شاعر حیدر علی آتش.یہ آرزو تھی تجھے گل کے رُوبرو کرتے

شاعر حیدر علی آتش.یہ آرزو تھی تجھے گل کے رُوبرو کرتے

شاعر حیدر علی آتش
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رُوبرو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
پیام بَر نہ میّسر ہوا، تو خوب ہوا
زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے
میری طرح سے مَہ و مِہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے
جو دیکھتے تیری زنجیر زلف کا عالَم
اسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے
نہ پوچھ عالمِ برگشتہ طالعی آتش
برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے

 

 

 

Advertisements
اقوالِ زریں۔آرزو نصف زندگی ہے

اقوالِ زریں۔آرزو نصف زندگی ہے

آرزو نصف زندگی ہے
اور بے حسی نصف موت
خاموشی دانا کا زیور
اور احمق کا بھرم ہے
دعا سے دوری انسان کو
دوا کے قریب لیجاتی ہے
UrduLover PakArt

اقوال زریں۔جو لوگ میانہ روی اختیار کرتے ہیں

اقوال زریں۔جو لوگ میانہ روی اختیار کرتے ہیں

“جو لوگ میانہ روی اختیار کرتے ہیں، کسی کے محتاج نہیں ہوتے۔”

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم)

 

شاعر: مفتی اختر رضا خان قادری-نور ہی نور ہے ضیاء ہی ہے

شاعر: مفتی اختر رضا خان قادری-نور ہی نور ہے ضیاء ہی ہے

https://orig00.deviantart.net/…/noor_hi_noor_hey_by_urdulov…
شاعر: مفتی اختر رضا خان قادری
نور ہی نور ہے ضیاء ہی ہے
تخت زریں ہے نہ تاج شاہی ہے
کیا فقیرانہ بادشاہی ہے
فقیر پر شان یہ کہ زیرنگیں
ماہ سے لے کے تابماہی ہے
روئے انور کے سامنے سورج
جیسے اک شمع صبح گاہی ہے
سایۂ ذات کیوں نظر آئے
نور ہی نور ہے ضیا ہی ہے
رِیت آقا کی چھوڑ دی ہم نے
اپنی مہمان اب تباہی ہے
اک نگاہ کرم سے مٹ جائے
دل پہ اخؔتر کے جو سیاہی ہے

 

 

ہم خاک ہیں اور خاک

ہم خاک ہیں اور خاک

ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا خاکی تو وہ آدم جَدِ اعلیٰ ہے
ہمارا اللہ ہمیں خاک کرے اپنی طلب میں یہ خاک تو سرکار سے تمغا ہے
ہمارا جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سیّدِ عالم اُس خاک پہ قرباں دلِ شیدا ہے
ہمارا خم ہوگئی پشتِ فلک اِس طعنِ زمیں سے سُن ہم پہ مدینہ ہے وہ رتبہ ہے
ہمارا اُس نے لقبِ ’’خاک‘‘ شہنشاہ سے پایا جو حیدرِ کرّار کہ مولا ہے
ہمارا اے مدّعیو! خاک کو تم خاک نہ سمجھے اِس خاک میں مدفوں شہِ بطحا ہے
ہمارا ہے خاک سے تعمیرِ مزارِ شہِ کونین معمور اِسی خاک سے قبلہ ہے
ہمارا ہم خاک اڑائیں گے جو وہ خاک نہ پائی آباد رؔضا جس پہ مدینہ ہے ہمارا
View in zoom action

خودی کیا ہے راز دورنِ حیات.

خودی کیا ہے راز دورنِ حیات.

خودی کیا ہے راز دورنِ حیات
خودی کیا ہے بیدارئی کائنات
ازل اس کے پیچھے ابد سامنے
نہ حداس کے پیچھے نہ حد سامنے
زمانے کی دھارے میں بہتی ہوئی
ستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئی
ازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیر
ہوئی خاک ِ آدم میں صورت پزیر
خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے
فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے

 

جس کی ماں فاطمہ جس کا نانا نبیﷺ

جس کی ماں فاطمہ جس کا نانا نبیﷺ

جس کی ماں فاطمہ جس کا نانا نبیﷺ
اس حسین ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام