اجنبی ستمگر

اجنبی ستمگر

اجنبی ستمگر
تجھ بِن نہیں کٹتی مِری یہ رات ستِمگَر
بَس میں نہِیں اب دِل سِتَمگر
وہ ملتا ھے اب اجنبی بن کے مجھ سے
کیوں اپنا رھا ھےوہ عادات ستمگر

 

شاعر سر علامہ محمد اقبال-تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم

شاعر سر علامہ محمد اقبال-تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم

شاعر سر علامہ محمد اقبال
تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم
گزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوب کلیم
عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے
عشق بیچارہ نہ ملا ہے، نہ زاہد نہ حکیم
عیش منزل ہے غریبان محبت پہ حرام
سب مسافر ہیں بظاہر نظر آتے ہیں مقیم
ہے گراں سیر غم راحلہ و زاد سے تو
کوہ و دریا سے گزر سکتے ہیں مانند نسیم
مرد درویش کا سرمایہ ہے آزادی و مرگ
ہے کسی اور کی خاطر یہ نصاب زر و سیم

تیری اِک نگاہ پیار کی

تیری اِک نگاہ پیار کی

تیری اِک نگاہ پیار کی
تیرا لمس وہ پیار بھرا
مجھےکِس جہاںمیں لے گیا
میں بکھر گئی ہوا کے سنگ
یوں نکھر گئے پیار کے رنگ
میری سانس سانس مہک گئی
میں جان گئی میں مان گئی کہ اب تلک
مجھے تیری دِید کی پیاس تھی
مجھے تیرے مِلن کی آس تھی
فقط اِک نگاہ پیار کی
مجھے کائنات بخش گئی

شاعر ناصر کاظمی:وہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیں

شاعر ناصر کاظمی:وہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیں

شاعر ناصر کاظمی
وہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
مرا علاج میرے چارہ گر کے پاس نہیں
تڑپ رہے ہیں زباں پر کئی سوال مگر
میرے لیے کوئی شایانِ التماس نہیں
تیرے جلو میں بھی دل کانپ کانپ اٹھتا ہے
میرے مزاج کو آسودگی بھی راس نہیں
کبھی کبھی جو تیری قرب میں گزارے تھے
اب ان دنوں کا تصور بھی میرے پاس نہیں
گزر رہے ہیں عجب مرحلوں سے دیدہ دل
سحر کی آس تو ہے زندگی کی آس نہیں
مجھے یہ ڈر ہے تیری آرزو نہ مٹ جائے
بہت دنوں سے طبیعت میری اداس نہیں
https://sta.sh/015w6eag5bbg

Wo Dilnawaz Hey by UrduLover

اے بادِ صبا۔۔وہ جو بہت دُور بستے ہیں۔

اے بادِ صبا۔۔وہ جو بہت دُور بستے ہیں۔

اے بادِ صبا۔۔وہ جو بہت دُور بستے ہیں۔۔
مگر حقیقت میں اس دل میں رہتے ہیں
اُسے بہت پیار سے میرا پیام دینا
میری محبت اور جذبات کا۔۔۔۔
میرے ادھورے پَن کا اس کو یقین دِلانا
کہ وہ تم بِن تنہا تو نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن ادھوری ضرور ہے۔۔۔۔۔۔۔
https://sta.sh/02f1tssd7zrr

Piyam by Baab-Ul-Islam

دل میں سب کا ارمان نہیں ہوتا

دل میں سب کا ارمان نہیں ہوتا

دل میں سب کا ارمان نہیں ہوتا
ہر کوئی دل کا مہمان نہیں ہوتا
پر جو اِک بار دل میں سما جائے
اُسے بُھلا کر جینا آسان نہیں ہوتا

2204 by Baab-Ul-Islam

وفا میری

وفا میری

وفا میری
جفا کو اپنی کبھی جو لکھنا
تو قصہ تمام لکھنا
گُلاب شاخوں سے جب ادھورے سے پھول چننا
جو دھڑکنوں میں صدا کوئی بھی۔کبھی جو سننا
تو یاد کرنا۔۔۔
کبھی دسمبر کی سرد راتوں میں سوچنا تم
میں یاد کرتی ہوں تم کو ہر پل
زید مجھے بھی بُھولے سے یاد کرنا

 

شاعر امجد اسلام امجد:اُلجھن تمام عُمر یہ تارِ نفس میں تھی

شاعر امجد اسلام امجد:اُلجھن تمام عُمر یہ تارِ نفس میں تھی

اُلجھن تمام عُمر یہ تارِ نفس میں تھی
دِل کی مُراد عاشقی میں یا ہوس میں تھی
دَر تھا کُھلا، پہ بیٹھے رہے پَر سمیٹ کر
کرتے بھی کیا کہ جائے اماں ہی قفس میں تھی
سَکتے میں سب چراغ تھے’ تارے تھے دم بخُود
مَیں اُس کے اختیار میں’ وہ میرے بس میں تھی
اَب کے بھی ہے ‘ جمی ہُوئی، آنکھوں کے سامنے
خوابوں کی ایک دُھند جو پچھلے برس میں تھی
کل شب تو اُس کی بزم میں ایسے لگا مجھے
جیسے کہ کائنات مِری دسترس میں تھی
محفل میں آسمان کی بولے کہ چُپ رہے
امجد سدا زمین اسی پیش و پس میں ت

شاعر امجد اسلام امجد