیں :

ایسا کرنا کسی بھی عمل کوپوشیدہ رکھنے کا باعث ہوتاہے اورپھر نوافل کو پوشیدہ رکھنا اورچھپانا ہی افضل ہے ، خاص کر روزہ جو کہ بندے اوراس کے رب کے مابین ایک رازہوتا ہے ، اسی لیے یہ کہا جاتا ہے کہ اس میں کوئي ریاء نہيں ہوتی ، بعض سلف صالحین کئی کئي سال تک روزہ رکھا کرتے لیکن کسی کو بھی اس کا علم نہيں ہوتا تھا کہ وہ روزے سے ہیں ۔

وہ جب گھر سے بازار نکلتے توان کے پاس دو روٹیاں ہوتیں وہ انہیں صدقہ کردیتے جبکہ ان کے گھر والے یہی خیال کرتے کہ انہوں نے خود کھائي ہیں اوربازار والے یہ سمجھتے کہ وہ گھر سے کھا کر آئے ہیں ، سلف رحمہ اللہ یہ مستحب سمجھتے تھے کہ ایسی چيز کا اظہار کیا جائے جو روزے کی مخفی رکھے ۔

ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ :

جب تم روزہ رکھو تو تیل لگایا کرو ۔

اورقتادہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

روزے دار کے تیل لگانا مستحب ہے کہ تاکہ اس سے روزے کے آثار ختم ہو جا‏ئيں ۔

اوراسی طرح اوقات غفلت میں اعمال صالحہ کرنے میں نفوس پر زيادہ مشقت ہوتی ہے ، اوراعمال کے افضل ہونے کے اسباب میں اس کا نفس پرمشقت والاہونا بھی ایک سبب ہے ، کیونکہ جب کسی عمل میں بہت سارے مشارکین ہوں تو وہ کام کرنا زيادہ آسان ہوتا ہے ، اورجب غفلت زيادہ ہوتو پھر وہی کام کرنے والے کے لیے مشکل ہوتا ہے ۔

حدیث میں ہے کہ معقل بن یسار رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ :

فتنہ وفساد کے وقت عبادت ھحرت کی طرح ہے ۔

صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2984 ) ۔

( یعنی فتنہ کے دور میں عبادت کرنی کیونکہ لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں تودین پر عمل پیرا ہونے والا شخص مشقت والے کام سرانجام دیتا رہتا ہے ) ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شعبان میں روزے کثرت سے رکھنے کے اسباب میں اہل علم کا اختلاف ہے جس میں کئي ایک اقوال بیان کیے گئے ہیں :

1 – سفر یا کسی اورسبب کی وجہ سے وہ مہینے کے تین روزے نہیں رکھ سکتے تھے جو جمع ہوجاتے اورانہیں شعبان میں قضا کرتے تھے ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نفلی کام کرتے تواس پرثابت قدمی کرتے اوراگررہ جاتا تو اسی قضا کرتے تھے ۔

2 – ایک قول یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان میں رہ جانے والے روزں کی قضاء شعبان میں کرتی تھیں تواس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی روزے رکھتے تھے ، عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے وارد ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشغول رہنے کی وجہ سے رمضان کے روزوں کی قضاء شعبان تک موخر کردیتی تھیں ۔

3 – ایک قول یہ بھی ہے کہ : شعبان میں لوگ غفلت کا شکار رہتے ہیں ، اورراجح قول بھی یہی ہے کیونکہ مندرجہ بالہ حدیث اسامہ رضی اللہ تعالی عنہا بھی اسی پر دلالت کرتی ہے جس میں مذکور ہے کہ :

( رجب اوررمضان کے مابین یہ مہینہ ایسا ہے جس میں لوگ غفلت شکار رہتے ہیں ) سنن نسائی دیکھیں صحیح الترغیب والترھیب صفحہ ( 425 ) ۔

جب شعبان شروع ہوتا اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کچھ نفلی روزے باقی ہوتے توآپ انہیں رمضان شروع ہونے سے قبل شعبان میں ہی مکمل کرلیتے جیسا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں یا پھر قیام اللیل رہ جاتا وہ آپ اس کی بھی قضاء دیا کرتے تھے ۔

اس لیے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا اس مہینہ میں موقع پا کراپنے رمضان کے نفلی روزے پورے کرتی تھیں کیونکہ باقی مہینوں میں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشغول رہتی تھیں ۔

اس لیے متنبہ رہنا چاہیے کہ اگر کسی کے ذمہ رمضان المبارک کے روزے باقی ہوں تو اسے آنے والے رمضان سے قبل وہ روزے رکھنے چاہییں ، کیونکہ بغیر کسی ضرورت کے دوسرے رمضان کے بعد تک موخر کرنا جائز نہیں ( لیکن اگر کوئي ایسا عذر ہوجودونوں رمضانوں کے مابین مستقل طور پر قائم رہے ) ۔

جورمضان المبارک سے قبل ہی پچھلے رمضان کے روزوں کی قضا ادا کرنے پر قادررہوتا ہوا روزے نہ رکھے تو اس پرقضاء اورتوبہ کے ساتھ ساتھ ہرروزہ کے بدلے میں ایک مسکین کا کھانا بھی بطور کفارہ ادا کرنا بھی واجب ہوگا ، امام شافعی ، امام احمد ، امام مالک رحمہم اللہ تعالی عنہم کا بھی یہی قول ہے ۔

اسی طرح شعبان میں روزے رکھنے کا فائدہ یہ بھی ہے کہ رمضان کے لیے روزے رکھنے کی مشق ہوجاتی ہے ، تا کہ رمضان المبارک کے روزے رکھنے میں مشقت نہ اٹھانی پڑے ، بلکہ شعبان کے مہینہ میں روزے رکھ کر اس کا عادی بن چکا ہو اوررمضان المبارک کے روزے وہ پوری قوت وطاقت اورنشاط و چستی سے رکھ سکے ۔

اورجب شعبان کا مہینہ رمضان المبارک کا مقدمے کی حیثیت رکھتا ہے تو اس لیے اس میں روزے رکھنا اورتلاوت قرآن کریم کرنا اورصدقہ وخیرات کرنا چاہیے تا کہ رمضان میں آسانی پیدا ہوسکے ۔

سلمہ بن سہیل کہتے ہیں کہ : شعبان کے بارہ میں کہا جاتا تھا کہ شعبان کا مہینہ قاریوں کا مہینہ ہے ۔

جب شعبان کا مہینہ شروع ہوتا توحبیب بن ابی ثابت کہتے یہ قراءکرام کا مہینہ ہے ۔

اورشعبان کے مہینہ کے شروع ہوتے ہی عمرو بن قیس الملانی اپنی دکان بند کردیتے تھے تا کہ قرآن مجید کی تلاوت کے لیے فارغ ہوسکیں ۔

شعبان کے آخر میں روزے رکھنا :

صحیحن میں عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کوفرمایا :

کیا تو نے اس مہینہ کے آخرمیں کوئي روزہ رکھا ہے ؟

اس شخص نے جواب دیا : نہیں ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جب تم روزے ختم کرو تواس کے بدلے میں دو روزے رکھو ۔

اورمسلم کی ایک روایت میں ہے کہ :

کیا تو نے شعبان کے آخر میں روزے رکھیں ہیں ؟ دیکھیں صحیح بخاری ( 4 / 200 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1161 ) ۔

مندرجہ بالاحدیث میں کلمہ ( سرر ) کی شرح میں اختلاف ہے ، مشہور تویہی ہے کہ مہینہ کے آخر کو سرار کہاجاتا ہے ، سرار الشھر سین پر زبر اورزير دونوں پڑھی جاتی ہيں ، لیکن زبرپڑھنا زيادہ فصیح ہے ، مہینہ کے آخر کوسرار اس لیے کہا جاتا ہےکہ اس میں چاندچھپا رہتا ہے ۔

اگر کوئي اعتراض کرنے والا یہ اعتراض کرے کہ صحیحین میں ابوھریرہ رضي اللہ تعالی تعالی سے حدیث مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( رمضان سے ایک یا دو روز قبل روزہ نہ رکھو ، لیکن جوشخص عادتا روزہ رکھتا ہواسے روزہ رکھنا چاہیے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1983 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1082 ) ۔

توہم ان دونوں حدیثوں میں جمع کس طرح کریں گے ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ :

بہت سے علماء کرام اوراکثر شارحین احادیث کا کہنا ہے کہ :

جس شخص سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تھا اس کی عادت کے بارہ میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوعلم تھا کہ وہ روزے رکھتا ہے ، یاپھر اس نے نذر مان رکھی تھی جس وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قضا میں روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا ۔

اس مسئلہ میں اس کے علاوہ اوربھی کئي اقوال پائے جاتے ہيں ، خلاصہ یہ ہے کہ شعبان کے آخر میں روزہ رکھنے کی تین حالتیں ہیں :

پہلی حالت : رمضان کی احتیاط میں رمضان کےروزے کی نیت سے روزہ رکھے ، ایسا کرنا حرام ہے ۔

دوسری حالت : نذر یا پھر رمضان کی قضاءیا کفارہ کی نیت سے روزہ رکھے ، جمہور علماء کرام اسے جائز قرار دیتے ہيں ۔

