independence-day2

independence-day2

23 مارچ قرارداد پاکستان

23 مارچ قرارداد پاکستان
اقوام عالم کی زندگیوں میں کچھ ایام ، کچھ مہینے اور کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو ان کے لیے انتہائی غیر معمولی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ مارچ کا مہینہ ہماری قومی زندگی میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے- یوں تو مارچ کے مہینے میں کئی اہم واقعات رونما ہوئے لیکن میری نظر میں جو واقعہ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے وہ ہے قرارداد پاکستان- قرارداد پاکستان جسے پہلے قرارداد لاہور کہا جاتا تھا، پاکستان کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے-
یہ قرارداد 23 مارچ 1940 کو پییش کی گئی- اگر اس دن کی بات کی جائے تو اس دن لوگوں میں ایک الگ ہی جوش و ولولہ تھا- ایک جنون تھا جو ان لوگوں کے لہو میں سرائیت کر رہا تھا- ان کی آنکھیں نم تھیں- ان کا اپنے ساتھ میں کھڑے لوگوں کے ساتھ کوئی خونی رشتہ نہیں تھا- لیکن پھر بھی وہ سب ایک ہی احساس دل میں سموئے ہوئے تھے اور وہ احساس تھا ایک الگ مملکت کا، آزادی کی ھوا میں سانس لینے کا، غلامی کی زندگی سے نجات پانے کا – ان سب کے دل متحد تھے اور ان کی زبان ایک ہی نعرہ لگا رہی تھی-
لے کے رہیں گے پاکستان
بنٹ کے رہے گا ہندوستان
ان لوگوں کی کوئی سر زمین نہیں تھی جہاں وہ اپنے عقیدے اور اپنے مذہب کے مطابق آزادی سے زندگی بسر کر سکیں اور ایسی سر زمین کے حصول کی لگن نے انہیں یکجا کردیا تھا- یہ قوم ایک ہی قائد کی سربراہی میں پروان چڑھ رہی تھی- وہ قائد بھی ایسا تھا کہ جو کہتا اسے منوانا بھی جانتا- ایک پکتا لاوا تھا جو پھٹنا چاہتا تھا- یہ دن یہ وقت جسے تمام دنیا نے ایک خواب سے تعبیر میں ڈھلتے دیکھا- وہ دن وہ وقت 23 مارچ 1940 تھا- اس دن کا حال ایسا تھا جیسا ہمارے اسلام نے ہمیں درس دیا ہے- اسلام نے تمام قسم کی فرقہ واریت کو پس پشت ڈال دیا اور رنگ، نسل اور زبان کے فرق کو ختم کردیا- اس دن بھی نہ کوئی سندھی تھا، نہ کوئی پنجابی اور نہ ہی کوئی پٹھان تھا، جب کہ اس جلوس میں بنگالی بھی شامل تھے- وہ سب مسلمان تھے ایک اللہ کو ماننے والے تھے اور اسی کے پیروکار تھے- 23 مارچ 1940 کو لاہور میں مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کو حاصل کرنے کے لئےقرارداد پیش کی گئی اور جسے سب نے متفقہ فیصلے سے قبول کرلیا- اس قرارداد کے ذریعے پہلی مرتبہ یہ واضح کیا گیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، جو ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں- ان کا مذہب، عقیدہ اور رسم و رواج سب مسلمانوں سے الگ ہیں- وہ ایک الگ وطن چاہتے ہیں جہاں وہ کھل کے آزادی کے ساتھ سانس لے سکیں اور اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرکے زندگی گزار سکیں- اس قرارداد میں بہت واضح الفاظ میں یہ کہہ دیا تھا-
“آل انڈیا مسلم لیگ کے اس اجلاس کی یہ متفقہ رائے ہے کہ اس ملک میں اس وقت تک کوئی دستوری خاکہ قابل عمل یا مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہیں ہوگا جب تک کہ وہ درج ذیل اصولوں پر مرتب نہ کرلیا جائے- یعنی جغرافیائی لحاظ سے ملحقہ علاقے الگ خطے بنا دئیے جائیں- اور ان میں جو علاقائی ترمیمیں ضروری سمجھی جائیں، کرلی جائیں تاکہ ہندوستان کے جن علاقوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں انہیں یکجا کرکے آزاد ریاستیں بنا دی جائیں، جو خود مختار اور مقتدر ہوں- “
