Image

Ajj Aghir Humari soch Azaad hey

Advertisements
Image

کربلا سے یہی آوازِ حسین

kurbala se yehi awaaz Hussain Ati hey by UrduLover

تم نہ مانو، مگر حقیقت ہے

تم نہ مانو، مگر حقیقت ہے

تم نہ مانو، مگر حقیقت ہے
عشق انسان کی ضرورت ہے
کچھ تو دل مبتلائے وحشت ہے
کچھ تری یاد بھی قیامت ہے
میرے محبوب مجھ سے جھوٹ نہ بول
جھوٹ صورت گر صداقت ہے
جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو میری ضرورت ہے
حسن ہی حسن جلوے ہی جلوے
صرف احساس کی ضرورت ہے
ان کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا
اب در و بام سے ندامت ہے
اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو
زندگی کتنی خوبصورت ہے
راستہ کٹ ہی جائے گا قابل
شوقِ منزل اگر سلامت ہے
(قابل اجمیری)

 

شاعر خمار بارہ بنکوی.بیتے دنوں کی یاد بھلائے نہیں بنے

شاعر خمار بارہ بنکوی.بیتے دنوں کی یاد بھلائے نہیں بنے

Beete dinon ki yad by UrduLover
شاعر خمار بارہ بنکوی
بیتے دنوں کی یاد بھلائے نہیں بنے
یہ آخری چراغ بجھائے نہ بنے
دنیا نے جب مرا نہیں بننے دیا انہیں
پتھر تو بن گئے وہ پرائے نہیں بنے
توبہ کیے زمانہ ہوا، لیکن آج تک
جب شام ہو تو کچھ بھی بنائے نہیں بنے
پردے ہزار خندہ پیہم کے ڈالیے
غم وہ گناہ ہے کہ چھپائے نہیں بنے
یہ نصف شب یہ میکدے کا در یہ محتسب
ٹوکے کوئی تو بات بنائے نہیں بنے
جاتے تو ہیں صنم کدے سے حضرتِ خمار
لیکن خدا کرے کہ بن آئے نہ بنے

اب پر ہيں، نہ قفس، نہ صياد، نہ چمن

اب پر ہيں، نہ قفس، نہ صياد، نہ چمن

Jin pey naz tha0000 by UrduLover

https://orig00.deviantart.net/…/jin_pey_naz_tha0000_by_urdu…

شاعر خالد حفیظ

اب پر ہيں، نہ قفس، نہ صياد، نہ چمن
جتنے تھے زندگی کے سہارے چلے گۓ
جن پہ تھا ناز مجھ کو يہ ميرے دوست ہيں
دامن جھٹک کے ميرا وہ پيارے چلے گۓ
ہر شب کو آنسوؤں کے جلاتے رہے چراغ
ہم تيری بزمِ ياد نکھارے چلے گۓ
لتھڑی ہوئی تھی خون ميں ہر زلفِ آرزو
جوشِ جنوں ميں ہم مگر سنوارے چلے گۓ
ہر زخم دل ميں تيرا سنوارے چلے گۓ
ہم زندگی کا قرض اتارے چلے گۓ
سو بار موت کو بھی بنايا ہے ہمسفر
ہم زندگی کے نقش ابھارے چلے گئے
شاعر خالد حفیظ

اب پر ہيں، نہ قفس، نہ صياد، نہ چمن

اب پر ہيں، نہ قفس، نہ صياد، نہ چمن

شاعر خالد حفیظ

اب پر ہيں، نہ قفس، نہ صياد، نہ چمن

جتنے تھے زندگی کے سہارے چلے گۓ
جن پہ تھا ناز مجھ کو يہ ميرے دوست ہيں
دامن جھٹک کے ميرا وہ پيارے چلے گۓ
ہر شب کو آنسوؤں کے جلاتے رہے چراغ
ہم تيری بزمِ ياد نکھارے چلے گۓ
لتھڑی ہوئی تھی خون ميں ہر زلفِ آرزو
جوشِ جنوں ميں ہم مگر سنوارے چلے گۓ
ہر زخم دل ميں تيرا سنوارے چلے گۓ
ہم زندگی کا قرض اتارے چلے گۓ
سو بار موت کو بھی بنايا ہے ہمسفر
ہم زندگی کے نقش ابھارے چلے گئے