تیسری حالت : مطلقا نفلی روزے کی نیت کرتےہوئے روزہ رکھاجائے ، جو علماء کرام شعبان اوررمضان کے مابین روزہ نہ رکھ کران میں فرق کرنے کا کہتے ہیں ان میں حسن رحمہ اللہ تعالی بھی شامل ہیں وہ ان نفلی روزہ رکھنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں کہ شعبان کے آخر میں نفلی روزے نہیں رکھنے چاہیيں ، لیکن اگر وہ عادتا پہلے سے روزہ رکھ رہا ہو تو وہ ان ایام میں بھی روزہ رکھ سکتا ہے ۔

امام مالک رحمہ اللہ تعالی اوران کی موافقت کرنے والوں نے شعبان کے آخر میں نفلی روزے رکھنے کی اجازت دی ہے ، لیکن امام شافعی ، امام اوزاعی ، امام احمد وغیرہ نے فرق عادت اورغیر عادت میں فرق کیا ہے ۔

مجمل طور پریہ ہے کہ مندرجہ بالا ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ کی حدیث پر اکثر علماء کرام کے ہاں عمل ہے ، کہ رمضان سے ایک یا دو روز قبل روزہ رکھنا مکروہ ہے لیکن جس شخص کی عادت ہووہ رکھ سکتا ہے ، اوراسی طرح وہ شخص جس نے شعبان میں مہینہ کے آخر تک کوئي روزہ نہیں رکھا توآخر میں وہ بھی روزہ نہیں رکھ سکتا ۔

اگرکوئي اعتراض کرنے والا یہ اعتراض کرے کہ ( جس کی روزہ رکھنے کی عادت نہیں اس کے لیے ) رمضان سے قبل روزہ رکھنا کیوں مکروہ ہے ؟ اس کا جواب کئي ایک طرح ہے :

پہلا نقطہ :

تا کہ رمضان کے روزوں میں زیادتی نہ ہوجائے ، جس طرح عیدکے دن روزہ رکھنے سے منع کیا گيا ہے یہاں بھی اسی معنی میں منع کیا گيا ہے کہ جوکچھ اہل کتاب نے اپنے روزوں میں اپنی آراء اورخواہشوں سے اضافہ کیا اس سے بچنے کی تنبیہ کی گئي ہے ۔

اوراسی لیے یوم شک کا روزہ بھی رکھنا منع ہے ، حضرت عمار کہتے ہيں کہ جس نے بھی یوم شک کا روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ، یوم شک وہ دن ہےجس میں شک ہوکہ رمضان میں شامل ہے کہ نہيں ؟ مثلا کوئی غیر ثقہ شخص خبر دے کہ رمضان کا چاند نظر آگیا ہے تواسے شک کا دن قرار دیا جائے گا ۔

اورابر آلود والے دن کو کچھ علماء کرام یوم شک شمار کرتے ہیں اوراس میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے ۔

دوسرامعنی :

نفلی اورفرضی روزوں میں فرق کرنا چاہیے ، کیونکہ نوافل اورفرائض میں فرق کرنا مشروع ہے ، اسی لیے عید کے دن روزہ رکھنا منع کیا گيا ہے ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں بھی اس سے منع کیا ہے کہ ایک نماز‍ کو دوسری کے ساتھ نہ ملایا جائے بلکہ اس میں سلام یا کلام کے ذریعہ فرق کرنا چاہیے ، خاص کر نماز فجر کی سنتوں میں ، کیونکہ سنتوں اورفرائض کے مابین فرق کرنا مشروع ہے ، اسی بنا پر نماز گھر میں پڑھنی اورسنت فجر کےبعد لیٹنا مشروع کیا گيا ہے ۔

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز فجر کی اقامت ہونے کے بعد بھی نماز پڑھ رہا ہے تو آپ نے اسے فرمایا :

کیا صبح کیا نماز چار رکعات ہے ۔

دیکھیں صحیح بخاری حدیث نمبر ( 663 ) ۔

بعض جاہل قسم کے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ رمضان سے قبل روزہ نہ رکھنے کا معنی ہے کہ کھانے پینے کوغنیمت سمجھا جائے تا کہ روزے رکھنے سے قبل کھانے پینے کی شھوت پوری کرلی جائے ، لیکن یہ گمان غلط ہے اورجو بھی ایسا خیال رکھنے وہ جاہل ہے ۔

واللہ تعالی اعلم ۔

مراجع : لطائف المعارف فیما لمواسم العام من الوظائف : تالیف ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ تعالی ۔

الالمام بشئی من احکام الصیام تالیف عبدالعزيز الراجحی ۔

Advertisements
عالم اسلام کے اولین نعت خوان

عالم اسلام کے اولین نعت خوان

اسلام کی بنیاد کلمہ توحید و رسالت ہے۔ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ
ہر مسلمان اللہ کریم کی وحدانیت اور اللہ تعالی کے آخری رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت و خاتمیت پر ایمان رکھتا ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے محبوبِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص دنیا کی سب شخصیتوں سے زیادہ محبت میرے ساتھ نہیں رکھتا وہ مومن نہیں۔ یعنی ایمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت کے ساتھ مشروط ہے اور اس محبت کا تقاضا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعریف و ثنا کی جائے اور دوسرا تقاضا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے احکام پر عمل کیا جائے۔
قرآن مجید میں جگہ جگہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف ملتی ہے۔ اس لئے بہت سے لوگ اسے نعت کا پہلا مجموعہ قرار دیتے ہیں لیکن اگر نعت صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شعری مدح کو کہا جائے تو بھی عالم اسلام کا کوئی خطہ ، کوئی ملک اور کوئی زبان ایسی نہیں جس میں شعر کی زبان میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف و توصیف نہ کی گئی ہو۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس دنیا مین ظہور فرمانے سے کوئی ایک ہزار سال پہلے یمن کے بادشاہ تبع اول حمیری نے سب سے پہلے نعت کے اشعار کہے۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بزرگوں میں سے حضرت کعب بن لوی ( حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت سے پانچ سو ساٹھ سال قبل ) کے نعتیہ اشعار ملتے ہیں۔
– آپ کے دنیا میں تشریف لانے پر حضرت عبد المطلب نے اشعار کہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سپرد کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کی تعریف شعروں میں کی۔ اسی طرح خواتین میں پہلی نعت گو سیدہ آمنہ ہیں۔ ورقہ بن نوفل نے پہلا باقاعدہ نعتیہ قصیدہ کہا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے پر بنو نجار کی بچیوں نےسب سے پہلے نعتیہ اشعار پڑھے۔ سب سے پہلا غیر مسلم نعت گو اعبثی میمون بن قیس تھا۔ حضرت حسان بن ثابت ، حضرت کعب بن زہیر ، حضرت کعب بن مالک ، حضرت عبد اللہ بن رواحہ ( رضی اللہ عنھم ) عہد نبوی کے مشہور نعت گو صحابی تھے۔
حضرت ابو طالب رضی اللہ عنہ نے سب صحابہ سے زیادہ نعتیہ قصیدے کہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی منظوم مدح کے “نعت” کا لفظ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے استعمال کیا۔ شاعر صحابہ کرام میں سے کوئی ایسا نہیں جس نے مدح رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں اشعار نہ کہے ہوں۔ حافظ ابن البر رضی اللہ تعالی عنہ نے 120 مداح گو صحابہ کے نام اور حافظ ابن سید الناس رحمۃ اللہ علیہ نے 200 نعت گو صحابہ کے نام لکھے ہیں۔
علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ نے چار ضخیم جلدوں میں عربی نعتوں کا انتخاب کیا تھا جن میں 34 صحابہ کرام کے 461 اشعار ہیں۔ عربی نعت کے اس انتخاب میں صحابہ کے علاوہ 24635 اشعار بعد کے شعراء ادب کے ہیں۔ ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی ( فیصل آباد ) نے بر صضیر پاک و ہند کے عربی نعت گو شاعروں پر پی ایچ ڈی کے لئے مقالہ لکھا جو ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور لاہور سے شائع ہوا۔ ممالک عرب میں دوسری دنیا کی طرح اب تک نعت گوئی جاری ہے۔

عالم اسلام میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نعت کا سلسلہ 14 سو سال سے جاری ہے۔ موجود دور چونکہ مسلمانوں پر مصائب و ابتلا کی صورت لایا ہے اس لئے مسلمانوں کے حساس طبقے جسے شعرا کہا جتا ہے ، پہلے سے کہیں زیادہ نعت کہنا شروع کر دی ہے۔ اسلامی ممالک کے سربراہ عام طور ہر یہودیوں اور عیسائیوں کے زیر اثر ہیں۔ امریکہ نے ان کے حواس سے لے کر ان کے ملکی وسائل تک پر قبضہ کر رکھا ہے۔