اس قرارداد کا رد عمل یہ سامنے آیا کہ ہندو زور زور سے دیوانہ وار قہقے لگانے لگے- ہندو پریس نے قرارداد لاہور کو مذاقا قرارداد پاکستان لکھنا شروع کردیا اور یہ اصطلاح مسلمانوں کو اس قدر پسند آئی کہ آج اسے قرارداد پاکستان کے خطاب کے ساتھ تاریخ میں منفرد حیثیت حاصل ہے- یہ واحد قرارداد تھی جو چھ کروڑ مسلمانان ہند کی تھی اور ان کی کوششیش رائیگاں کیسے جاسکتی تھیں-
قرارداد پاکستان قائداعظم اور مسلم لیگ کی اعلیٰ ترین قیادت کی نگرانی میں ڈرافٹ ہوئی، تشکیل پائی اور انہی کی نگرانی میں مسلم لیگ کے اجلاس میں شیر بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کی-پاکستان کے لئے اس قرارداد کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنا کہ کسی بھی بک کو پیش کرنے سے پہلے اس کے ٹائیٹل کور کو اھمیت دی جاتی ہے- سات سال میں یہ لاوا جب پک کر تیار ہوا تو دنیا کے نقشے پر پاکستان ایک علیحدہ اسلامی مملکت کی حیثیت سے ابھرا- لوگ آزادی کی خوشی میں اپنا سب سازو سامان کوڑیوں کے مول بیچ کراپنی جانیں داؤپر لگا کر ٹرینوں میں سوار ہوۓ لٰیکن ہندؤں نے بہت بے رحمی سے مسلمانوں کو قتل کر دیا اورمسلمانوں کی بہت کم تعداد پاکستان کی سر زمین پر پہنچی۔اس وقت ان لوگوں کی خوشی دیکھنے کے قابل تھی کیونکہ وہی لوگ اس خوشی کے اصل معنیٰ کو سمجھتے تھے۔وہ جانتے تھے کے غلامی کی زندگی کسے کہتے ہیں۔ وہ لوگ کبھی یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کے وہ ہندؤسے الگ ہو کے الگ وطن میں آزادی کے ساتھ سانس لے سکیں گے۔آج اس جگہ پر اسکی یاد میں مینار پاکستان تعمیر کیا گیا ہے۔
قیام پاکستان کے بعد قائداعظم نے یہ سوچا ہوگا کہ شاید اب آزادی کی یہ جنگ اختتام پذیر ہو گئی ہے لیکن ہم آج تک آزادی کی جنگ لڑ رہی ہیں اور اب یہ جنگ ایک علیحدہ مملکت کی نہیں بلکہ فرقہ واریت سے نجات کی جنگ ہے- پہلے جو لوگ ایک آزاد مملکت کے حصول کے لئے لڑ رہے تھے، جن کے لئے رنگ، نسل اور زبان کی کوئی اہمیت نہ تھی آج وہی لوگ پاکستان کے قیام کو غلط ٹھرا رہے ہیں- آج ہر شخص الگ الگ فرقوں میں بنٹا ہوا پایا جاتا ہے- آج وہ سب خود کو پاکستانی نہیں بلکہ پنجابی، بلوچی اور پٹھان بلاتے ہیں- آج کے لوگ بھول گئے ہیں کہ کتنی کوششوں، کتنی قربانیوں اور کتنا خون پسینہ بہا کر یہ الگ مملکت حاصل ہوئی- اس آزادی کی خوشی کو وہ لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں جنھوں نے غلامی کی زندگی بسر کی ہے- جہاں اسلامی احکامات پر عمل کرنا تو دور تازہ ہوا میں سانس لینا بھی مشکل تھا- آج کل ہم اپنے ہی بھائیوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور اپنوں کا خون بہا رہے ہیں-
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس رنگ و نسل کے فرق سے بالا تر ہو کر اس عظیم ملک کے بارے میں سوچیں جو ہمارے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے- ہمیں تاریخ اور قرارداد پاکستان سے سبق لینے کی ضرورت ہے کہ کس طرح سے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑا ہوا جاتا ہے،ہمیں چاہئے کہہر رنگ اورنسل کے فرق کو پس پشت ڈال کر ایک ہو جائیں-

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s