اس لئے ہر ملک کے مسلمان عوام بے چینی ، بے یقینی اور پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔ ایسے میں شاعروں نے اپنے آقا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعریف و ثنا میں پناہ ڈھونڈی ہے اور ملت کی اجتماعی صورت حال کی فریاد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں کر رہے ہیں۔
ایران میں ضیا الدین دھشیری اور دوسرے محققین اور ادبا نے نعت گوئی اور نعت گو شاعروں کے تذکروں پر مشتمل وقیع کتابیں لکھی ہیں۔ بر صغیر پاک و ہند میں نعت کے مختلف گوشوں پر کام ہو رہا ہے۔ مجموعہ ہائے نعت چھپ رہے ہیں ، مختلف موضوعات پر تحقیق ہورہی ہے ، محافل نعت کا انعقاد ہو رہا ہے ، نعتیہ مشاعرے جاری ہیں ، نعت خوانی کے مقابلے کرائے جا رہے ہیں۔ مختلف حوالوں سے نعت کے انتخاب شائع ہو رہے ہیں۔ نعت پر جریدے اور کتابی سلسلے جاری ہیں۔
عہد موجود نعت کا عہد ہے۔ آج دنیا کی ہر زبان میں نعت کہی جارہی ہے لیکن یہ سعادت مملکت خداداد پاکستان کو حاصل ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ نعت پاکستان میں کہی جا رہی ہے اور سب سے زبانوں سے زیادہ نعت اردو زبان میں کہی گئی ہے۔
بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے آقا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے امتیوں کے لئے جو علیحدہ مملکت حاصل کی تھی اس کے باشندے اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدحت و ستائش میں سبقت لے جانے کے لئے کوشاں ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ عالم اسلام کا سب سے حساس طبقہ شعرا اپنے رب کریم کی حمد اور اپنے آقا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نعت کی تخلیق میں اپنی صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ استعمال کریں گے اور اس طرح عامۃ المسلمین کو محبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سائبان تلے جمع کر کے اسلام دشمنوں کے خلاف ایک مضبوط محاذ قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

 

ڈسک کی زندگی بڑھانے کے لیے خفیہ براؤزنگ کریں

ڈسک کی زندگی بڑھانے کے لیے خفیہ براؤزنگ کریں

جب آپ انٹرنیٹ براؤزنگ کرتے ہیں تو براؤزر آپ کی وزٹ کردہ ویب سائیٹس کا ڈیٹا ڈسک پر محفوظ کرتا ہے۔ اس میں سے زیادہ تر ڈیٹا ایسا ہوتا ہے جس کی آپ ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن پروسیسر کو یہ غیر ضروری ڈیٹا محفوظ کرنے کے لیے توانائی خرچ کرنا پڑتی ہے اور ڈسک کو اس ڈیٹا کے لیے اپنی جگہ مہیا کرنا پڑتی ہے۔ خاص طور پر وہ ویڈیوز جو آپ نیٹ پر دیکھتے ہیں، یہ پروسیسر اور ڈسک پر سب سے زیادہ بوجھ بنتی ہیں۔ چنانچہ تمام معروف براؤزرز اس کے حل کے طور پر خفیہ براؤزنگ کا ایک فیچر مہیا کرتے ہیں۔ اس فیچر کو استعمال کرتے ہوئے جب براؤزنگ کی جاتی ہے تو وزٹ کردہ ویب سائیٹس کا ڈیٹا ڈسک پر محفوظ نہیں ہوتا۔

درج ذیل اسکرین شاٹ میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ براؤزر کی عام ونڈو میں ایک ویڈیو دیکھنے کے بعد جب میں نے ڈسک کو CCleaner کی مدد سے صاف کیا تو اس میں سے 22 میگا بائٹ ڈیٹا ختم کیا گیا ہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس طرح کی مزید ویڈیوز دیکھنے کے نتیجے میں ڈسک پر یہ غیر ضروری ڈیٹا کئی سو میگا بائٹس بلکہ کئی گیگا بائٹس میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ اس غیر ضروری ڈیٹا کو ڈسک پر محفوظ کرنے کے لیے نہ صرف پروسیسر کو بہت کام کرنا پڑتا ہے بلکہ ڈسک کے میڈیا پر بار بار ڈیٹا لکھے جانے کی وجہ سے اس کی زندگی بھی کم ہوتی ہے۔

خفیہ براؤزنگ کے بغیر ڈسک کی صورت حال

چنانچہ پروسیسر اور ڈسک کو اضافی کام سے بچانے کے لیے براؤزر کی طرف سے مہیا کردہ خفیہ براؤزنگ کا فیچر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

براؤزر کا خفیہ براؤزنگ کا فیچر

درج ذیل اسکرین شاٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ براؤزر کی پرائیویٹ ونڈو کی مدد سے براؤزنگ کرنے کے بعد جب میں نے ڈسک صاف کی تو اس میں سے صرف 3 میگا بائٹ ڈیٹا ختم کیا گیا ہے۔ اور یہ زیادہ تر ڈیٹا ونڈوز ایکسپلورر کا ہے نہ کہ براؤزر کا۔

خفیہ براؤزنگ کے بعد  ڈسک کی صورت حال

لیکن یہ خیال رہے کہ براؤزر کا فیچر استعمال کرتے ہوئے خفیہ براؤزنگ کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ کی سرگرمیوں کا ڈیٹا ڈسک پر محفوظ نہیں ہوتا۔ ورنہ آپ کے انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر کے پاس آپ کی وزٹ کردہ تمام ویب سائیٹس کی فہرست موجود ہوتی ہے۔ نیز جن ویب سائیٹس کو آپ نے وزٹ کیا ہے ان کے پاس بھی آپ کا آئی پی ایڈریس موجود ہوتا ہے جس کی مدد سے وہ یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ آپ کا تعلق کس شہر سے ہے۔ ان دونوں مسئلوں کا ایک حل یہ ہے کہ انٹرنیٹ براؤزنگ کے لیے پراکسی ویب سائیٹس کا استعمال کریں۔ جبکہ دوسرا حل Tor جیسے براؤزر کا استعمال ہے جو تقریباً‌ ہر طرح کی ٹریکنگ سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ بہرحال خفیہ براؤزنگ کے لیے کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جائے، اس کے قانونی یا غیر قانونی ہونے کی ذمہ داری صارف پر ہے۔

وزن کم کرنے کے انوکھے مگر انتہائی مفید طریقے

وزن کم کرنے کے انوکھے مگر انتہائی مفید طریقے

  1. [​IMG]
    اس سے پہلے کے آپکا یہ حال ہو کچھ کیجئے
    [​IMG]
    میں بھی کبھی بہت موٹا تھا
    [​IMG]
    پھر مجھے سرجری کروانی پڑی۔لیکن آپ ورزش کیجئے اور خوراک کا خیال رکھیے
    [​IMG]

    ایک دلچسپ سوال ہے کہ آپ جم جائے بغیر کس طرح اپنے وزن کو کم کرسکتے ہیں؟ دوسرے الفاظ میں آپ استعمال کی گئی خوراک میں کیلوریز کے کم کرنے کے لئے کیا کچھ کرسکتے ہیں۔ اس ضمن میں آپ کو مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
    -1شیشے کے سامنے کھائیں: اگرچہ یہ عجیب لگے گا لیکن بہت مفید ثابت ہوگا کہ آپ شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر کھانا کھائیں۔ اس کی نفیساتی وجہ یہ لوگ کہ آپ کی نظر آپ کے جسم اور بڑے ہوئے وزن پر رہے گی اور آپ کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔
    -2 اپنے کپڑے دھوئیں: یہ ایک حقیقت ہے کہ لوگوں کی اکثریت گھریلو کاموں سے بھاگتی ہے لیکن اگر آپ اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپ اپنے کپڑے خود دھونا شروع کردیں۔ اگر کپڑے دھو کر سکھانے پر کے عمل میں 30 منٹ صرف ہوتے ہیں تو یہ یقین کرلیں کہ آپ نے 120 کیلوریز کو جلایا ہے۔
    -3 دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں: دوستوں کے ساتھ مل کر ہلا گلہ کریں تو وزن کم ہوگا۔ ایک گھنٹہ کی پارٹی میں 250 کیلوریز کے جلنے کے امکانات پائے جاتے ہیں لیکن یہ پارٹی کھیل کود اور بھاگم دوڑ پر ہونی چاہیے۔
    -4 شاپنگ کریں: یہ ایک دلچسپ پہلو ہے جس پر عمل درآمد کرنے کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ آپ کو اگر تھوڑی سی شاپنگ کرنی ہو تو بھی آپ بڑے شاپنگ مال جائیں اور ونڈو شاپنگ کے شوق کو دل سے پورا کریں۔ اشیائے صرف دیکھتے ہوئے آپ کو اندازہ نہیں ہوگا کہ آپ نے کس قدر کیلوریز کا استعمال کرلیا ہے، اس سے وزن میں نمایاں کمی ہوگی۔
    -5 گھر کی صفائی کریں: گھر کی صفائی بھی ایک مشقت بھرا عمل ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ سمارٹ ہوتے ہیں۔ وہ خواتین جو کام کرنے والوں کی بجائے خود کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں زیادہ سمارٹ نظر آتے ہیں۔ چنانچہ اگر وزن کم کرنا ہے تو گھر کی صفائی پر مامور ہوجائیں۔ہوئے ناں انوکھے طریقے کم کرنے کے جس پر ہم توجہ نہی دیتے۔اپنی بیویئوں کے گھریلوں کاموں میں ہاتھ بٹایا کریں۔اس میں شرم آڑے نہی آنی چاہئے اور ہمارے نبی اپنے سبھی کام خود کیا کرتے تھے تو ہم تو عام سے انسان ہیں۔اپنے ہی گھر کا کام کرنا ہے۔کسی دوسرے کا نہی۔

    چکنائی اور گوشت کا استعمال کم کر دیں
    [​IMG]
    ایک نئی تحقیق کے مطابق پالک غیر صحت مندانہ کھانوں کی بھوک کی اشتہا کو کم کرتی ہے اور وزن گھٹانے میں مددگار ہے۔ سوئیڈن سے تعلق رکھنے والےمحققین کا کہنا ہے کہ آئرن کا ایک اہم ذریعہ سمجھی جانے والی سبزی اپنے دیگر غذائی اجزا، مثلاً وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن کے، میگنشیم اور فولیٹ سے بھری ہوئی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے پتوں سے حاصل شدہ عرق وزن گھٹانے میں بہت مددگار ہے۔

    تحقیق میں شامل پروفیسر ڈاکٹر شارلیٹ ارلینسن البرٹسن نے کہا کہ ہمارے تجربے سے ظاہر ہوا کہ پالک کے پتوں کی ممبرنس یعنی جھلی جس میں غذائیت بخش نباتاتی اجزا شامل ہوتے ہیں، جو تھیلاکوئڈز کہلاتی ہے، پر مشتمل مشروب پینے سے حیرت انگیز طور پر جنک کھانوں کی بھوک کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور دن بھر پیٹ بھرا رہنے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

    تحقیق سے ظاہر ہوا کہ تھیلاکوئڈز لینے سے خون میں طمانیت ہارمونز یعنی پیٹ بھرنے کا احساس پیدا کرنے والے ہارمون لیپٹن آنتوں میں موجود چربی کےخلیات سے بنتا ہےجو دماغ کو پیٹ بھرنے کا سگنل بھجتا ہے، کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے جو بے وقت بھوک کو دباتا ہے اور صحت مند کھانوں کی طرف رغبت پیدا کرتا ہے جس سے وزن گھٹانے میں مدد ملتی ہے
    [​IMG]

سوکھی ٹہنی

سوکھی ٹہنی

ASOOL-MARZI

ہمارے کچے مکان کے ساتھ ہی ان کا دو منزلہ چوبارہ تھا۔ عمر، قد، رنگت، بول چال اور عادات میں ہم جڑواں لگتے۔ ہم دونوں کا ساتھ چاند اور ستارے کی طرح تھا، جہاں میں وہاں وہ اور جہاں وہ وہاں میرا ساتھ بھی پکا۔ ہم ہر جگہ ساتھ ساتھ ہی نظر آتے۔ گلی میں، مسجد میں، اسکول میں، کھیل کے میدان میں، دُکان میں ہر جگہ۔ لیکن وہ زیادہ چمکتا تھا چودھویں کے چاند کی طرح اور میں چھوٹے سے مدھم ستارے کی طرح اس کے آس پاس گھومتا رہتا۔
ذہانت میں وہ مجھ سے بڑھ کر تھا اور طاقت میں، میں ۔سیپارہ پہلے ختم کر لینے اور جماعت میں پہلا انعام لینے پہ ہر بار وہ مجھ سے پٹ جاتا، لیکن پھر بھی ہم اکٹھے ہی رہتے۔ وہ گود کا کیڑا تھا، مسجد میں مولوی صاحب کی گود، ہمارے گھر ماں کی گود، چوبارے میں اپنی ماں کی گود، اسکول میں ماسٹر جی کی گود، کینگرو کی اولاد۔ وہ سب کا لاڈلا تھا۔ ہر کوئی اسے پیار کرتا۔ سب اس کا ماتھا چومتے، ابا کے ماتھے کی شکنیں اس کے آنے سے ماند پڑجاتیں۔ اسے اتنا پیار ملتا، تو میں شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کے نقص نکالتا۔ پھر مجھے اپنا رنگ کالا، ناک گینڈے جیسا، کان ہاتھی کی طرح، سر لمبوترا، جسم چھوٹا سا اور ٹانگیں ترچھی نظر آتیں، اتنی ڈرائونی شکل دیکھ کہ صابن،ہاتھوں، بازوئوں اور چہرے پر لگائے جاتا تب ماں کا جوتا اُڑتا ہوا آتا اور شیشے میں نظر آنے والا جن دروازے سے باہر جا رکتا۔
اکثر وہ بھی باہر نکل رہا ہوتا، اس کی دلکش مسکراہٹ سے میری حسد کی آگ ٹھنڈی پڑ جاتی اور ہم بانہوں میں بانہیں ڈالے چل پڑتے۔ گلی کی نکڑ سے پیچھے دیکھتا، تو اس کی ماں دروازے کی اوٹ سے کچھ پڑھ کر پھونک رہی ہوتی۔ چوپال کے پاس گزرتے ہوئے جب لوگ ہمیں ببلو اورببلی کہہ کر چھیڑتے، تو میں سوچتا کہ یہ مجھے ببلو اور اسے ببلی کیوں کہتے ہیں، میں یہ سن کر غصے سے سرخ ہوجاتا، لیکن وہ پھر بھی ہنستا رہتا۔ بڑی توند والا رحیما کئی بار میرے پتھر سے بچا اور ہر بار وہ مجھے پکڑ نہ پاتا۔ پھر زیدی اس کے ہاتھ آجاتا اور میں دور کھڑے ہو کر گالیاں دیتا۔ یہ تو مجھے بعد میں پتا چلا کہ وہ جان بوجھ کر مجھے پکڑنے کے بجائے اسے پکڑتا تھا۔ وہ بڑے عجیب طریقے سے اسے بانہوں میں جکڑ لیتا اور کہتا آجا ببلو چھڑالے اپنی ببلی۔ اور میری گالیوں کی شدت میں اور تیزی آجاتی۔
سارے گائوں کی گلیاں گھوم پھر کر جب ہم شام کو واپس آتے، تو اس کی ماں ہمیشہ دروازے ہی میں کھڑی ملتی، وہ اُسے اٹھا کر ایسے چومنے لگتی جیسے کوئی گم شدہ بچہ مل گیا ہو۔ میں دل ہی دل میں کہتا، بلی کا بچہ۔ بڑا دل کرتاکہ میری ماں بھی کسی دن دروازے میں کھڑی ہو اور آتے ہی مجھے بانہوں میں اٹھا کر چومنا شروع کردے لیکن ایسا کبھی نہ ہوا، کئی بار میں گھنٹوں گلی میں بیٹھا رہتا پھر اندھیرے سے ڈر کر خود ہی اندر آجاتا۔ ہوتا تو گھر میں بھی اندھیرا ہی تھا لیکن ماں کے پیار کی روشنی سے سارے خوف دور بھاگ جاتے۔ ماں کی مسکراہٹ کی ٹھنڈک سے حسد کی تپش ختم ہوجاتی۔ ماں چولھے کے پاس ہی بٹھا لیتی اور پیار سے مکھن اور دودھ کی بالائی سے کھانا کھلاتی۔
جب زیدی کی چھوٹی سی سائیکل آئی،تو میں اس سے بھی زیادہ خوش تھا، اس نے پہلے ہی دن سائیکل چلانا سیکھ لی اور میں پورا مہینا اوپر بیٹھنے ہی سے ڈرتا رہا۔ وہ خود مجھے سائیکل پہ بٹھاتا اور ساتھ ساتھ سائیکل پکڑے سارا گائوں گھما دیتا۔ پھر وہ مجھے پیچھے بٹھا لیتا اور ہم گائوں کی نہر تک سیر کر آتے۔ نہر پہ جانے سے ہر کوئی ڈرتا تھا، میں پیچھے بیٹھا آیت الکرسی پڑھتا اور وہ بڑے اطمینان سے پل کی دوسری طرف جا کر برگد کا چکر لگا کر واپس ہوجاتا۔ ایک دن ماں کو پتا چلا، تو اس نے ابا کو بتا دیا۔ ابا نے عورت کی آدھی گواہی کو سب کچھ مانا اور پلنگ کے نیچے سے بید نکال کے بغیر بولے ہی سب کچھ سمجھا دیا۔ میرا خیال تھا میری چیخ پکار کے بعد چوبارے سے بھی کوئی ملتی جلتی آواز آئے گی، لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔
صبح میں مار بھول چکا تھا لیکن زیدی جوہڑ سے آگے سائیکل نہیں لے کر گیا۔ پھر جوہڑ ہی ہماری سرحد تھی۔ اس کے پار جاتے ہوئے ٹانگوں میں جان ہی نہ رہتی، سائیکل جیسے رک ہی جاتی۔ اب تک مجھے بھی سائیکل چلانی آگئی تھی، جوہڑ پہ ہم باری بدل لیتے۔ مجھے بڑا غصہ آتا کہ میں تو پیچھے بیٹھ کر سارے گائوں کی رنگا رنگ کہانیاں سناتا ہوں لیکن زیدی کی چُپ ہی ختم نہیں ہوتی۔ پھر سائیکل گر جاتی، میں اسے اٹھانے کے بجائے سائیکل اٹھا کے بھگا لیتا اور وہ پیچھے پیچھے دوڑتا۔ ایک دن ٹِبیّ سے واپسی پر جہاں سائیکل خود نیچے کو اترتی تھی، میں نے چلتی سائیکل سے چھلانگ لگا دی وہ پیچھے بیٹھا تھا نہ اتر سکا، نہ روک سکا۔ کافی دور جاکے گرا تو اس کا سر پھٹ گیا۔ تب پہلی بار مجھے اُس پہ بہت ترس آیا۔ میں نے آگے بڑھ کر سائیکل اٹھائی، وہ خاموشی سے پیچھے بیٹھا اور ہم حکیم نذیرکی دُکان پہ پہنچ گئے۔ وہ بوسیدہ سے برآمدے میں بیٹھے سرخ ڈاڑھی میں کنگھی کر رہے تھے۔ دیکھتے ہی بولے، چوٹ تو زیدی کو لگی ہے، توکیوں روتا ہے گلزار؟تب مجھے پتا چلا کہ میں رو بھی رہا ہوں۔ زیدی کی پٹی ہوئی اور وہ قمیص سے میرے آنسو صاف کرنے لگا۔ آج خالہ زبیدہ اور بھی شدت سے زیدی کو چوم رہی تھیں۔ پتا نہیں کیوں میرا دل چاہتا تھا کہ خالہ زبیدہ ایسے ہی بید کی چھڑی سے مجھے سمجھائیں جیسے ابا اکثر سمجھاتے تھے، لیکن مجھے روتا دیکھ کر انھوں نے مجھے بھی چُپ کروانا شروع کردیا اور میں گھر چلا آیا۔
اسکول میں ہم دونوں پہلی صف میں بیٹھتے تھے، وہ کونے پر بیٹھا ہوتا لیکن میں اسے گھسیٹ کر دوسرے نمبر پہ کردیتا اور خود اس کی جگہ بیٹھ جاتا۔ میرا خیال تھا وہ پہلے نمبر پہ بیٹھتا ہے اس لیے ہر دفعہ پہلا انعام لیتا ہے اور اگرمیں اُس کی جگہ بیٹھوں گا ،تو میرا پہلا نمبر پکا۔ میں پہلے نمبر پہ آنے کے کئی منصوبے بناتا لیکن اکتیس مارچ کو یہی سوچتا کہ کاش زیدی ہوتا ہی نہ۔
ماسٹر جی اس سے بڑا پیار کرتے، اسکول جاتے ہوئے اس کی انگلی پکڑ لیتے اور میں بکری کے بچے کی طرح پیچھے پیچھے چلتا۔ سوال سمجھا کر سب سے پہلے اُسی سے پوچھتے اور ساتھ میں بھی سر ہلادیتا۔ تفریح کے وقت اسے پاس ہی بٹھالیتے۔ وہ زیادہ ہی معصوم تھا، شروع میں لڑکے اسے بہت تنگ کرتے لیکن پھر ماسٹر جی کے ڈر سے ہر کوئی زیدی بھائی کہتا پھرتا۔ مجھے کہیں نہ کہیں سے ببلو اور ببلی کی آواز آ ہی جاتی۔
ایک بار زیدی کو بخار ہوگیا۔ ماسٹر جی، حکیم صاحب کو لے کر گھر آئے اور خود دروازے پر کھڑے رہے، میں پاس کھڑا سہما سہما انھیں ایسے دیکھتا جیسے بجلی کے گیلے کھمبے کے پاس کھڑا ہوں اور چھولیا تو جان سے گیا۔
زیدی کا گھر گائوں کے اچھے گھروں میں شمار ہوتا تھا۔ زمینیں تھیں، پنشن تھی، گھر میں خوب پیسے کی ریل پیل تھی۔ اس کے ابا کو سب لوگ چچا کہتے تھے۔وہ ایک دن کھیتوں میں کام کرتے سانپ کے ڈسنے سے چل بسے۔ ہنستے بستے گھر میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ کفن دفن سے فارغ ہوتے ہی خالہ ہر چیز سے فارغ ہوگئی۔ زمینیں دیورلے گئے۔ مکان نندیں لینے کو تھیں لیکن رو دھو کر کچھ نہ کچھ بچ ہی گیا اور پنشن۔
خالہ زبیدہ سمجھدار خاتون تھیں عدت پوری ہوتے ہی انھوں نے جمع پونجی سے دونوں بیٹیوں کی شادی کا انتظام کردیا، بہنیں رخصت ہوئیں، تو پہلی بار میں نے زیدی کو روتے دیکھا، اسے لپٹ لپٹ کر روتے دیکھ کر میری آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔
شادیاں بڑی خوش اسلوبی سے ہوگئیں۔ شادی کے تیسرے دن ہم اسکول کے لیے نکلے ،تو گلی کے موڑ سے گھنگھروئوں کی آوازیں آنے لگیں، چندا اپنے گروہ کے ساتھ ناچتے ہوئے گلی میں داخل ہورہی تھی۔ ماسٹر جی ابھی تک نہیں آئے تھے۔ ہم ایک دوسرے کے گلے میں بانہیں ڈالے منہ سے کان لگائے ان کے گھنگھرئووں کی طرف اشارے کرتے کھڑے ہوگئے۔ وہ خالہ زبیدہ کے گھر کے آگے ناچنے لگے۔ شادی والے گھر سے یہ لوگ وداعی لینے آتے تھے اور تب تک ناچتے رہتے جب تک گھر والے کچھ دے نہ دیتے۔ ہم انھیں دیکھ دیکھ کر ہنس رہے تھے کہ خالہ نے فوراً کچھ پھل ، پیسے اور کپڑے دروازے کی اوٹ سے چندا کو پکڑا دیے۔ وہ واپس جانے لگے،تو ہمارے پاس آ رُکے۔ وہ بڑی عجیب نظروں سے زیدی کو دیکھنے لگی پھر اس نے تالی بجاتے ہوئے کہا’’اوئے کاکا،ہیجڑوں کے پاس کھڑے ہو کے کھسر پھسر کرنا اچھا نہیں ہوتا۔‘‘ اس کی بات مجھے اتنی بُری لگی کہ میں نے پتھر اُٹھالیا لیکن وہ ہمارے ارد گرد جمع ہوگئے، میں نے زیدی کو کھینچا اور اسکول کی طرف دوڑ لگادی۔ تب پہلے دن پتا چلا کہ ہم ماسٹر جی کے بغیر بھی اسکول پہنچ سکتے ہیں۔
صبح اتوار کی چھٹی تھی۔ تالیوں کی آواز سے میری آنکھ کھلی، گلی میں بہت شور تھا، باہر دیکھا ،تو ہر طرف عجیب و غریب لوگ کھڑے تھے، وہ ہر بات پہ تالی ضرور بجاتے۔ پتا نہیں چلتا تھا، یہ مرد ہیں یا عورتیں۔ اچانک میری نظر چندا پہ پڑی وہ خالہ زبیدہ کے دروازے کے آگے جھولی پھیلائے بیٹھی تھی اور اس طرح کے کچھ لوگ گھنگرو باندھے ناچ رہے تھے۔ میں بڑا حیران ہوا کہ یہ کل وداعی لے گئے تھے، توآج اتنے زیادہ کیوں آگئے۔ عورتیں چھتوں پہ کھڑی انگلیاں رکھے پتا نہیں کیا باتیں کر رہی تھیں۔ پوری گلی میں ایسے ہی لوگ تھے، جیسے پورا محلہ ہی ان کا ہے اور پوری دنیا پہ ان کا قبضہ ہے اور مزید ایک گھر پہ اپنا جھنڈا گاڑنے آئے ہیں۔
میں سر کھجاتا ان کے درمیان سے گزر کر گلی کے موڑ پہ گیا،تو کچھ لوگوں کے جھرمٹ میں رحیما کھڑا تھا۔ وہ تو جیسے میرا ہی منتظر تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اس کی باچھیں کھل گئیں۔ ’’ببلو بچا لے اپنی ببلی کو، یہ لینے آئے ہیں اسے تیسری دنیا کے لوگ۔ تو بھی چلا جا اس کے ساتھ۔ نہ وہ مرد نہ عورت۔،، وہ بیہودہ طریقے سے قہقہے لگانے لگا۔ اس کی باتوں سے میں پتھر کا ہوگیا اور ہاتھ میں پکڑا پتھر، پتھر کے انسانوں سے ٹکرائے بغیر زمین پہ جاگرا۔ شاید میں بزدل تھا، زیدی کی ڈھال میں بہادر بنا پھرتا تھا۔
پہلی بار میں اکیلا ہی اسکول گیا۔ نہ زیدی ، نہ ماسٹر جی۔
اسکول پہنچتے ہی آواز آئی۔
گلزار ہے…ہیجڑے کا یار ہے۔
گلزار ہے…ہیجڑے کا یار ہے۔
سارے لڑکے نعرے لگا رہے تھے جیسے دُونی کا پہاڑا پڑھ رہے ہوں۔ ایک پائوں پہ وزن ڈال کر آگے کو جھکتے، میری طرف اشارہ کرتے نعرہ لگاتے اور پھر اکٹھے ہنسنے لگتے۔ ایسے لگتا جیسے کئی رحیمے اکٹھے ہوگئے ہوں۔ اور پتھر انسان سے ٹکرانے سے گھبراتا ہو۔
آج ماسٹر جی کچھ زیادہ ہی خاموش تھے، بیٹھے بیٹھے ان کی آنکھوں کی جھیل بھر سی جاتی۔ پھر جھیل سے رومال بھگو کر عینک کے شیشے رگڑے جاتے، بالکل ایسے ہی جیسے زیدی گلاس سے کپڑا بھگو کر سائیکل کے شیشے صاف کرتا۔
تفریح کے وقت ماسٹر جی اکیلے ہی بیٹھے رہے۔ آج ان کے پاس کوئی بھی سلیٹ، سلیٹی پکڑے نہیں بیٹھا تھا۔ میرا بڑا دل چاہاکہ وہ مجھے بلا کر پاس بٹھا لیں لیکن وہ آنکھوں کی جھیل سے کپڑا بھگوئے شیشے رگڑ رہے تھے۔
گرائونڈ میں گیا ،تو ایک لڑکا مجھے دیکھتے ہی اونچی آواز میں بولا۔
گلزار ہے…
لیکن ماسٹر جی کے ڈر سے کسی نے اس کا نعرہ مکمل نہ کیا۔
میرا دل چاہتا تھا کہ یہ نعرہ پورا سنوں، دونی کا پہاڑا پھر شروع ہوجائے۔ لیکن کوئی نہیں بولا۔
اگلی صبح اسکول جانے کے لیے نکلا،تو خالہ زبیدہ کا دروازہ بند تھا، ماسٹر جی بھی دور دور تک نہیں تھے، پاس ہی شہتوت کی ایک سوکھی ٹہنی پڑی تھی۔ مجھے لگا جیسے میں بھی کسی درخت کی سوکھی ٹہنی ہوں، بے کار، فضول، صرف ایندھن۔ پھر ٹہنی اٹھائی اور مٹی پہ لکیر بناتا چل دیا۔
نکڑ پہ توند والا رحیما کھڑا تھا، شاید اسے مجھ سے یازیدی سے کوئی بیر تھا، دیکھتے ہی گردن ٹیڑھی کرتے ہوئے بولا۔ لے جائیں گے آج تیری ببلی کو بچالے اسے ورنہ اکیلا رہ جائے گا۔ میں نے پاس پڑا پتھر اٹھانا چاہا لیکن چاہتے ہوئے بھی نہ اٹھا سکا۔ میں بڑے غصے سے اسے دیکھتے ہوئے چل رہا تھا کہ اچانک کسی بدبو کے پہاڑ سے ٹکرا گیا، جیسے کوڑے کے ڈھیر میں سر آگیا ہو۔ وہ چندا تھی، تالی بجاتے ہوئے کہنے لگی اندھے ہو اور اس کے سارے چیلے کچھ بڑبڑانے لگے، میں منہ اُٹھائے اسے دیکھتا رہا، اس نے سوکھی ٹہنی میرے ہاتھ سے چھینی اور ایک طرف دھکا دے کے چل پڑی۔
گلزار ہے…ہیجڑے کا یار ہے
اسکول پہنچتے ہی دونوں طرف لڑکوں کی قطار بن گئی۔ جیسے میرا استقبال ہورہا ہو، جیسے سب مجھ پہ پھول پھینک رہے ہوں۔ دونی کا پہاڑا شروع ہوگیا اورمیں قمیص کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے، گردن جھکائے کمرے تک پہنچ گیا۔
پتا نہیں کب ماسٹر جی آئے۔
گلزار آج پیچھے کیوں بیٹھے ہو؟
میں نے بڑی حیرانی سے اِدھر اُدھر دیکھا۔میں سب سے پیچھے دیوار سے لگا بیٹھا تھا۔
اپنی جگہ پہ آئو۔ ماسٹر جی نے رومال سے عینک رگڑتے ہوئے کہا۔
میں زیدی کی جگہ چھوڑ کر بیٹھ گیا۔
پھر ماسٹر جی جھیل کنارے بیٹھ گئے اور میں بھیگے صفحے بدلتا رہا، ماسٹر جی شیشے رگڑتے اور مجھے کوئی دیکھتا، تو میں کتاب میں منہ چھپا لیتا۔
تفریح ہوئی،تو میں نان ٹکی والے جھونپڑے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
اندر کوئی بات ہورہی تھی۔
شروع ہی سے ایسے ہورہا ہے، وہ ہیجڑے کو لے جاتے ہیں۔ نہیں چھوڑتے۔
دوسرا شخص بولا۔ تو جس ماں نے جنا، پالا پوسا ہے اس کا کوئی حق نہیں؟
کیا کرے گی وہ گھر میں رکھ کے، ناچنا توسکھا نہیں سکتی، کب تک رکھے گی وہ سوکھی ٹہنی۔
پھر دوسرا بولا۔ لیکن یار انھیں پتا کیسے چلا کہ ان جیسا یہاں بھی رہتا ہے۔
اس کی بہنوں کی شادی تھی نا، اور یہ لوگ بھی آئے تھے، بس دیکھ لیا انھوں نے۔ یہ پہچان لیتے ہیں اپنی برادری کو دور ہی سے ۔
ویسے بڑا ظلم کیا چودھری نے، اپنا ہی بھتیجا ہیجڑوں کو دے دیا۔ چچا زندہ ہوتا، تو کسی کو جرأت نہیں ہونی تھی اس گھر کی طرف آنکھ بھی اٹھانے کی۔ ماں بچاری روتی رہ گئی اور سارے محلے کی عورتیں ایسے رو رہی تھیں جیسے کسی نے ان کا اپنا بیٹا چھین لیا ہو اور زیدی تو بے ہوش ہی ہوگیا تھا۔
میں کتاب میں منہ چھپائے کلاس کی طرف چلا آیا اور ماسٹر جی کے پاس جھیل کنارے بیٹھ گیا۔
کیا کوئی ناچنے کے لیے بھی دنیا میں آتا ہے، یہ کیا بات ہوئی کہ ساری عمر ناچتے ہی رہو۔ شاید یہاں ہر کوئی ناچ رہا ہے، کوئی پیسے کے لیے، کوئی شہرت کے لیے، کوئی نام بنانے کے لیے، کوئی نوکری کے لیے، کوئی ترقی کے لیے اور جسے سب کچھ مل گیا وہ خوشی ہی سے ناچے جا رہا ہے۔ بس طریقے جدا جدا ہیں اور بدنام گھنگھرو والے۔
خالہ زبیدہ کو تیز بخار تھا۔ ماسٹر جی، حکیم صاحب کو لے آئے۔ آج حکیم صاحب کی آنکھیں سرخ اور سوجی ہوئیں تھیں۔ جیسے خوب روئے ہوں۔ آج ماسٹر جی اندر آگئے۔ گیلا رومال آنکھوں کی آبشار روکنے کی کوشش میں تھا لیکن جو پانی دل میں بنے دکھوں کے ذخیرے سے آتا ہو اسے کپڑے کا ٹکڑا کیسے روک سکتا ہے۔
گلزار بیٹا یہ تین پُڑیاں دو دو گھنٹے بعد کھلا دینا اور پانی کی پٹیاں کرتے رہنا۔ یہ کہتے کہتے رومال حکیم صاحب کی آنکھوں تک چلا گیا۔ خالہ زبیدہ کا ماتھا آگ کی طرح تپ رہا تھا۔ آنکھیں انگاروں کی طرح سرخ۔ کھدر کی ٹھنڈی پٹی، آگ میں پڑے لوہے کی طرح گرم ہوجاتی۔ میں پٹیاں بدلتا رہا لیکن آگ بڑھتی گئی۔
مجھے ایسے لگا جیسے خالہ زبیدہ ہی میری ماں ہے اور میں شروع سے چوبارے میں رہتا ہوں اور ٹھنڈی پٹیاں کرنا میرا ہی کام ہے۔
وہ کچھ بول رہی تھیں۔
ظالموں کو خود ہی میرا اللہ پوچھے گا۔ ماں کو بیٹے سے جدا کردیا۔ کیسے رہے گا وہ میرے بغیر۔پتا نہیں کچھ کھایا بھی ہوگا اس نے۔ پتا نہیں سویا بھی ہوگا کہ نہیں۔
تو کیوں روتا ہے گلزار! انھوں نے ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی۔
میں نے بازو سے اپنے آنسو صاف کیے اور ہاتھوں سے بہتی آبشار روکنے لگا۔ گرم پانی، اُبلتا ہوا۔ وہ کہتا تھا ماں میں تجھے حج کرائوں گا۔ کہتا تھا جب پڑھ لکھ کہ بڑا افسر بن جائوں گا ،تو شہر میں کوٹھی ہوگی اپنی۔ شہر کی طرح اپنے گائوں کی گلیاں بھی پکی کرا دوں گا۔ ماں کتنا کیچڑ ہوتا ہے نابرسات میں۔ گاڑی میں گھومیں گے اور بہنوں کے پاس بھی اپنی گاڑی پہ جائیں گے۔ گلزار بڑی مشکل سے گاڑی چلانا سیکھے گا۔ کہتا تھاماں مجھے یہ ستارے ہلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اپنے جہاز پہ جائوں گا انھیں دیکھنے۔ وہ آنسوئوں میں بھیگے الفاظ کہتی گئیں۔
کیوں روتا ہے گلزار۔ کانپتے ہوئے گرم ہاتھ میرے آنسو صاف کرنے لگے۔
ٹھنڈی پٹیوں سے دل کے پھوڑے پہ کوئی اثر نہ ہوا۔ غم کی تپش برف سے کم نہ ہوئی۔ کہنے لگیں سو جائو بیٹا کچھ نہیں ہوتا۔
ساری رات کروٹیں بدلتا رہا۔ اذان کے ساتھ اٹھتے ہی میں نے خالہ کے ماتھے پہ ہاتھ رکھا۔ برف کی طرح ٹھنڈا۔ بخار چلا گیا، لیکن جاتے جاتے سانس بھی ساتھ لے گیا تھا۔ میں نے ہاتھوں سے ان کی آنکھیں بند کیں اور اپنی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑیاں پھوٹ پڑیں۔ اب کوئی گرم ہاتھ آنسو صاف کرنے نہ آیا۔ ایسے محسوس ہوا جیسے خالہ زبیدہ نہیں بلکہ میری ماں ہی دنیا چھوڑ گئی۔
ماں اپنے بیٹے سے ایک رات بھی جدا نہ رہ سکی۔ میں نے چوبارے سے ماں کو بلانا چاہا، منہ سے صرف یہی نکلا ماں! اور میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اونچی آواز میں۔ جیسے ابا نے بانس پکڑا ہو اور میں بچنے کے لیے آہ وبکا کررہا ہوں۔ پھر پوری گلی میں بین شروع ہوگیا۔
امتحان نزدیک تھے اب سارا دن اسکول میں گزر جاتا۔ آتے ہوئے شام ہوجاتی اور ماں کھانا کھلا کر سلا دیتی ۔ پرچے ہوئے اور اکتیس مارچ بھی آگئی۔ اس دن میں اور زیدی عید کے کپڑے پہن کر گھر سے نکلتے، بھاگتے، رکتے، چلتے، گردن میں بانہیں ڈالے اسکول پہنچ جاتے۔ لیکن اس بار میں اور شہتوت کی سوکھی ٹہنی، مٹی پہ لکیر بناتے اسکول پہنچ گئے۔
مجھے پہلا اِنعام دیتے ہوئے ماسٹر جی کے ہاتھ کانپے اور پھر وہ عینک رگڑنے لگے، لیکن کانپتے ہاتھ عینک نہ سنبھال سکے اور وہ گرِ کر ریزہ ریزہ ہو گئی۔ بالکل ان کے دل کی طرح۔
میرا بڑا دل کرتا تھا کہ پہلے نمبر پر آئوں لیکن آج مجھے کوئی خوشی نہ ہوئی۔ ہر سال دوسرا اِنعام ملتا،تو اسکول ہی میں کھول لیتا لیکن اس بار چمکتے کاغذ کو ہاتھ لگانے کو بھی دل نہ کیا۔ ماسٹر جی کی عینک ٹوٹ گئی تھی۔ انھوں نے ایک ہاتھ میں سوکھی ٹہنی پکڑی اور دوسرا ہاتھ مجھے دیا۔ وہ بار بار رُک کر اپنی جھیل جیسی آنکھوں میں رومال بھگوتے لیکن عینک رگڑ کے ڈر سے ٹوٹ چکی تھی۔ رکنے سے ٹہنی کی لکیر ٹوٹ جاتی، تب ان کی باتیں دل کی لکیر جوڑنے کی کوشش کرتیں۔ رومال بھگوتے ہوئے کہنے لگتے، اگر کسی میں خامی ہو تو اسے گندگی کے ڈھیر پہ پھینک دیتے ہیں! اگر اس میں کوئی کمی تھی تو اللہ نے خوبیاں بھی بے شمار رکھی تھیں، کیوں ہم اسے وہاں پہنچنے سے روک نہ سکے؟ اتنے قابل بچے کبھی کبھی پیدا ہوتے ہیں۔ وہ پڑھ لکھ کے دنیا کا قابل ترین انسان بن سکتا تھا، لیکن ہم نے اسے آگ میں جھونک دیا۔ کیوں نہیں ہم اس قابل ہوئے کہ اسے لے آئیں پھر کتابوں والی، خوشیوں والی، اپنوں والی زندگی میں۔
میرا بڑا دل کرتا تھا کہ زیدی کی طرح کبھی میں بھی ماسٹر جی کی انگلی پکڑ کے جائوں لیکن آج میں دور بھاگنا چاہتا تھا، بہت دور۔
ماسٹر جی کو گھر چھوڑ کر میں سیدھا چندا کے گھر کی طرف چل دیا۔ وہ جوہڑ کے پاس تھا، گائوں کے باہر۔ چندا مجھے اندر ہی لے گئی، صحن میں کھڑے ہو کر اس نے آواز دی۔ ببلی۔ دیکھ باہر کون آیا ہے اس کے منہ سے زیدی کا اُلٹا نام سن کے میں پتھر ڈھونڈ رہا تھا کہ زیدی مجھے کھینچ کر باہر لے آیا۔ کیوں آیا یہاں، گندی جگہ ہے یہ۔ اور وہ رونے لگا۔
میں نے چمکتے کاغذ میں بند پہلا انعام اسے تھما یا اور چپکے سے واپس چل دیا۔
گلزار رُک۔ ایک مانوس سی آواز آئی۔
وہ سرخ امرود کی ٹوکری پکڑا کر کہنے لگا۔ جاتے جاتے ہی کھا لینا۔
سرخ امرود صرف چندا کے گھر ہی لگتے تھے، گائوں میں کوئی نہیں کھاتا تھا۔ لوگ کہتے تھے جس نے چندا کے سرخ امرود کھالیے وہ نامکمل ہوجائے گا۔ اس کے امرود فقیر کھاتے تھے یا اجنبی۔ گائوں پہنچا تو چوپال کے آگے رحیما بیٹھا تھا۔ وہ بولے بنا نہ رہ سکا۔
لے آیا اپنی ببلی کے امرود۔ اس نے آنکھ مارتے ہوئے کہا۔
میں نے ایک امرود پکڑ کر پورے زور سے مارا۔ وہ آنکھ پکڑ کے بیٹھ گیا۔ آج نہ میں بھاگا اور نہ اس نے کسی کو پکڑا۔
چوبارہ خالی ہوگیا۔ ابا نے بانس نکالنا چھوڑ دیا۔ زیدی کی سائیکل ہمارے جامن کے نیچے کھڑی تھی، زنگ آلود، مٹی سے بھری۔ جب کبھی ماںاسے اِدھر اُدھر کرتی وہ چیخنے لگتی، کراہتے ہوئے بیمار کی طرح۔ شاید بچھڑے ہوئے اپنوں کی یاد میں۔
ماسٹر جی دیر سے اسکول آنے لگے، دونی کے پہاڑے کے بعد۔ عینک رگڑنے سے دھیان ہٹتا،تو کبھی کبھی مجھے اگلی صف میں بیٹھنے کا کہہ دیتے۔ عینک ریزہ ریزہ ہوتی ہی رہتی، پھر میں اور شہتوت کی سوکھی ٹہنی ماسٹر جی کو پکڑے گھر چھوڑ آتے۔ جہاں ٹہنی کی لکیر ٹوٹتی وہاں ماسٹر جی کی باتیں ایک اور لکیر بنا دیتیں۔
ہر اکتیس مارچ کو چمکیلے کاغذ میں لپٹی کوئی چیز زیدی کو مل جاتی اور واپسی پہ میرے ہاتھ میں سرخ امرودں کی ٹوکری ہوتی۔ رحیما چھت سے گر کر اپنی زبان کٹوا بیٹھا تھا، وہ چوپال کے آگے بیٹھا ہوتا۔ جاتے جاتے کچھ امرود میں اس کی جھولی میں ڈال دیتا اور وہ ہر بار کچھ کہنے کی ناکام کوشش کرتا۔
دسویں کے بعد ماسٹر جی شہر جا کر مجھے کالج میں داخل کروا آئے۔ ابا جی ریٹائر ہوگئے لیکن سائیکل کو دوسری سواری مل گئی۔ باپ کے بعد بیٹا۔ یہ ابا کا رازدار تھا سارے راستے مجھے ان کی کہانیاں سناتا اور میں کالج پہنچ جاتا۔ کالج میں کوئی دونی کے پہاڑے والا نہ تھا، لیکن مجھے ایسا ہی لگتا جیسے یہاں سب مجھے جانتے ہیں۔ سب سے پچھلی کرسی میری ہوتی، چاہے سارا کمرا خالی ہو۔
شاید میں صرف زیدی ہی کو دوست بناناجانتا تھا یا زیدی نے مجھے دوست بنایا تھا، اس کے بعد میرا کوئی دوست نہ بنا۔ چار سال پچھلی کرسی ہی پہ گزر گئے۔ ایم -اے میں تو لڑکیاں بھی ساتھ آگئیں۔ پھر ساری جماعت دو، دو ہوگئی لیکن میں پھر بھی اکیلا ہی رہا۔
گائوں کے اسکول میں ہیڈ ماسٹر بن کر گیا،تو پہلے دن مجھے اسمبلی میں اِسٹیج پر بلایا گیا۔ سامنے بچوں کی قطاریں تھیں اور چاروں طرف خزاں رسیدہ درخت۔ میرے ہاتھ میں عینک تھی جو آنکھوں کی جھیل میں بھیگے رومال سے رگڑ کھارہی تھی، پھر وہ میرے پائوں پڑی اور ریزہ ریزہ ہوگئی۔ کسی نے شہتوت کی سوکھی ٹہنی میرے ہاتھ میں دی اور میں مٹی پہ لکیر بناتا دفتر پہنچ گیا۔ اسی طرح ایک دن میں گھر پہنچا،تو ماں نے میرا ہاتھ کسی کے آگے کردیا، انگوٹھی نے مجھے جکڑ لیا، ماں کو مبارک، خیر مبارک ہونے لگی۔
کئی سال بعد بھی میں گھر سے نکلتا ،تو زبیدہ خالہ کے گھر کی طرف نگاہ ضرور جاتی، لیکن اب زیدی نہ نکلتا۔ وہاں چودھری بیٹھا دونوں ہاتھ سر پہ رکھے دیمک زدہ دروازے کو دیکھتا رہتا۔ لوگ کہتے تھے جوان بیٹے کی موت نے اسے پاگل کر دیاہے۔
چوبارہ تب سے خالی پڑا تھا، لوگ جھگی میں رہنا منظور کرلیتے تھے لیکن چوبارے میں کوئی رات بھی گزارنے کو تیار نہ تھا۔ کسی نے مشہور کردیا تھا، جو یہاں رہے گا اس کی اولاد نامکمل ہوگی۔ جیسے زیدی۔
برسات کے دن تھے۔ بارش جم کے برس رہی تھی، شاید گائوں سے برسوں پرانا کوئی انتقام لینے آئی ہو۔ میں گلی میں بکھری اپنی دیوار کی اینٹیں اکٹھی کررہا تھا کہ گائوں کا پٹواری آگیا۔ اس نے چمکیلے کاغذ میں لپٹی کوئی چیز دی اور چلا گیا۔ یہ چوبارے کی رجسٹری تھی اور ساتھ ایک صفحے پر یہ الفاظ۔
گلزار! ماں تجھے بھی اپنا بیٹا سمجھتی تھی۔ اگر ایک بیٹا وہاں رہنے کے قابل نہیں،تو دوسرا تو ہے نا۔ ماں کا گھر اجڑنے نہ دینا۔ مجھے پتا ہے تیری دیوار گر گئی ہے اور مکان کی حالت بھی نازک ہے۔ تیز بارشوں میں کچے مکان سے یونہی ہوتا ہے۔ اگر تو مجھے اپنا بھائی نہیں تو دوست ہی سمجھ لے اور آج ہی سامان اٹھا کہ چوبارے میں چلاجا۔
چوبارے کا دروازہ کھلتے ہی چودھری چیخنے لگا۔ وہ کیچڑ میں لتھڑا ہوا بھاگا اور بکھری اینٹوں میں گر گیا۔
چوبارہ بالکل ویسا ہی تھا، ایسے جیسے یہاں سے ابھی ابھی کوئی گیا ہو۔ یہاں باہر کی برسات کا کوئی ڈر نہیں تھا، لیکن اندر کی برسات رکنے کا نام نہ لیتی۔ کئی بار میری بیوی پوچھتی کہ آپ رو کیوں رہے ہیں۔ پھر میں بہتے آنسو روکنے کی کوشش کرتا۔ عینک رگڑ کے ڈر سے گرتی اور ریزہ ریزہ ہوجاتی۔
ایک دن میں اسکول سے آیا،تو ماں نے سینے سے لگا لیا۔ تو باپ بنا ہے۔ ماں نے گول مٹول، سرخ رخساروں والا نرم و نازک سا احساس میری بانہوں میں بھر دیا۔ وہ بالکل اس کی طرح تھا، آنکھیں چھلک پڑیں اور اچانک منہ سے نکلا۔ زیدی۔ اور میں نے اسے چوم لیا۔
دروازے پہ گھنگھروئوں کی چھن چھن اور تالیوں کی گونج کا شور اُٹھا۔ پھر دروازہ کھلا کوئی پہچانا سا چہرہ تھا لیکن بدلا ہوا، آنکھوں کی جھیل بھر گئی، عینک کے شیشے رگڑ کے ڈر سے گرے اور شکستہ دل کی طرح بکھر گئے۔ زبان کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن ہونٹ سل گئے۔ میں اس کی بانہوں میں بانہیں ڈالنا چاہتا تھا لیکن اٹھے ہوئے ہاتھ آنکھوں پہ جا ٹھہرے، آگے بڑھنا چاہتا تھا مگر چلتے قدم رُک گئے۔ لیکن بہتے آنسو نہ رُکے۔

ڈیزائن غزل سایئڈ سٹریچ افیکٹ : اے لڑکی سنو

ڈیزائن غزل سایئڈ سٹریچ افیکٹ : اے لڑکی سنو

ڈیزائن غزل سایئڈ سٹریچ افیکٹ : اے لڑکی سنو
http://oi59.tinypic.com/j81e2o.jpg
[​IMG]
http://oi60.tinypic.com/2urm1ea.jpg
[​IMG]

ڈیزائن شاعری : دن بھر سناٹا

ڈیزائن شاعری : دن بھر سناٹا

رات کو نغمہ و گریہ زاری ورنہ دن بھر سناٹا
کس نے شور بھرا ہے باہر روھ کے اندر سناٹا
[​IMG]

کوئی چہرہ کنول نہیں ہوگا۔پیشکش و ڈیزایئننگ زاہد حسین

کوئی چہرہ کنول نہیں ہوگا۔پیشکش و ڈیزایئننگ زاہد حسین

کوئی چہرہ کنول نہیں ہوگا۔پیشکش و ڈیزایئننگ زاہد حسین
[​IMG]

Barley and Sattu Drink جَو اور ستو کا شربت

Barley and Sattu Drink جَو اور ستو کا شربت

Barley and Sattu Drink جَو اور ستو کا شربت

Barley does not only a make a great nutritious cereal, its drink prove highly beneficial in summer season too. A light barley drink goes a long way.

Source: Waqas Khan

  • جَو اور جَو کا پانی طب اسلامی میں مریضوں کے لیے بہترین غذا اور دوا تصور کی جاتی ہے۔ گرمی کی حدت کم کرنے میں یہ مشروب بے مثال ہے جو فوری اثر کر کے طبیعت کو ہشاش بشاش کردیتا ہے جو کے پانی میں شہد ڈال کر پینا ہائی بلڈپریشر سمیت دل کے امراض کا شافی علاج ہے۔ خون میں چربی کی زیادتی اور گاڑھا پن جو کے استعمال سے ختم ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خون میں شکر اور چربی کی مقدار کو متوازن اور منظم رکھتا ہے۔ یہ پیٹ کے جُملہ امراض میں انتہائی مُفید ہے خاص طور پر معدے کی تیزابیت اور بھوک کی کمی کے لیے مجرب ہے۔ گردوں کی سوزش میں یہ شربت کسی بھی دوا سے زیادہ مفید اور موثر ہے۔ اس کے استعمال سے پُرسکون اور گہری نیند آتی ہے۔ یہ دماغی کام کرنے والوں اور بچوں کے لیے بہترین ٹانک ہے، ڈبے کا دودھ پینے والے بچوں کو اگر دودھ میں جو کا پانی ملا کر دیا جائے تو ان کی آنتیں زیادہ تنومند رہتی ہیں اور پیٹ خراب نہیں ہوتا۔ اطباء کے مطابق جَو کا پانی تقریباً سو بیماریوں میں مُفید ہے۔ اسے شہد مِلائے بغیر استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن اگر شہد کا اضافہ کرلیا جائے تو اس کے فوائد سہ گنا ہو جاتے ہیں۔

  • دن بھر کے روزے کی کمزوری رفع کرنے کے لیے افطاری میں ستو مرغوب غذا ہے۔ شہد کے شربت میں دو چمچ ستو ملا کر پینے سے کھوئی ہوئی توانائی فوراً بحال ہوجاتی ہے۔ ستو دستیاب نہ ہوں تو جَو کے آٹے کو ہلکی آنچ پر بھون کر ستو تیار کیے جاسکتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں یہ مشروب راحت کا باعث ہے۔ مغربی ممالک میں ہرے جَو سُکھا کر پاؤڈر تیار کیا جاتا ہے جسے (Green Barley Powder) کا نام دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق “جَو” دنیا کی واحد غذا ہے جس میں غذائیت سب سے زیادہ ہے۔

  • Barley and barley drink is considered to be a highly efficient food and medicine in Islamic medicines. Barley drink has no comparison when it comes to cooling down the body in blazing hot summer. It quickly refreshes and energizes. Drinking barley drink with honey controls blood pressure and heart diseases. Barley drink reduces the blood cholesterol level and thins blood. Experts states that barley balances the sugar and fats level in blood. Barley is also a good remedy for stomach acidity and it promotes hunger. Barley is a great remedy for kidney problems. Barley also promotes peaceful and deep sleep. Barley is a great tonic for people and children who has more brain work to do. If you mix a bit of barley drink in milk of children who drink tetra pack milk, their intestines stays stronger and it wont allow an upset stomach. According to experts, barley drink is a single cure for 100 diseases. It can be consumed without honey. But if you add honey to it, there will be a 100 % improvement in results. Important Note: The articles presented are provided by third party authors and do not necessarily reflect the views or opinions of KhanaPakana.com. They should not be construed as medical advice or diagnosis. Consult with your physician prior to following any suggestions provided.
  • Sattu is great to feel energized at iftar time in Ramadan. Drink honey drink with 2 tsp sattu to bring back that energy. If sattu is unavailable, then lightly toast barley flour on low flame to make it at home. Sattu drink is a great refreshment in summer season. In western countries, large barley is dried and milled to make “Green Barley Powder”. According to them, barley is the only food that has maximum amount of nutrient.